أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّيۡثَاقَهُمۡ وَكُفۡرِهِمۡ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَقَتۡلِهِمُ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ وَّقَوۡلِهِمۡ قُلُوۡبُنَا غُلۡفٌ ؕ بَلۡ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيۡهَا بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اللہ کی آیتوں کا کفر کرنے کی وجہ سے اور نبیوں کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (ہم نے ان پر لعنت کی) بلکہ اللہ نے انکے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگائی ہے تو وہ بہت ہی کم ایمان لائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اللہ کی آیتوں کا کفر کرنے کی وجہ سے اور نبیوں کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اور ان کے اس قول کی وجہ سے کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں (ہم نے ان پر لعنت کی) بلکہ اللہ نے انکے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگائی ہے تو وہ بہت ہی کم ایمان لائیں گے۔ (النساء : ١٥٥) 

چار وجوہ سے یہود کا کفر : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے کفر کی چار وجوہ بیان فرمائی ہیں ‘ ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بار بار عہد شکنی کی ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا کفر کیا۔ آیتوں سے مراد معجزات ہیں اور معجزہ کا انکار کرنا نبوت کا انکار ہے اور ایک نبی کا انکار تمام نبیوں کا انکار کیا جائے ‘ اور تیسری وجہ یہ ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کا ناحق قتل کرتے تھے یہاں ناحق کے لفظ کو بطور تاکیدذکر فرمایا ہے ‘ کیونکہ نبی کو قتل کرنا ہو تاہی ناحق ہے ‘ اور چوتھی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں ‘ یعنی ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ‘ اس کی نظیر کافروں کا یہ قول ہے۔ 

(آیت) ” وقالو قلوبنا فی اکنۃ مما تدعوناالیہ وفی اذننا ومن بیننا بینک حجاب “۔ (حم السجدۃ : ٥)

ترجمہ : اور انہوں نے کہا جس چیز کی آپ دعوت دے رہے ہیں اس پر ہمارے دلوں میں پردے پڑے ہوئے ہیں ‘ اور ہمارے کانوں میں بوجھ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان پردہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے ‘ یعنی یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف ہیں اور آپ کی بات ہم تک نہیں پہنچتی ‘ یہ بات نہیں ہے بلکہ تمہارے دل اس قابل نہیں ہیں کہ ہم اپنے معظم رسول کی بات تم تک پہنچنے دیں کیونکہ تم مسلسل کفر اور گستاخیاں کرکے اپنے دلوں کو ارشادات رسول سننے کا نااہل بنا چکے ہو ‘ اس لیے یہ نہ کہو کہ تم نہیں سنتے بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ تم سننے کے اہل نہیں رہے ‘ اس کے بعد فرمایا تو وہ بہت ہی کم ایمان لائیں گے ‘ اس آیت کے تین محمل ہیں ‘ ایک محمل یہ ہے کہ وہ بہت ہی کم چیزوں پر ایمان لائیں گے ‘ یعنی صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان لائیں گے اور باقی نبیوں اور آسمانی کتابوں پر ایمان نہیں لائیں گے لیکن یہ ایمان بھی صرف ان کے زعم میں ہے حقیقت میں ایمان نہیں ہے ‘ کیونکہ ایک نبی کا انکار تمام نبیوں کا انکار ہے ‘ دوسرا محمل یہ ہے کہ وہ بہت ہی کم وقت کے لیے ایمان لائیں گے اور تیسرا محمل یہ ہے کہ ان میں سے بہت ہی کم لوگ ایمان لائیں گے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کی امثال :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 155