امام ربیعہ بن ابی عبد الرحمن

آپ عظیم محدث ہیں تابعی مدنی ہیں ، حضرت انس بن مالک اورسائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں ،امام مالک ، امام شعبہ اورسفیان ثوری وسفیان بن عیینہ کے اساتذہ سے ہیں ،ربیعۃ الرائے سے مشہور ہیں ۔ فقہائے مدینہ میں سے ایک ہیں ۔

امام مالک فرماتے تھے ۔

ذہبت حلاوۃ الفقہ منذمات ربیعۃ۔(تہذیب الہذیب لا بن حجر، ۲/۱۵۳)

جب سے ربیعہ کا وصال ہوا فقہ کی حلاوت جاتی رہی ۔

امام مالک ہی نے فرمایا:۔

علم حدیث میں کمال اسی وقت پیداہوسکتاہے کہ آدمی ناداری اورفقرکا مزہ چکھے ۔ اسکی نظیر میرے استاذ ربیعہ کا واقعہ ہے کہ:۔

اسی علم حدیث کی تلاش وجستجومیں ان کاحال یہ ہوگیا تھا کہ آخر میں گھر کی چھت کی کڑیاں تک بیچ ڈالیں ۔اور اس حال سے بھی گزرنا پڑاکہ مزبلہ جہاں آبادی کی خس وخاشاک ڈالا جاتا ہے وہاں سے منقی یاکھجوروں کے ٹکڑے چن کربھی کھاتے۔(جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۱ /۹۷)