اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌۚ-فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَۙ-وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ﳳ-وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘-وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ(۱۹۷)

حج کے کئی مہینے ہیں جانے ہوئے (ف۳۷۳) تو جو ان میں حج کی نیت کرے (ف۳۷۴) تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ نہ کسی سے جھگڑا (ف۳۷۵) حج کے وقت تک اور تم جو بھلائی کرو اللہ اسے جانتا ہے (ف۳۷۶) اور توشہ (سفر کا خرچ)ساتھ لو کہ سب سے بہتر توشہ پرہیزگاری ہے (ف۳۷۷) اور مجھ سے ڈرتے رہو اے عقل والو (ف۳۷۸)

(ف373)

شوال ذوالقعدہ اور دس تاریخیں ذی الحجہ کی حج کے افعال انہی ایام میں درست ہیں۔

مسئلہ : اگر کسی نے ان ایام سے پہلے حج کا احرام باندھا تو جائز ہے لیکن بکراہت

(ف374)

یعنی حج کو اپنے اوپر لازم و واجب کرے احرام باندھ کر یاتلبیہ کہہ کریا ہدی چلا کر اس پر یہ چیزیں لازم ہیں جن کا آگے ذکر فرمایا جاتاہے ۔

(ف375)

رفث جماع یا عورتوں کے سامنے ذکر جماع یا کلام فحش کرنا ہے نکاح اس میں داخل نہیں۔ مسئلہ : مُحْرِمْ یا مُحْرِمَہْ کا نکاح جائز ہے مجامعت جائز نہیں۔ فسوق سے معاصی و سیأات اور جدال سے جھگڑا مراد ہے خواہ وہ اپنے رفیقوں یا خادموں کے ساتھ ہو یا غیروں کے ساتھ۔

(ف376)

بدیوں کی ممانعت کے بعد نیکیوں کی ترغیب فرمائی کہ بجائے فسق کے تقوٰی اور بجائے جدال کے اخلاق حمیدہ اختیار کرو۔

(ف377)

شان نزول: بعض یمنی حج کے لئے بے سامانی کے ساتھ روانہ ہوتے تھے اور اپنے آپ کو متوکل کہتے تھے اور مکہ مکرمہ پہنچ کر سوال شروع کرتے اور کبھی غصب و خیانت کے مرتکب ہوتے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور حکم ہوا کہ توشہ لے کر چلو اوروں پر بار نہ ڈالو سوال نہ کرو کہ بہتر توشہ پرہیزگاری ہے ایک قول یہ ہے کہ تقویٰ کا توشہ ساتھ لو جس طرح دینوی سفر کے لئے توشہ ضروری ہے ایسے ہی سفر آخرت کے لئے پرہیز گاری کا توشہ لازم ہے۔

(ف378)

یعنی عقل کا متقضٰی خوفِ الٰہی ہے جو اللہ سے نہ ڈرے وہ بے عقلوں کی طرح ہے۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ۪-وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْۚ-وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ(۱۹۸)

تم پر کچھ گناہ نہیں (ف۳۷۹) کہ اپنے رب کا فضل تلاش کروتو جب عرفات سے پلٹو (ف۳۸۰) تو اللہ کی یاد کرو (ف۳۸۱) مشعر حرام کے پاس (ف۳۸۲) اور اس کا ذکر کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت فرمائی اور بےشک تم اس سے پہلے بہکے ہوئے تھے (ف۳۸۳)

(ف379)

شان نزول :بعض مسلمانوں نے خیال کیا کہ راہِ حج میں جس نے تجارت کی یا اونٹ کرایہ پر چلائے اس کا حج ہی کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ مسئلہ : جب تک تجارت سے افعال حج کی ادا میں فرق نہ آئے اس وقت تک تجارت مباح ہے۔

(ف380)

عرفات ایک مقام کا نام ہے جو مَوقَف ہے ضحاک کا قول ہے کہ حضرت آدم و حوا جدائی کے بعد ۹ذی الحجہ کو عرفات کے مقام پر جمع ہوئے اور دونوں میں تعارف ہوا اس لئے اس دن کا نام عرفہ اورمقام کا نام عرفا ت ہوا ایک قول یہ ہے کہ چونکہ اس روز بندے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اس لئے اس دن کا نام عرفہ ہے

مسئلہ :عرفات میں وقوف فرض ہے کیونکہ افاضہ بلا وقوف متصور نہیں۔

(ف381)

تلبیہ و تہلیل و تکبیر و ثنا و دعا کہ ساتھ یا نما ز مغرب وعشاء کے ساتھ ۔

(ف382)

مشعر حرا م جبل قُزَح ہے جس پر امام وقوف کرتا ہے مسئلہ :وادی مُحَسَّرکے سوا تمام مزدلفہ موقف ہے اس میں وقو ف واجب بے عذر ترک کرنے سے د م لا زم آتا ہے اور مشعر حرام کے پاس وقوف افضل ہے ۔

