حدیث نمبر :404

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے ۱؎ اورہم کو ایک ہی وضواسوقت تک کافی ہوتا جب تک بے وضو نہ ہوتے۲؎ (دارمی)

شرح

۱؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ اولًا حضور پر ہر نماز کے لیے وضو کرنا فرض تھا،پھر یہ فرضیت منسوخ ہوئی جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہورہا ہے یہ اس وقت کا ذکر ہے۔اورہوسکتا ہے کہ فرضیت کے منسوخ ہونے کا بعد کا ذکر ہوا اوراکثری حال مراد ہو،یعنی حضور اکثر ہر نماز کے لیے وضو فرمالیتے تھے۔اس آیت کے ظاہر پر عمل فرماتے ہوئے”اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوۡا”الایہ۔اب بھی ہر نماز کے لیے وضو کرلینا خواہ پہلاوضوہومستحب ہے۔خیال رہے کہ یہاں نماز سے نماز فرض مراد ہے اورنمازاشراق فجر کے وضوء سے پڑھنا مستحب ہے۔

۲؎ یعنی ہم لوگ اکثر ایک وضو سے چند نمازیں پڑھ لیتے تھے۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک وضو سے چار نمازیں پڑھیں تھیں۔اور بعض صحابہ ہر نماز کے لیے نیا وضو کرتے تھے مگر وہ واقعات اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ یہاں اکثری حالت کا ذکر ہے۔