أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيۡهِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بہت غالب نہایت حکمت والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بہت غالب نہایت حکمت والا ہے۔ (النساء : ١٥٨) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کا بیان : 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان کی طرف اٹھائے جانے کی کیفیت کا علم اس روایت سے ہوتا ہے : 

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھانے کا ارادہ کیا تو حضرت عیسیٰ اپنے اصحاب کے پاس آئے اور اس وقت گھر میں بارہ حواری تھے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جس وقت گھر میں داخل ہوئے تو ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو مجھ پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ میرا کفر کرے گا پھر فرمایا تم میں سے کون شخص ایسا ہے جس پر میری شبہ ڈال دی جائے اور اس کو میری جگہ قتل کردیا جائے اور وہ میرے ساتھ جنت میں ہو ‘ تو ان میں سے ایک کم عمر نوجوان اٹھا ‘ آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ پھر دوبارہ سوال دہرایا پھر وہ جوان اٹھا ‘ اور کہا میں حاضر ہوں ‘ آپ نے فرمایا ہاں تم ہی اس کے اہل ہو ‘ پھر اس پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبہ ڈال دی گئی ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مکان کے روشن دان سے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا پھر یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں آئے انہوں نے حضرت عیسیٰ کے مشابہ کو پکڑ لیا اور اس کو قتل کردیا پھر اس کو سولی پر لٹکا دیا ‘ پھر ان میں سے بعض نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد بارہ مرتبہ ان کا انکار کیا اور ان کے تین فرقے ہوگئے ایک فرقہ نے کہا ہمارے درمیان خود اللہ تھا ‘ جب تک اس نے چاہا ہم میں رہا پھر وہ آسمان کی طرف چڑھ گیا اس فرقہ کا نام یعقوبیہ ہے ‘ دوسرے فرقے نے کہا وہ ابن اللہ تھا جب تک چاہا ہم میں رہا اور جب چاہا آسمان پر چڑھ گیا اس فرقہ کا نام نسطوریہ ہے ‘ اور ایک فرقہ نے کہا ہمارے درمیان اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جب تک اللہ نے چاہا وہ ہم میں رہا پھر اللہ نے اس کو پانی طرف اٹھا لیا اور یہ فرقہ مسلمان تھا ‘ پھر دونوں کافر فرقے اس پر غالب آگئے اور اس کو قتل کرد یا پھر اس وقت سے دین اسلام کا چراغ بجھا رہا حتی کہ اللہ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرمایا اس حدیث کی حضرت ابن عباس تک سند صحیح ہے امام نسائی نے اس حدیث کو از ابو کریب از ابو معاویہ اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ 

اسی طرح اس کو متعدد اسلاف نے بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حواریوں سے فرمایا تھا کہ تم میں سے کس شخص پر میری شبہ ڈالی جائے اور اس کو میری جگہ قتل کردیا جائے اور وہ جنت میں میرا رفیق ہو۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٣٠۔ ٤٢٩‘ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ) 