(ف383)

طریق ذکر و عبادت کچھ نہ جا نتے تھے ۔

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۹۹)

پھر بات یہ ہے کہ اے قریشیو تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے لوگ پلٹتے ہیں (ف۳۸۴) اور اللہ سے معافی مانگوبےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف384)

قریش مزدلفہ میں ٹھہرے رہتے تھے اور سب لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف نہ کرتے جب لوگ عرفات سے پلٹتے تو یہ مزدلفہ سے پلٹتے اور اس میں اپنی بڑائی سمجھتے اس آیت میں انہیں حکم دیا گیا کہ سب کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور ایک ساتھ پلٹیں یہی حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہماالسلام کی سنت ہے ۔

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًاؕ-فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(۲۰۰)

پھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو (ف۳۸۵) تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے (ف۳۸۶) بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں

(ف385)

طریق حج کا مختصر بیان یہ ہے کہ حاجی ۸ذی الحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ سے منٰی کی طرف روانہ ہو وہاں عرفہ یعنی۹ ذی الحجہ کی فجر تک ٹھہرے اسی روز منٰی سے عرفات آئے بعد زوال امام دو خطبے پڑھے یہاں حاجی ظہر و عصر کی نما ز امام کے ساتھ ظہر کے وقت میں جمع کر کے پڑھے ان دونوں نمازوں کے لئے اذان ایک ہو گی اور تکبیریں دو اور دونوں نمازوں کے در میان سنت ظہر کے سوا کوئی نفل نہ پڑھا جائے اس جمع کے لئے امام اعظم ضرو ری ہے ۔اگر امام اعظم نہ ہو یا گمراہ بد مذہب ہو تو ہر ایک نما ز علٰیحدہ اپنے اپنے وقت میں پڑھی جائے اور عرفا ت میں غروب تک ٹھہرے پھر مزدلفہ کی طرف لوٹے اور جبل قُزَح کے قریب اترے مزدلفہ میں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کر کے عشاء کے وقت میں پڑھے اور فجر کی نما ز خوب اوّل وقت خوب اندھےرے میں پڑھے وادی محسّر کہ سوا تمام مزدلفہ اور بطن عُرنہ کے سوا تمام عرفات موقف ہے جب صبح خوب رو شن ہو تو روزِ نحر یعنی ۱۰ ذی الحجہ کو منٰی کی طرف آئے اور بطنِ وادی سے جمرئہ عقبہ کی ۷مر تبہ رمی کرے پھر اگر چاہے قربانی کرے پھر بال منڈائے یا کترائے پھر ایّام ِ نحر میں سے پھر طواف ِزیارت کرے پھر منٰی آکر تین روز اقامت کرے اور گیارہویں کے زوال کے بعد تینو ں جمروں کی رمی کرے اس جمرہ سے شروع کرے جو مسجد کے قریب ہے پھر جو اس کے بعدہے پھر جمرئہ عقبہ ہر ایک کی سات سات مرتبہ پھر اگلے روز ایسا ہی کرے پھر اگلے روز ایسا ہی پھر مکّہ مکرمہ کی طرف چلا آئے(تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے)۔

(ف386)

زمانہ جاہلیّت میں عر ب حج کے بعد کعبہ کے قریب اپنے باپ دادا کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔اسلام میں بتایا گیا کہ یہ شہرت و خود نمائی کی بیکار باتیں ہیں بجائے اس کے ذوق وشوق کے ساتھ ذکرِالٰہی کرو ۔

مسئلہ :اس آیت سے ذکر ِ جہر و ذکر ِ جماعت ثابت ہوتا ہے ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ(۲۰۱)

اور کوئی یوں کہتا ہے کہ اے ربّ ہمارے ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا (ف۳۸۷)

(ف387)

دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائیں ایک وہ کا فر جن کی دعا میں صرف طلبِ دنیا ہوتی تھی آخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے حق میں ارشاد ہوا کہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و آخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں ۔

مسئلہ :مؤمن دنیا کی بہتری جو طلب کرتا ہے وہ بھی امرِ جائز اور دین کی تائید و تقویت کے لئے اس لئے اس کی یہ دعا بھی امورِدین سے ہے۔

اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۲۰۲)

ایسوں کو ان کی کمائی سے بھاگ ہے (ف۳۸۸) اور اللہ جلد حساب کرنے والا ہے (ف۳۸۹)

(ف388)

مسئلہ :اس آیت سے ثابت ہوا کہ دعا کسب و اعمال میں داخل ہے حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثریہی دعا فرماتے تھے ”اَلّٰلھُمَّ اٰتِناَ فِی الدُّنْیاَحَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِحَسَنَۃً وَّقِناَعَذَابَ النَّارِ”

(ف389)

