سؤال:

إیک حدیث میں ہے کہ جماعت کے ساتھ پڑھی گئی نماز اکیلے پڑھی گئی نماز سے 27 درجے بہتر ہے ، أور دوسری حدیث میں ہے کہ 25 درجے بہتر ہے .

کیا دونوں أحادیث متعارض ہیں؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

یہ دونوں أحادجث متفق علیہا ہیں ، أور دونوں سندا و معنی صحیح ہیں .

( صحیح بخاری ، باب فضل صلاة الجماعة ، حديث نمبرز: 645 ، 646 ، صحيح مسلم ، باب فضل صلاة الجماعة ، حديث نمبر : 649 ، 650 )

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

واختلف في أيهما أرجح ؟ فقيل : رواية الخمس لكثرة رواتها ،

وقيل: رواية السبع ، لأن فيها زيادة من عدل حافظ.

( فتح الباري ، 2/132 )

ترجمہ:

اختلاف ہے کہ دونوں ( روایات میں سے ) راجح کونسی ہے؟ کہا جاتا ہے ( کہ راجح) پانچ ( 25 ) والی روایت ہے کثرت رواۃ کی وجہ سے ، أور کہا جاتا:

( راجح) سات ( 27) والی روایت ہے کیونکہ وہ عادل و حافظ ( راویوں کی طرف سے ) زیادہ ہے ( یعنی 25 کی بجائے 27 عدد بیان ہوا ہے).

پھر علامہ ابن حجر عسقلانی دونوں أحادیث میں تطبیق کی گیارہ مختلف وجوہات بیان کرکے یہ واضح کرتے ہیں کہ دونوں أحادیث میں کوئی تعارض نہیں جسکا خلاصہ مع التوضیح منی درج ذیل ہے:

پہلی وجہ:

عدد میں اختلاف تعارض پہ دلالت نہیں کرتا، کیونکہ قلیل کثیر کی نفی نہیں کرتا.

دوسری وجہ:

پہلے اللہ رب العزت نے 25 درجے کے متعلق خبر دی پھر فضل و کرم فرماتے ہوئے 27 درجے کی خبر دی لیشکروا اللہ .

تیسری وجہ:

عدد میں اختلاف ممیزات کی وجہ سے ہے یعنی جزء درجہ سے بڑا ہوتا ہے، لہذا 27 والے میں درجے کا اعتبار ہے اور 25 والے میں جزء کا ،

لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی نے اس وجہ کو قبول نہیں کیا.

چوتھی وجہ:

قرب مسجد و بعد مسجد کے اعتبار سے ہے یعنی قرب والوں کے لیے 25 أور بعد والوں کے لیے 27 درجے فرمایا .

پانچویں وجہ:

نمازی کے اعتبار سے فرق ہے ، أگر نمازی عالم ہے أور خشوع کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو أس کے لیے 27 أور غیر عالم جو خشوع وخضوع کے ساتھ پڑھے تو أنکے لیے 25 درجے ہین فضیلت کے.

چھٹی وجہ:

مسجد کے اعتبار سے فرق ہے ، أگر نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھے تو زیادہ ثواب ہے بنسبت مسجد کے علاوہ کسی أور جگہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا.

ساتویں وجہ:

انتظار نماز کے حساب سے فرق ہے ، جو مسجد میں جماعت سے پہلے آکر أسکا انتظار کرتا ہے أسکا ثواب أس شخص سے زیادہ ہے جو عین جماعت کے وقت پہنچتا ہے.

آٹھویں وجہ:

ساری نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے والوں کے لیے 27 أور بعض رکعات جماعت کے ساتھ أدا کرنے والوں کے لیے 25 درجے فضیلت کے ہیں.

نویں وجہ:

جماعت کی کثرت کے اعتبار سے فرق ہے ، أگر جماعت میں لوگوں کی کثرت ہے تو 27 اگر قلت ہے تو 25 .

( بندہ فقیر کے نزدیک یہ أضعف وجہ ہے)

دسویں وجہ:

ستائیس درجے والی حدیث نماز فجر و عشاء و عصر کے لیے اور 25 درجے والی حدیث باقی نمازوں کے لیے ہے.

گیارہویں وجہ:

جہری و سری نماز کے لحاظ سے فرق ہے ، جہری نمازوں کے لیے 27 درجے والی حدیث ہے اور سری نمازوں کے لیے 25 درجے والی حدیث ہے،

أور یہ آخری وجہ ہی علامہ ابن حجر عسقلانی کے ہاں راجح ہے .

( فتح الباری ، 2/132 )

لہذا 27 أور 25 درجے والی دونوں أحاديث میں کوئی تعارض نہیں.

إمام عینی الحنفی رحمہ اللہ نے أور بھی وجہ بیان کی ہے ، فلیراجعه وهو يفيد لك.

( عمدة القاري ، باب الصلاة في مسجد السوق ، 4/260 )