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف غرناطی اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں یہودیوں کے اس دعوی کا انکار ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اب بھی دوسرے آسمان میں زندہ ہیں جیسا کہ حدیث معراج میں ہے ‘ اور وہ وہیں پر مقیم ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کرنے کے لیے انہیں زمین پر نازل فرمائے گا اور وہ زمین کو اسی طرح عدل سے بھر دیں گے جس طرح پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی اور زمین پر چالیس سال زندہ رہیں گے جس طرح انسان زندہ رہتے ہیں پھر اس طرح وفات پاجائیں گے جس طرح انسانوں کو موت آتی ہے ‘ قتادہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا ان کو نور کا لباس پہنایا اور ان کے پر لگا دیئے اور ان کو کھانے پینے سے منقطع کردیا اور وہ ملائکہ کے ساتھ عرش کا طواف کرنے لگے اور وہ ایسے انسان بن گئے جو ملکی سماوی اور ارضی تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور حکیم ہے اور حکمت کا معنی کمال علم اور عزت کا معنی کمال غلبہ ہے ‘ اس صفت کے لانے میں یہ تنبیہہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دنیا سے آسمانوں کی طرف اٹھانا اگرچہ بشر پر متعذر اور دشوار ہے لیکن میری حکمت اور میرے غلبہ کے سامنے اس میں کوئی دشواری نہیں ہے ‘ حکمت اور غلبہ کی یہ تفسیر بھی ہے کہ یہود نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں سے بچایا جائے اور اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے انہیں آسمان پر لے جائے۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ تیس سال کی عمر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر وحی کی گئی اور تنتیس (٣٣) سال کی عمر میں آپ کو اوپر اٹھا لیا گیا ‘ لہذا آپ کی نبوت کی مدت تین سال ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے حضرت عیسیٰ السلام کو چھت کے ایک سوارخ میں داخل کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سوار سے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ (البحر المحیط ج ٤ ص ١٢٩۔ ١٢٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ علامہ ابو الحیان اندلسی کی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ لوقا کی انجیل میں بھی اس عبارت کی تائید ہے ‘ اور بعض حواریوں نے سولی کے واقعہ کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ ان کی روح کے متشکل ہونے کے باب میں ہے کیونکہ قدسیوں کی روح کو اس عالم میں تشکل اور تطور (یعنی روح کا مختلف شکلوں میں متشکل ہو کر آنا) کی قوت حاصل ہوتی ہے خواہ ان کی ارواح کسی بلند مقام پر ہوں ‘ اور اس امت کے بکثرت اولیاء مختلف شکلوں میں آتے ہیں اور ان کی حکایات اس قدر زیادہ ہیں کہ حصر اور بیان سے باہر ہیں۔ (روح المعانی جز ٦ ص ‘ ١٢ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

ابن تیمیہ کے افکار اور ان پر علماء امت کے تبصرے : 

شیخ احمد بن تیمیہ متوفی ٧٢٨ ھ اللہ تعالیٰ کے جہت کی آیات کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں سورة النساء کی زیر تفسیر آیت ” بل رفعہ اللہ الیہ “۔ (١٥٨) سے بھی انہوں نے اپنے موقف پر استدلال کیا ہے۔ (شرح العقیدہ الواسطیہ ص ٦٥ مطبوعہ دارالسلام ریاض۔ 

نیز لکھا ہے کہ قرآن کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی (مرتفع ‘ مستقر یا صاعد) ہونے کا ذ کر ہے اور یہ آیات ان کے نزدیک اپنے ظاہری معنی پر محمول ہیں اور ان میں سلطنت کا غلبہ کا معنی کرنا باطل ہے۔ (شرح العقیدہ الواسطیۃ ص ٦٣) 

علامہ تقی الدین ابوبکر حصنی دمشقی متوفی ٨٢٩ ھ لکھتے ہیں :

ابو الحسن دمشقی نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ ہم ابن تیمیہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اس نے وعظ کیا اور استواء کی آیات کو بیان کیا ‘ اس نے کہا اللہ عرش پر اس طرح بیٹھا ہے جس میں یہاں بیٹھا ہوں یہ سن کر لوگ اس پر پل پڑے اور اس کی جوتیوں سے مرمت شروع کردی ‘ اور اس کو بعض حکام تک پہنچایا ‘ انہوں نے اس کا علماء سے مناظرہ کرایا ‘ اس نے یہ آیت پیش کی (آیت) ” الرحمن علی العرش استوی “۔ علماء اس پر ہنسے اور انہوں نے جان لیا کہ یہ قواعد علم کو جاری کرنے سے جاہل ہے ‘ پھر علماء نے اس پر یہ آیت پیش کی (آیت) ” اینما تولوا فثم وجہ اللہ “۔ البقرہ : ١١٥) ” تم اللہ حقیقۃ ہمارے ساتھ ہے ‘ اور اللہ عرش پر بھی حقیقۃ مستوی ہے ‘ اور یہ شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی عداوت رکھتا تھا ‘ علماء نے اس کو مارنے اور اس کو کوڑے لگانے کا حکم دیا ‘ قاضی مالکی کے حکم سے اس کو اور اس کے بھائیوں کو قید کردیا گیا ‘ اس کو قید کرنے کا سبب یہ بیان کیا گیا کہ اس نے کہا انبیاء (علیہم السلام) مثلا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی قبروں کی زیارت کے لیے رخت سفر نہ باندھا جائے ‘ امام برہان الدین فزاری نے اس کے خلاف چالیس سطروں کا فتوی لکھا جس میں اس کو کافر قرار دیا ‘ اور شیخ شہاب الدین بن جہبل شافعی نے اور مالکی علماء نے بھی اس کی موافقت کی اور اس کے گمراہ ‘ بدعتی اور زندیق ہونے پر اتفاق کیا ‘ سلطان نے تمام قاضیوں کو جمع کیا اور قاضی القضاۃ بدرالدین بن جماعہ نے اس فتوی کو پڑھ کر اس پر مہر لگائی اور لکھا کہ اس قول کا قائل بدعتی اور گمراہ ہے اور حنفی اور حنبلی علماء نے اس فتوی کی موافقت کی لہذا اس کے کفر پر اجماع ہوگیا (کتاب دفع شبہ من شبہ وتمرد ص ٤٥۔ ٤١‘ ملخصا مطبعہ دارالکتاب العربیہ حلب ‘ ١٣٥٠ ھ) 

