حدیث نمبر :405

روایت ہے حضرت محمدابن یحیی ابن حبان سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے عبیداﷲ ابن عبداﷲ ابن عمر سے کہا کہ بتائیے تو کہ عبداﷲ ابن عمر ہرنماز کے لئے وضو کرتے تھے باوضو ہوں یا بے وضو یہ کس سے لیا تو کہنے لگے کہ انہیں اسماء بنت زید ابن خطاب نے خبری دی۲؎ کہ عبداﷲ ابن حنظلہ ابن ابی عامر غسیل نے انہیں خبر دی تھی ۳؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز کے لیئے وضو کا حکم دیا گیا تھا باوضو ہوں یا بے وضو۴؎ لیکن جب یہ عمل رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر دشوارہواتو ہرنماز کے وقت مسواک کا حکم دیا گیا اور وضو موقوف کیا گیا ان سے مگر حدث سے۵؎ فرمایا عبداﷲ سمجھتے تھے کہ ان میں اس کی طاقت ہے(یعنی ہرنماز کے لیئے تازہ وضو کی)تووفات تک ہی کرتے رہے۶؎ (احمد)

شرح

۱؎ آپ فقیہ تابعی ہیں،انصاری ہیں،آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،امام مالک کے استاد ہیں، ۱۲۱ھ؁ میں وفات پائی،علم وعبادت میں بڑے مشہور تھے۔

۲؎ یہ اسماءحضرت عمر کی بھتیجی ہیں،حضرت زید ابن خطاب عمر فاروق کے بڑے بھائی ہیں،جو آپ سے پہلے اسلام لائے،مہاجرین اولین میں سے ہیں،بدر اور تمام غزوات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،خلافت صدیقی جنگ یمامہ میں ۱۲ھ؁ میں شہادت پائی۔حضرت اسماءبھی صحابیات میں سے ہیں۔

۳؎ یہ عبداﷲ بھی صحابی ہیں،ان کے والد بھی صحابی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر سات برس تھی،و اقعہ کربلا کے بعد جب اہل مدینہ نے یزید ابن معاویہ رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی تو سب نے انہیں کے ہاتھ پر بیعت کی،اسی وجہ سے یزید نے مدینہ طیبہ پر چڑھائی کی جس کا نام جنگ حرہ ہے اسی میں آپ شہید ہوئے،حضرت حنظلہ کی شہادت اورآپ کا غسیل ملائکہ ہونا پہلے مذکورہ ہوچکاہے۔حنظلہ کا باپ،ابو عامرراہب کافرمرا،حضرت حنظلہ غزوۂ احد میں حالت جنابت شہید ہوئے،اس لئے انہیں فرشتوں نے غسل دیا لہذا”غسیل الملائکہ”کہلائے۔

۴؎ یعنی معراج میں خصوصی طور پر آپ کو ہرنماز کے لئے وضو کا حکم تھا نہ کہ امت کے لئے۔

۵؎ یہ حدیث امام اعظم کے خلاف نہیں اور نہ امام شافعی کی مُؤیّد کیونکہ وہ بھی ہر نماز کے لئے مسواک مستحب مانتے ہیں اوریہاں فرضیت کا ذکر ہے،نیز بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بہت دفعہ ایک وضو سے چند نمازیں پڑھیں اور ہر نماز کے لیے مسواک نہ کی۔خلاصہ یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم پراولًا ہر نماز کے لئے وضو فرض تھا،پھرمسواک فرض رہی،پھر وہ بھی منسوخ ہوگئی۔

۶؎ انہوں نے سمجھا کہ فرضیت منسوخ ہوگئی مگر استحباب باقی ہے اور یہ صحیح تھا اب بھی اگرکوئی اس پرعمل کرے ثواب ہوگا۔