حکایت نمبر177: کیابیماری بذاتِ خود دوا بن سکتی ہے۔؟

سید الطائفہ حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں:”ایک رات مجھے بڑی بے چینی ہوئی۔ میں عبادتِ الٰہی عزوجل میں مشغول رہا لیکن سکون مجھ سے کوسوں دور تھا۔ میں نے خوب کوشش کی کہ عبادت میں یکسوئی اورخشوع وخضوع حاصل ہوجائے لیکن میں اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا۔ پھر میں نے قرآنِ پاک کی تلاوت شروع کردی لیکن مجھے پھر بھی یکسوئی اوردلی سکون حاصل نہ ہوا۔میں بہت حیران تھاکہ آخر آج ایسی کیا بات ہے کہ مجھے عبادتِ الٰہی عزوجل میں یکسوئی حاصل نہیں ہورہی او رمیرا سکون مجھ سے دور ہو گیا ہے ۔آخر کار رات کے پچھلے پہر میں نے اپنی چادر کندھے پر ڈالی اورگھر سے باہر نکل آیا۔ کچھ دور جاکر راستے میں مجھے ایک شخص نظر آیا جو چادرمیں لپٹا ہوا تھا۔

جب میں اس کے قریب گیا تو اس نے اپنا سر اٹھایا اورمجھ سے پوچھا : ”تم اتنے پریشان کیوں ہو؟کیا قیامت برپا ہو چکی ہے؟ ”میں نے کہا :” کیاقیامت کا مقررہ دن آگیا ہے؟” اس شخص نے کہا:” نہیں،بلکہ میں تویہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا تم دل کی ہلچل اوربے چینی کی وجہ سے پریشان ہوکر دلی سکون حاصل کرنے جارہے ہو؟”میں نے کہا :”جی ہاں! واقعی میں دِلی سکون کی تلاش میں باہر نکلا ہوں اور یہ جاننا چاہتاہوں کہ کس وجہ سے مجھے آج رات سکون نہیں مل رہا؟(پھر میں نے اس سے پوچھا:)” اچھا یہ بتاؤ!کیا تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہے ؟”اس شخص نے جواب دیا:” ہاں، مجھے تم سے حاجت ہے ۔”میں نے استفسار کیا: ”بتاؤ،کیا حاجت ہے؟”اس نے جواب دیا:” اے ابوقاسم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ !مجھے یہ بتائیے، کیا کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ بیماری خود ہی دوا بن جائے ؟”میں نے کہا:” جی ہاں ، ایک صورت ایسی ہے کہ بیماری خود دوا بن جاتی ہے ۔ غور سے سن !جب تُوخواہشات نفسانیہ کی مخالفت کریگا تو دل کی تمام بیماریاں تجھ سے دور ہو جائیں گی اور یہی بیماریاں دوا بن جائیں گی ۔ ”

یہ سن کر اس شخص نے ایک آہِ سرد دلِ پُر درد سے کھینچی اور کہنے لگا:” مجھے آج رات اس سوال کا جواب سات مرتبہ اسی طرح دیا جاچکا ہے لیکن میری یہ خواہش تھی کہ میں آپ کی زبانی اپنے سوال کا جواب سنوں۔ اللہ عزوجل کے فضل وکرم سے میری یہ خواہش پوری ہوگئی اورمیں آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ کی مبارک زبان سے اپنے سوال کا جواب سن چکا۔”اتنا کہنے کے بعد وہ شخص وہاں سے رخصت ہوگیا اور پھردوبارہ کبھی نظر نہ آیا۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم