أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَخۡذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدۡ نُهُوۡا عَنۡهُ وَاَكۡلِـهِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ‌ ؕ وَاَعۡتَدۡنَـا لِلۡـكٰفِرِيۡنَ مِنۡهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے ‘ اور ان میں سے کافروں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے ‘ اور ان میں سے کافروں کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ (النساء : ١٦١) 

سود کی دو قسمیں ہیں ربا لنسیئہ اور ربا الفضل کی تعریف یہ ہے کہ مدت میں تاخیر کی بنا پر مقروض سے اصل رقم سے ایک معین شرح کے ساتھ زائد وصول کی جائے ‘ اور رباالفضل کی جامع تعریف یہ ہے کہ جن دو چیزوں کی جنس ایک ہو ان میں سے ایک چیز کو دوسری چیز کے بدلہ میں زیادتی کے ساتھ فروخت کرنا خواہ یہ زیادتی وزن میں ہو یا پیمانہ سے ماپ میں ہو یا عدد میں ہو ‘ یہود مقروض سے سود بھی لیتے تھے اور لوگوں کا مال ناحق بھی کھاتے تھے ‘ اور لوگوں کا مال ناحق کھانے کی ایک صورت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے رشوت لے کر کتاب میں تحریف کردیتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 161