ٹِک ٹوک

شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جو اپنے سمارٹ فون سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہو اور “ٹِک ٹوک” سے بے خبر ہو- اگر آپ نہیں جانتے تو ہم بتا دیں کہ یہ ایک سافٹ ویئر ہے جس میں آپ چھوٹی وڈیوز (شارٹ کلپس) بنا سکتے ہیں اور عام (شئر) کر سکتے ہیں- اس میں مختلف ڈھنگ سے وڈیوز بنائی جاتی ہیں مثلاً کوئی ناچ رہا ہے، کوئی گا رہا ہے، کوئی اچھل کود کر رہا ہے تو کوئی کرتب دکھا رہا ہے-

اس ایپلی کیشن نے ہر شخص کو یہ موقعہ دیا ہے کہ بنا فلموں میں کام کیے آپ اپنے کرتب، اپنے ہنر اور اپنی کلا (آرٹ) کو دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں- چھوٹے ہوں یا بڑے، لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب مداری بنے ہوئے ہیں- اس میں بے حیائی، بے ادبی اور بے شرمی کی حدیں پار کی جا رہی ہیں- یہ صرف ایک ایپلی کیشن نہیں بلکہ ایسا آلہ ہے جو لوگوں کے اندر شرم و حیا نام کی چیز کو ختم کر رہا ہے-

ہو گئی محفل تِری کیا بے ادب بے قاعدہ

جو کھڑے رہتے تھے وہ اب ہیں برابر بیٹھے

اس ٹک ٹوک نے صرف دو سے تین سالوں میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیا ہے! ان کروڑوں لوگوں میں نہ جانے کتنے مسلم نوجوان اور لڑکیاں شامل ہیں جو دن رات اپنی نمائش کے نشے میں چور ہیں- وہ نوجوان جنھیں اپنے دین کے لیے خون پسینہ ایک کرنا چاہیے تھا وہ اپنا ڈھیر سارا وقت اس بے ہودہ چیز میں برباد کر رہے ہیں- وہ لڑکیاں جنھیں اپنی آخرت کی فکر میں ڈوبے رہنا چاہیے تھا وہ دنیا کو اپنے پیچھے کھڑا کرنے کی دھن میں ہیں-

آپ کے پاس عقل ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے اور وقت بھی ہے لہذا غور کریں اور پہچانیں کہ آپ کا فائدہ کہاں ہے- اس ایپلی کیشن کی نحوست سے بچیں اور اپنا وقت اچھے کاموں میں لگائیں کیوں کہ یہ وقت دوبارہ نہیں ملنے والا-

حضرت سیف یمانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کا کسی بندے سے اپنی نظر رحمت کو ہٹا لینا یہ ہے کہ بندہ بے کار باتوں میں مشغول ہو جائے اور جو اپنے مقصد حیات کو فراموش کر کے اپنی عمر کا ایک لمحہ بھی گزارے تو اسے ضرور حسرتوں اور ندامتوں کا سامنا کرنا پڑے گا!

(وقت ہزار نعمت، ص114)

عبد مصطفی