شب ہجرت کے دو جاں نثار

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

رات کی سیاہ زلفیں اہل شہر کو آغوش میں لے چکی تھی…مگر خلاف معمول اہل شہر بِستروں کی بجائے ننگی تلواریں لئے ایک گھر کی جانب بڑھ رہے تھے…گھر بھی ایسا جہاں شہر بھر کی امانتیں جمع ہوتی تھیں…حیرت ہے کہ امانت رکھنے والوں میں یہی دشمن جاں بھی شامل تھے…رات کے سیاہ آنچل اور ہتھیار بندوں کی روسیاہی میں مقابلہ آرائی زوروں پر تھی…مگر اپنے ہی امین کے خلاف تلواریں دیکھ کر رات ہار گئی اور روسیاہ جیت گئے…

اس سخت رات میں دو جاں نثاروں کی آنکھوں میں عشق ومحبت کے چراغ روشن تھے…چراغ وفا کی روشنائی سے رات کے آنچل پر محبت وجاں نثاری کی لازوال داستان لکھی جارہی تھی… ایک طرف صدیق اکبر کی آنکھیں دروازے پر لگی تھیں… ذرا سا ہوا لہراتی تو آفتاب نبوت کی آمد کا خیال گزرتا… پورے گھر میں عجیب نظارہ تھا…گھر کا ذمہ دار اہل خانہ کو سپرد خدا کرکے گھر چھوڑ رہا تھا… مگر کسی کی آنکھ میں جدائی کا غم تو دور شائبہ غم تک نہیں تھا… پورا گھر انتظام وانصرام میں مصروف اور اپنے مقدر پہ نازاں تھا…

سیدہ اسما سامان سفر تیار کرتی ہیں… توشہ دان میں کھانا رکھ کر اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کرتی ہیں… ایک سے مشک کا منہ باندھتی ہیں…دوسرے توشہ دان باندھتی ہیں تاکہ کھانا گر نہ جائے…اللہ اللہ !!!

خدمت رسالت کا یہ جذبہ دیکھ کر فرشتے بھی عش عش کر اٹھے ہوں گے… ایک طرف باپ اہل خانہ کو چھوڑ کر جارہا ہے… مگر بیٹی “رفاقت رسالت” کا اعزاز ملنے کی وجہ سے سامان سفر تیار کرتے ہوئے حُبّ رسالت میں اس درجہ مخمور ہوجاتی ہیں کہ تاخیر کے خوف سے اپنی کمر کے پٹکے کو ہی چاک کردیتی ہیں… اس جذبہ جاں نثاری کو دیکھ کر جماعت صحابہ نے انہیں “ذات النطاقین” یعنی دو پٹکے والی کے نام سے یاد کیا تاکہ اہل ایمان کے دلوں پر سیدہ اسما کی بے لوث خدمت ومحبت کے نقوش زندہ وتابندہ رہیں…

ادھر کاشانہ نبوت میں سیدنا علی المرتضی کا نصیبہ بلندی پر تھا… نبی رحمت نے اپنی سبز چادر عطا فرمائی… بستر نبوت پر لیٹنے کا اعزاز بخشا… امانتوں کی ادائیگی کا حکم دے کر مدینہ آنے کی بشارت بھی سنائی… اللہ اللہ

ایک ہی رات میں اس قدر اعزازات!!! سیدنا علی جودو کرم کی بارش میں شرابور ہوگئے…

سیانے کہتے ہیں کہ بڑے اعزاز خطرات کے سایہ میں ہی ملتے ہیں… آج یہ بات ایک بار پھر صحیح ثابت ہوئی… ننگی تلواریں،موت کا خوف،امانتوں کا حساب کتاب اور ان کی صحیح سپردگی کی اہم ذمہ داری… ایسے میں بسترِ نبوت پر لیٹنا کسی صاحب جگر اور شجاعت مند ہی کا خاصا تھا…ان تمام مشکلات کے درمیان آقائے دوجہاں کا کرم بالائے کرم…بستر نبوت پھولوں کی سیج سے زیادہ آرام دہ بن گیا… ایک طرف حفاظت رسالت کی خدمت… دوسری جانب بستر نبوت پر لیٹنے کا حسین موقع… مولیٰ علی نصیبہ پر ناز کرتے ہوئے کچھ یوں گویا ہوتے ہیں:

وَقَیتُ بِنَفسی خَیر من وطی الثریٰ

وَمَن طاف بِالبَیت العتیق وبِالحجر

میں نے اپنی جان خطرے میں ڈال اس ذات گرامی کی حفاظت کی

جو اہل زمین اور خانہ کعبہ وحطیم کا طواف کرنے والوں میں سب سے بہتر بلند رتبہ ہیں.

یہ رات سیدنا علی المرتضی کی زندگی کی سب سے یادگار رات بن گئی…ایک سوال کے جواب میں حضرت علی نے اسی رات کو اپنی زندگی کی سب سے خوشنما رات قرار دیا…

سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم “کاشانہ نبوت” سے نکلنے کے بعد مقام “حزورہ” پہنچ گئے… حسب وعدہ صدیق اکبر بھی وہاں پہنچے…صدیق اکبر نے دیکھا کہ راستے میں حضور کے قدم ناز سے زمین پر نشانات بن گئے ہیں…فوراً زمین سے نشانات مٹانا شروع کر دئے تاکہ دشمن سراغ نہ پاسکے… پتھریلا راستہ… خاردار جھاڑیاں… آقائے کریم کے پائے نازک زخمی ہوگئے… آہ! جس ذات گرامی نے کسی کو تکلیف نہ دی آج اسی ذات کو کس قدر تکالیف کا سامنا ہے… خانہ کعبہ سے دور ہونے کا احساس… بے وطنی کا غم… دیار اجداد سے ہجرت کی کسک…رات کے اندھیرے میں نوکیلے پتھر ، خاردار جھاڑیوں میں الجھ کر پائے ناز زخمی ہیں… صدیق اکبر محبوب کے زخمی پائے ناز دیکھ کر بے قرار ہوجاتے ہیں… اور حامل عرش کو باصرار اپنے کاندھوں پر اٹھا لیتے ہیں…

آج دونوں عاشقوں کے عشق کی معراج تھی…ایک عاشق بِسترِ نبوت پر لیٹ کر حفاظت رسالت کی خدمت انجام دے رہا تھا… تو دوسرا عاشق, آفتاب نبوت کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر حفاظت رسالت کی پاسبانی میں جٹا ہوا تھا…ایک رات…ایک محبوب… مگر دو عاشق اپنے محبوب کی محبت میں اپنی جان تک داؤں پر لگائے ہوئے تھے… چشم فلک بھی حیران تھا… ملائکہ بھی عشق وخلوص کا یہ منظر دیکھ کر “کرامت آدمیت” کے معترف تھے…رات کے سینے پر عشق صادق کی قندیل مسکرا رہی تھی… روشنی سے دونوں عالم منور تابناک تھے…بالآخر اہل مدینہ کی خوش نصیبی کا سورج طلوع ہوا… آقائے دوجہاں نے اپنے قدوم میمونت سے یثرب کو مدینہ بنا کر اعزاز بخشا:

ان کے قدموں پہ میں نثار, جن کے قدوم ناز نے

اجڑے ہوئے دیار کو رشک چمن بنا دیا

غلام مصطفےٰ نعیمی

جنرل سیکریٹری تحریک فروغ اسلام دہلی

مؤرخہ 13 رجب المرجب1440ھ

21 مارچ 2019ء بروز جمعرات