💧💧💧 افسوس ناک حالات

آج بازار سے جوتا خریدنے گیا ، دکان میں داخل ہوا تو ایک باریش نوجوان نے خوش آمدید کہتے ہوئے مختلف ڈیزائن دکھائے ۔

میں نے جوان سے پوچھا: آپ کا نام کیا ہے؟

میرا نام تصدق حسین ہے ۔

آپ کی تعلیم؟

دینی تعلیم درس نظامی ، اور دنیوی تعلیم بی اے تک ۔

کتنا عرصہ ہوا ، یہاں کام کرتے ؟

تین ماہ ہونے کو ہیں ۔

آپ کو کوئی اور کام نہیں ملا؟

اس کے جواب میں تصدق حسین نے صرف ایک لفظ کہا:

بس!!

آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟

ماہانہ 14 ہزار ملتے ہیں ، روزانہ کا سو روپیہ اور کمیشن الگ ہے ۔

میں خاموش ہوگیا…………..میرے پاس الفاظ ختم ہوگئے 💧💧

مجھ سے صرف اتنا ہو سکا کہ جوتوں کا ڈبہ ان کے ہاتھ سے لے لیا ……….، وہ اصرار کرتے رہے کہ میں پہنا کر چیک کرواتا ہوں ، میری ڈیوٹی ہے ۔

لیکن………… میں نے ایسا نہیں کرنے دیا —

میرا ضمیر مجھے باربار کَہ رہا تھا:

ان ہاتھوں کو بوسہ دے……….کسی وقت یہ مقدس کتابیں اٹھایا کرتے تھے !!

ہائے افسوس!

جاہل پیر ، بے عمل واعظ ، خوشامدی خطیب ، فاسق نعت خواں ، درباری قوال ہمارے مال سے تجوریاں بھرکے لے گئے ……….. صرف تصدق حسین بےچارہ چودہ پندرہ ہزار نہ لے سکا !!!

میں بلبلِ نالاں ہوں اِک اجڑے گلستاں کا

تاثیر کا سائل ہوں ، محتاج کو داتا دے!

💧💧💧

✍لقمان شاہد

19/3/2018 ء