عنقریب قیامت قائم کر کے بندوں کا حسا ب فرمائے گا تو چاہئے کہ بندے ذکرو دعا و طاعت میں جلدی کریں۔(مدارک وخازن)

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍؕ-فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِۚ-وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِۙ-لِمَنِ اتَّقٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۲۰۳)

اور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں (ف۳۹۰) تو جوجلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لیے (ف۳۹۱) اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے

(ف390)

ان دنوں سے ایّام تشریق اور ذکر اللہ سے نمازوں کے بعد اور رمیِ جِمار کے وقت تکبیر کہنا مراد ہے۔

(ف391)

بعض مفسرین کا قول ہے کہ زمانہ جاہلیّت میں لوگ دو فریق تھے بعض جلدی کر نے والو ں کو گناہ گار بتا تے تھے،بعض رہ جانے والوں کو ،قرآنِ پاک نے بیان فرمادیا کہ ان دونوں میں کوئی گناہ گار نہیں ۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴)

اور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے (ف۳۹۲) اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے

(ف392)

شانِ نزول: یہ ہے اور اس سے اگلی آیت اَخْنَسْ بن شَرِیْق منافق کے حق میں نازل ہوئی جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور آپ کی محبت کا دعوٰی کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھامسلمانو ں کے مویشی کو اس نے ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتی کو آگ لگا دی ۔

وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ(۲۰۵)

اور جب پیٹھ پھیرے تو زمین میں فساد ڈالتا پھرے اور کھیتی اور جانیں تباہ کرے اور اللہ فساد سے راضی نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُؕ-وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ(۲۰۶)

اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اسے اور ضد چڑھے گنا ہ کی (ف۳۹۳) ایسے کو دوزخ کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا بچھونا ہے

(ف393)

گناہ سے ظلم و سر کشی اور نصیحت کی طرف التفات نہ کرنا مراد ہے۔(خازن)

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ(۲۰۷)

اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے (ف۳۹۴) اللہ کی مرضی چاہنے میں اور اللہ بندوں پر مہربان ہے

(ف394)

شان نزول: حضرت صہیب ابن سنان رومی مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے مشرکین قریش کی ایک جماعت نے آپ کا تعاقب کیا تو آپ سواری سے اترے اور ترکش سے تیر نکال کر فرمانے لگے کہ اے قریش تم میں سے کوئی میرے پاس نہیں آسکتا جب تک کہ میں تیر مارتے مارتے تمام ترکش خالی نہ کردوں اور پھر جب تک تلوار میرے ہاتھ میں رہے اس سے ماروں اس وقت تک تمہاری جماعت کا کھیت ہوجائے گا اگر تم میرا مال چاہو جو مکہ مکرمہ میں مدفون ہے تو میں تمہیں اس کا پتا بتادوں، تم مجھ سے تعرض نہ کرو وہ اس پر راضی ہوگئے اور آپ نے اپنے تمام مال کا پتابتادیا جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی حضور نے تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا: کہ تمہاری یہ جاں فروشی بڑی نافع تجارت ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً۪-وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۲۰۸)

اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہو (ف۳۹۵) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو (ف۳۹۶) بےشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

(ف395)

شان نزول: اہل کتاب میں سے عبداللہ بن سلام اور ان کے اصحاب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد شریعت موسوی کے بعض احکام پر قائم رہے شنبہ کی تعظیم کرتے اس روز شکار سے اجتناب لازم جانتے اور اونٹ کے دودھ اور گوشت سے پرہیز کرتے اور یہ خیال کرتے کہ یہ چیزیں اسلام میں تو مباح ہیں ان کا کرنا ضروری نہیں اور توریت میں ان سے اجتناب لازم کیا گیا ہے تو ان کے ترک کرنے میں اسلام کی مخالفت بھی نہیں ہے اور شریعت موسوی پر عمل بھی ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیاکہ اسلام کے احکام کا پورا اتباع کرو یعنی توریت کے احکام منسوخ ہوگئے اب ان سے تمسک نہ کرو (خازن)

(ف396)

اس کے وساوس و شبہات میں نہ آؤ ۔

فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۲۰۹)

اور اگر اس کے بعد بھی بچلو(بہکو) کہ تمہارے پاس روشن حکم آچکے (ف۳۹۷) تو جان لو کہ اللہ زبردست حکمت والا ہے کاہے

(ف397)

اور باوجود واضح دلیلوں کے اسلام کی راہ کے خلاف روش اختیار کرو۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠(۲۱۰)

کا ہے کے انتظار میں ہیں (ف۳۹۸) مگر یہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں (ف۳۹۹) اور کام ہوچکے اور سب کاموں کی رجوع اللہ ہی کی طرف ہے

(ف398)

ملّت اسلام کے چھوڑنے اور شیطان کی فرمانبرداری کرنے والے۔

(ف399)

جو عذاب پر مامور ہیں۔