علامہ تاج الدین عبدالوہاب بن علی بن عبدالکافی السبکی المتوفی ٧١١ ھ نے قصیدہ نونیہ میں ان مسائل کو جمع کیا ہے جس میں اشاعرہ کا اختلاف ہے اور بعض عقائد کی سنت کے مطابق تصحیح کی ہے اس میں یہ شعر بھی ہے۔ 

کذب ابن فاعہ یقول لجھلہ، اللہ جسم لیس کالجسمان۔

زانیہ کے بیٹے نے اپنے جہل کی وجہ سے یہ کہا کہ اللہ جسم ہے ‘ حالانکہ اللہ جسموں کی مثل نہیں ہے۔ (طبقات الشافعیہ الکبری ج ٣ ص ٣٧٩‘ داراحیاء الکتب العربیہ) 

مشہور سیاح ابن بطوطہ لکھتے ہیں : 

ابن تیمیہ دمشق کا بہت بڑا عالم تھا ‘ لیکن اس کی عقل میں کمی تھی ‘ دمشق کے علماء کے اس پر اعتراض تھے اس کو قاضی القضاۃ کے سامنے پیش کیا گیا اور اس سے کہا ان اعتراضات کے جواب دو ‘ اس نے کہا لا الہ الا اللہ اور کوئی جواب نہیں دیا ‘ دوبارہ کہا دوبارہ اس نے یہی جواب دیا اس کو قاضی القضاۃ نے قید کردیا ‘ میں نے دمشق کے قیام کے دوران ایک دن اس کے پیچھے جمہ پڑھا ‘ یہ مسجد کے منبر پر وعظ کر رہا تھا ‘ دوران وعظ اس نے کہا اللہ آسمان دنیا سے اس طرح اترتا ہے یہ کہہ کر اس نے منبر سے اتر کر دکھایا ‘ پھر اس سے ابن الزھراء مالکی نے معارضہ کیا اور لوگوں نے ہاتھوں اور جوتوں سے اس کو اس قدر مارا کہ اس کی پگڑی گرگئی اور اس کا لباس پھٹ گیا۔ اس کو ایک حنبلی قاضی کے پاس لے گئے انہوں نے اس کو قید کرنے اور تعذیر لگانے کا حکم دیا۔ اس کے مردود اقوال میں سے یہ ہیں : اس نے کلمہ واحدہ سے تین طلاقوں کو ایک طلاق قرار دیا ‘ قبر انور کی زیارت کرنے والے کے لیے نماز قصر کرنے کو ناجائز کہا ‘ مالک ناصر نے اس کو قلعہ میں قید کرنے کا حکم دیا اور یہ وہیں مرگیا۔ (رحلہ ابن بطوطا ج ١ ص ١١٢۔ ١١١‘ مطبوعہ داراحیاء العلوم بیروت) 

امام ابو عبداللہ شمس الدین محمد الذہبی المتوفی ٧٤٨ ھ لکھتے ہیں : 

