اِنَّاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ كَمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى نُوۡحٍ وَّالنَّبِيّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ‌ ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَعِيۡسٰى وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡنُسَ وَهٰرُوۡنَ وَسُلَيۡمٰنَ‌ ۚ وَاٰتَيۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا‌ ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 163

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ كَمَاۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى نُوۡحٍ وَّالنَّبِيّٖنَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ‌ ۚ وَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اِبۡرٰهِيۡمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ وَاِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ وَالۡاَسۡبَاطِ وَعِيۡسٰى وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡنُسَ وَهٰرُوۡنَ وَسُلَيۡمٰنَ‌ ۚ وَاٰتَيۡنَا دَاوٗدَ زَبُوۡرًا‌ ۞

ترجمہ:

(اے رسول معظم ! ) بیشک ہم نے آپ کی طرف وحی (نازل) فرمائی جیسے ہم نے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کی طرف وحی (نازل) فرمائی اور ہم نے ابراھیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں کی طرف اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی (نازل) فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے رسول معظم ! ) بیشک ہم نے آپ کی طرف وحی (نازل) فرمائی جیسے ہم نے نوح اور ان کے بعد دوسرے نبیوں کی طرف وحی (نازل) فرمائی اور ہم نے ابراھیم اور اسمعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں کی طرف اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی (نازل) فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔ (النساء : ١٦٣) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر یہود کے اعتراض کا جواب : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا (بنوقینقاع کے یہودیوں میں سے) مسکین اور عدی بن زید نے کہا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے بعد کوئی چیز نازل نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اور نبیوں کی طرف وحی نازل فرمائی ہے اسی طرح آپ پر بھی وحی نازل فرمائی ہے۔ (جامع البیان جز ٦ ص ٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

ایک قول یہ ہے کہ جب یہودیوں نے آپ سے یہ کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ پر بھی اسی طرح کتاب نازل کی جائے جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب نازل کی گئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں یہ آیت نازل فرمائی کہ تم نوح ‘ ابراہیم ‘ اسماعیل ‘ اسحاق ‘ یعقوب ‘ ایوب ‘ یونس ‘ ہارون اور سلیمان کو نبی مانتے ہو حالانکہ ان پر بھی آسمان سے کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی تھی ‘ سو تمہارا آسمان سے کتاب نازل کیے جانے کا مطالبہ کٹ حجتی کے سوا اور کچھ نہیں ہے، نبوت کا ثبوت صرف اظہار معجزہ پر موقوف ہے آپ سے پہلے نبیوں کی نبوت بھی معجزہ سے ثابت ہوئی اور آپ نے اپنی نبوت پر متعدد معجزات پیش کیے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی نظیر پیش کرنا یا جس میں کمی بیشی اور تحریف ثابت کرنا آج بھی پوری دنیا کے لیے چیلنج ہے اور قیامت تک رہے گا جب کہ باقی انبیاء (علیہم السلام) کے معجزات میں سے کسی نبی کا معجزہ ان کے جانے کے بعد باقی نہیں رہا تو یہ کس قدر انصاف سے بعید ہے کہ جن نبیوں کے معجزات فانی تھے ان کو نبی مانا جائے اور جس عظیم الشان نبی کا معجزہ زندہ جاوید ہے اس کی نبوت کا انکار کردیا جائے۔ 

انبیاء کے ذکر میں اس آیت میں سب سے پہلے حضرت نوع کا ذکر فرمایا کیونکہ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ‘ یا اس لیے کہ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہوں نے احکام شرعیہ بیان کیے یا اس لیے کہ جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت اسلام تمام روئے زمین کے انسانوں کے لیے ہے اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت بھی تمام روئے زمین کے انسانوں کے لیے تھی۔ 

حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد دوسرے نبیوں کا بالعموم ذکر فرمایا پھر خصوصیت کے ساتھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام لیا ‘ یہ ان کے شرف کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ تمام نبیوں کے سلسلہ آباء میں تیسرے اہم باپ ہیں ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) ‘ حضرت نوح اور پھر حضرت ابراہیم ‘ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر یہود کا رد کرنے کے لیے فرمایا کیونکہ یہودا ان کی نبوت کے منکر تھے ‘ اور حضرت داؤد کو زبور عطا فرمانے کا ذکر فرمایا کیونکہ زبور بھی اسی طرح قسط وار نازل کی گئی تھی جس طرح قرآن مجید قسط وار نازل ہو رہا تھا۔ 

قرآن مجید کو یک بارگی نازل نہ کرنے کی حکمتیں : 

قرآن مجید کی قسط وار نازل ہونے کو یہود نے اپنی کم عقلی سے نقص گردانا حالانکہ اس میں ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بڑی فضیلت ہے کیونکہ کتاب نازل کرنے کو جو رابطہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے زندگی میں صرف ایک بار قائم ہوا وہ رابطہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تاحیات قائم رہا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے پہاڑ طور پر گئے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن مجید کے لیے کہیں جانا نہیں پڑتا تھا ‘ بلکہ آپ جہاں تشریف فرما ہوتے تھے ‘ قرآن مجید وہی نازل ہوجاتا تھا ‘ خواہ آپ بدر کے میدان میں ہوں ‘ احد کی گھاٹیوں میں ہوں ‘ غار ثور میں ہوں ‘ کسی سواری پر ہوں ‘ حضرت عائشہ (رض) کے بستر پر ہوں ‘ جہاں آپ ہوتے تھے قرآن کریم وہیں نازل ہوجاتا تھا ‘ لوگ آپ سے سوالات کرتے تھے ان کے جواب میں آیتیں نازل ہوتیں ‘ یہود اور نصاری کے اعتراضات کے جوابات میں ‘ اور مختلف پیش گوئیوں کے سلسلہ میں آیات نازل ہوتی تھیں ‘ یہ سہولت یک بارگی نزول میں کہاں ہے پھر اگر یکبارگی کتاب نازل ہوتی تو تمام احکام یک بارگی فرض ہوجاتے اور لوگوں کے لیے ایک دم ان پر عمل کرنا اور پرانی عادتوں اور رسموں کا چھوڑنا مشکل ہوتا ‘ بہ تدریج کتاب کے نزول سے لوگوں پر اسلام کا قبول کرنا آسان ہوگیا ‘ قرآن مجید کو یک بارگی نازل نہ کرنے میں یہ فضیلت ‘ باریکیاں اور فوائد ہیں جو یہود کی سمجھ میں نہیں آئے اور ان کو سمجھایا گیا تو انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی سے مانا نہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 163

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.