کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 10 سورہ البقرہ آیت نمبر211 تا 216

سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍؕ-وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۱۱)

بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں (ف۴۰۰) اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے (ف۴۰۱) تو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے

(ف400)

کہ ان کے انبیاء کے معجزات کو ان کے صدق نبوت کی دلیل بنایا ان کے ارشاد اور ان کی کتابوں کو دین اسلام کی حقانیت کا شاہد کیا۔

(ف401)

اللہ تعالیٰ کی نعمت سے آیات الہیہ مراد ہیں جو سبب رشد و ہدایت ہیں اوران کی بدولت گمراہی سے نجات حاصل ہوتی ہے انہیں میں سے وہ آیات ہیں جن میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت اور حضور کی نبوت و رسالت کا بیان ہے یہودونصارٰی کی تحریفیں اس نعمت کی تبدیل ہے۔

زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۘ-وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۲۱۲)

کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی (ف۴۰۲) اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں (ف۴۰۳) اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گئے قیامت کے دن (ف۴۰۴) اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے

(ف402)

وہ اسی کی قدر کرتے اور اسی پر مرتے ہیں۔

(ف403)

اور سامان دنیوی سے ان کی بے رغبتی دیکھ کر ان کی تحقیر کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر اور صہیب و بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دیکھ کر کفار تمسخر کرتے تھے اور دولت دنیا کے غرور میں اپنے آپ کو اونچا سمجھتے تھے۔

(ف404)

یعنی ایماندار روز قیامت جناب عالیہ میں ہوں گے اور مغرور کفار جہنم میں ذلیل و خوار ۔

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً- فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ۪-وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِؕ-وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْۚ-فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖؕ-وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۲۱۳)

لوگ ایک دین پر تھے (ف۴۰۵) پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دیتے (ف۴۰۶) اور ڈر سناتے (ف۴۰۷) اور ان کے ساتھ سچی کتاب اتاری (ف۴۰۸) کہ وہ لوگوں میں ان کے اختلافوں کا فیصلہ کردے اور کتاب میں اختلاف انہیں نے ڈالا جن کو دی گئی تھی (ف۴۰۹) بعداس کے کہ ان کے پاس روشن حکم آچکے (ف۴۱۰) آپس کی سرکشی سے تو اللہ نے ایمان والوں کو وہ حق بات سوجھا دی جس میں جھگڑ رہے تھے اپنے حکم سے اور اللہ جسے چاہے سیدھی راہ دکھائے

(ف405)

حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے عہد نوح تک سب لوگ ایک دین اور ایک شریعت پر تھے پھر ان میں اختلاف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ ا لسلام کو مبعوث فرمایا یہ بعثت میں پہلے رسول ہیں (خازن)

(ف406)

ایمانداروں اور فرمانبرداروں کو ثواب کی (مدارک وخازن)

(ف407)

کافروں اور نافرمانوں کو عذاب کا (خازن)

(ف408)

جیسا کہ حضرت آدم و شیث و ادریس پر صحائف اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت حضرت داؤد پر زبور حضرت عیسٰی پر انجیل اور خاتم الانبیاء محمد مصطفے پر قرآن ۔

(ف409)

یہ اختلاف تبدیل و تحریف اور ایمان و کفر کے ساتھ تھا جیسا کہ یہود ونصارٰی سے واقع ھوا ۔(خازن)

(ف410)

یعنی یہ اختلاف نادانی سے نہ تھا بلکہ۔

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْؕ-مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ(۲۱۴)

کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد نہ آئی (ف۴۱۱) پہنچی انہیں سختی اور شدت اور ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول (ف۴۱۲) اور اس کے ساتھ کے ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد (ف۴۱۳) سن لو بےشک اللہ کی مدد قریب ہے

(ف411)

اور جیسی سختیاں ان پر گزر چکیں ابھی تک تمہیں پیش نہ آئیں ‘ 

شان نزول : یہ آیت غزوۂ احزاب کے متعلق نازل ہوئی جہاں مسلمانوں کو سردی اور بھوک وغیرہ کی سخت تکلیفیں پہنچی تھیں اس میں انہیں صبر کی تلقین فرمائی گئی اور بتایا گیا کہ راہِ خدا میں تکالیف برداشت کرنا قدیم سے خاصانِ خدا کا معمول رہا ہے۔ ابھی تو تمہیں پہلوں کی سی تکلیفیں پہنچی بھی نہیں ہیں بخاری شریف میں حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سایہ کعبہ میں اپنی چادر مبارک سے تکیہ کئے ہوئے تشریف فرما تھے ہم نے حضور سے عرض کی کہ حضور ہمارے لئے کیوں دعا نہیں فرماتے ہماری کیوں مدد نہیں کرتے فرمایا تم سے پہلے لوگ گرفتار کئے جاتے تھے زمین میں گڑھا کھود کر اس میں دبائے جاتے تھے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کرڈالے جاتے تھے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت نوچے جاتے تھے اور ان میں کی کوئی مصیبت انہیں ان کے دین سے روک نہ سکتی تھی۔

(ف412)

یعنی شدت اس نہایت کو پہنچ گئی کہ ان امتوں کے رسول اور ان کے فرمانبردار مومن بھی طلب مدد میں جلدی کرنے لگے باوجود یکہ رسول بڑے صابر ہوتے ہیں اور ان کے اصحاب بھی لیکن باوجود ان انتہائی مصیبتوں کے وہ لوگ اپنے دین پر قائم رہے اور کوئی مصیبت و بلاان کے حال کو متغیر نہ کرسکی۔

(ف413)

اس کے جواب میں انہیں تسلی دی گئی اور یہ ارشاد ہوا ۔

یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَؕ-قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِؕ-وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ(۲۱۵)

تم سے پوچھتے ہیں (ف۴۱۴) کیا خرچ کریں تم فرماؤ جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لیے ہے اور جو بھلائی کرو (ف۴۱۵) بےشک اللہ اسے جانتا ہے (ف۴۱۶)

(ف414)

شان نزول: یہ آیت عمرو بن جموع کے جواب میں نازل ہوئی جو بوڑھے شخص تھے اور بڑے مالدار تھے انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں اس آیت میں انہیں بتادیا گیا کہ جس قسم کا اور جس قدر مال قلیل یا کثیرخرچ کرو اس میں ثواب ہے اور مصارف اس کے یہ ہیں ۔

مسئلہ:آیت میں صدقہ نافلہ کا بیان ہے ماں باپ کو زکوۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں۔(جمل وغیرہ)

(ف415)

یہ ہر نیکی کو عام ہے انفاق ہو یا اور کچھ اور باقی مصارف بھی اس میں آگئے۔

(ف416)

اس کی جزا عطا فرمائے گا۔

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶)

تم پر فرض ہوا خدا کی راہ میں لڑنا اور وہ تمہیں ناگوار ہے (ف۴۱۷) اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۴۱۸)

(ف417)

مسئلہ : جہاد فرض ہے جب اس کے شرائط پائے جائیں اگر کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھائی کریں تو جہاد فرض عین ہوتا ہے ورنہ فرض کفایہ۔

(ف418)

کہ تمہارے حق میں کیا بہتر ہے تو تم پر لازم ہے کہ حکم الہٰی کی اطاعت کرو اور اسی کو بہتر سمجھو چاہے وہ تمہارے نفس پر گراں ہو۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.