حافظ ابوالعباس احمد بن تیمیہ حرانی بہت بڑا عالم تھا ‘ اس کی تصانیف تین سو مجلدات کو پہنچتی ہیں ‘ یہ دمشق اور مصر میں کئی مرتبہ فتنہ میں پڑا اور مصر ‘ قاہرہ ‘ اسکندریہ اور قلعہ دمشق میں دو مرتبہ قید ہوا اور قلعہ دشمن میں ٧٢٨ ھ ہجری میں فوت ہوا ‘ اس کے بہت سے متفردات ہیں اور ائمہ میں سے ہر ایک قول کو اخذ بھی کیا جاتا ہے اور ترک بھی کیا جاتا ہے (تذکرۃ الحفاظ ج ٤ ص ١٤٩٧‘ مطبوعہ دارا احیاء التراث العربی بیروت) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

ابن تیمیہ نے اللہ تعالیٰ کے (آسمان سے) نازل ہونے کی حدیث بیان کی ‘ پھر منبر کی دو سیڑھیوں سے اتر کر کہا جس طرح میں اترا ہوں اللہ اس طرح اترتا ہے ‘ اس وجہ سے یہ کہا گیا کہ ابن تیمیہ اللہ تعالیٰ کے لیے جسمیت کا قائل ہے۔ (الدرایکا منہ ج ١ ص ١٥٤‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت) 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

احمد بن تیمیہ نے عقیدہ حمویہ اور واسطیہ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ ‘ پیر ‘ چہرہ اور پنڈلی کا جو ذکر آیا ہے وہ اس کی صفات حقیقیہ ہیں اور اللہ تعالیٰ عرش پر بذاتہ مستوی ہے اس سے کہا گیا کہ اس سے تحیز اور انقسام لازم آئے گا ‘ تو اس نے کہا میں یہ نہیں مانتا کہ تحیز اور انقسام اجسام کے خواص میں سے ہے ‘ اس وجہ سیابن تیمیہ کے متعلق کہا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے تحیز اور انقسام کا قائل ہے ‘ بعض علماء نے ابن تیمیہ کو زندیق قرار دیا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مدد نہیں مانگنی چاہیے اس کے قول میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تنقیص ہے اور آپ کی تعظیم کا انکار ہے ‘ بعض علماء نے اس کو منافق قرار دیا ‘ کیونکہ وہ حضرت علی (رض) کے متعلق کہتا تھا کہ آپ نے سترہ مقامات میں خطاء کی ‘ اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وہ جہاں بھی گئے انہوں نے شکست کھائی ‘ انہوں نے بار بار خلافت حاصل کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہے ‘ اور ان کی جنگ حکومت کے لیے تھی دین کے لیے نہیں تھی ‘ نیز ابن تیمیہ نے کہا کہ حضرت عثمان مال سے محبت کرتے تھے ‘ حضرت ابوبکر کے متعلق کہا کہ وہ بوڑھے تھے وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ‘ حضرت علی (رض) کے بارے میں کہا کہ وہ بچپن میں اسلام لائے تھے اور بچپن کا اسلام لانا ایک قول کے مطابق صحیح نہیں ہوتا۔ (الدرالکامنہ ج ١ ص ١٥٥‘ مطبوعہ دارالجیل بیروت) 

علامہ احمد شہاب الدین بن حجر ہیتمی مکی متوفی ٩٧٤ ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں : 

احمد بن تیمیہ وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے رسوا کیا ‘ اور گمراہ کیا اور اندھا اور بہرہ کیا اور ذلیل کیا ‘ اس کی بڑے بڑے ائمہ نے تصریح کی ہے مثلا مجتہد سبکی ‘ اور ان کے بیٹے تاج سبکی اور امام عز بن جماعہ اور ان کے معاصرین اور دیگر شافعی ‘ مالکی ‘ اور حنفی علماء ‘ اس شخص نے اکثر اکابر صوفیاء کو بدعتی کہا مثلا عارف ابو الحسن شاذلی کو اور ابن عربی ‘ ابن الفارض ‘ ابن سبعین ‘ الحاماج حسین بن منصور کو ‘ اس کے معاصر تمام علماء نے اس کو فاسق اور بدعتی کہا بلکہ بہت علماء نے اس کو کافر کہا ‘ اس کے زمانے کے ایک بہت بڑے عالم سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا میں نے خود اس سے جامع الجیل کے منبر پر تقریر کرتے ہوئے سنا ہے اس نے حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے متعلق کہا انہوں نے بہت سی غلطیاں کیں ‘ اور حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کے متعلق کہا کہ حضرت علی (رض) نے تین سو سے زیادہ غلطیاں کیں اور اس نے اللہ تعالیٰ کے متعلق جسمیت اور جہت اور منتقل ہونے کا قول کیا ‘ اور اس نے اللہ عرش کے برابر ہے نہ اس سے چھوٹا ہے نہ بڑا ہے اور اس نے کہا کہ دوزخ فنا ہوجائے گی اور انبیاء غیر معصوم ہیں ‘ اور یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کوئی وجاہت نہیں اور نہ آپ کے ساتھ توسل کیا جائے اور اس نے کہا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے سفر کرنا معصیت ہے اور اس سفر میں نماز کو قصر کرنا جائز نہیں ہے اور یہ عنقریب آپ کی شفاعت سے قیامت کے دن محروم ہوگا ‘ اور اس نے کہا کہ تورات اور انجیل کے الفاظ تبدیل نہیں ہوئے صرف معانی تبدیل ہوئے ہیں۔ ملخصا (فتاوی حدیثیہ ص ١٠٠۔ ٩٩‘ ملخصا مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ مصر) 

علامہ ابن حجر مکہ ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : 

تم اپنے آپ کو ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم جو زیہ کی کتابوں سے بچائے رکھنا جس نے اپنی خواہش کی پیروی کی ‘ اور اللہ نے اس کو علم کے باوجود گمراہ کردیا ‘ اور اس کے دل اور اس کے کانوں پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا (فتاوی حدیثیہ ص ١٧٣‘ ملخصا مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ مصر) 

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ) 

ابن تیمیہ حنبلی نے اس مسئلہ میں بہت تفریط کی ہے کیونکہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے سفر کو حرام قرار دیا ہے جیسا کہ اس مسئلہ میں بعض لوگوں نے افراط کیا ہے کیونکہ انہوں نے کہا کہ زیارت (قبر کریم) کا عبادت ہونا ضروریات دینیہ سے ہے اور اس کا منکر کافر ہے ‘ اور ابن تیمیہ کی تکفیرکا قول صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کا انکار کفر ہے تو جس چیز کے استحباب پر علماء کا اتفاق ہو اس کو حرام قرار دینا بہ طریق اولی کفر ہوگا۔ (شرح الشفاء علی ہامش نسیم الریاض ج ٣ ص ٥١٤‘ مطبوعہ دارا الفکر بیروت) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : اللہ کی جناب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وسیلہ پیش کرنا مستحسن ہے اور سلف اور خلف میں سے ابن تیمیہ کے سوا کسی نے اس کا انکار نہیں کیا ‘ اس نے یہ بدعت کی اور وہ بات کہی جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ (رد المختار ج ٥ ص ‘ ٢٥٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مشہور دیوبندی عالم شیخ محمد سرفراز گکھڑوی لکھتے ہیں : 

امام ابن تیمیہ کے علمی اختیارات وتفردات ہیں جو ان کے فتاوی کی چوتھی جلد کے ساتھ کتابی شکل میں منسلک ہیں اور فتاوی میں بھی موجود ہیں ‘ مثلا یہ کہ سجدہ تلاوت کے لیے وضو ضروری نہیں۔ (فتاوی ج ٣ ص ٩٥) اور یہ کہ ایک مجلس یا ایک کلمہ کے ساتھ دی گئی تین طلاقیں صرف ایک ہی ہوتی ہیں ہے ‘ اور یہ کہ حیض کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی ‘ اور یہ کہ ہر بڑے اور چھوٹے سفر میں قصر اور دوگانہ ضروری ہے (فتاوی ج ٣ ص ٩٥) اور یہ کہ اگر کوئی شخص عمدا نماز چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں اور یہ کہ توسل درست نہیں اور اسثفاء عند القبر جائز نہیں وغیرہ وغیرہ اور اسی قسم کے اختلافی مسائل کی وجہ سے ان کو حکومت وقت اور عوام اور علماء کی طرف سے خاصی دقت پیش آئی اور کئی مرتبہ قید وبند سے دوچار ہوئے مگر اپنے نظریات سے انہوں نے رجوع نہیں کیا اور تادم مرگ ان پر سختی سے کاربند اور مصر رہے۔ (سماع الموتی ص ١٣٤۔ ١٣٣‘ مطبوعہ لاہور ‘ ١٩٨٤ ء)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 158