کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 11 سورہ البقرہ آیت نمبر217 تا 221

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِؕ-قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌؕ-وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِۗ-وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِؕ-وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْاؕ-وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۱۷)

تم سے پوچھتے ہیں ماہ ِحرام میں لڑنےکا حکم (ف۴۱۹) تم فرماؤ اس میں لڑنا بڑا گناہ ہے (ف۴۰۲) اور اللہ کی راہ سے روکنا اور اس پر ایمان نہ لانا اور مسجد حرام سے روکنا اور اس کے بسنے والوں کو نکال دینا (ف۴۲۱) اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں اور ان کا فساد (ف۴۲۲) قتل سے سخت تر ہے (۴۲۳) اور ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیردیں اگر بن پڑے (ف۳۲۴) اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں (ف۴۲۵) اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا

(ف419)

شان نزول: سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں مجاہدین کی ایک جماعت روانہ فرمائی تھی اس نے مشرکین سے قتال کیا ان کا خیال تھا کہ وہ روز جمادی الاخریٰ کا آخر دن ہے مگر درحقیقت چاند ۲۹ کو ہوگیا تھا اور رجب کی پہلی تاریخ تھی اس پر کفار نے مسلمانوں کو عار دلائی کہ تم نے ماہ حرام میں جنگ کی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال ہونے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

(ف420)

مگر صحابہ سے یہ گناہ واقع نہیں ہوا کیونکہ انہیں چاند ہونے کی خبر ہی نہ تھی ان کے نزدیک وہ دن ماہ حرام رجب کا نہ تھا ۔

مسئلہ : ماہ ہائے حرام میں جنگ کی حرمت کا حکم آیہ ” اُقْتُلُوالْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْ تُّمُوْھُمْ” سے منسوخ ہوگیا۔

(ف421)

جو مشرکین سے واقع ہوا کہ انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ور آپ کے اصحاب کو سال حدیبیہ کعبہ معظمہ سے روکا اور آپ کے زمانہ قیام مکہ معظمہ میں آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اتنی ایذائیں دیں کہ وہاں سے ہجرت کرنا پڑی۔

(ف422)

یعنی مشرکین کا کہ وہ شرک کرتے ہیں او رسید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنین کو مسجد حرام سے روکتے اور طرح طرح کی ایذائیں دیتے ہیں۔

(ف423)

کیونکہ قتل تو بعض حالات میں مباح ہوتا ہے اور کفر کسی حال میں مباح نہیں اور یہاں تاریخ کا مشکوک ہونا عذر معقول ہے اور کفار کے کفر کے لئے تو کوئی عذر ہی نہیں ۔

(ف424)

اس میں خبر دی گئی کہ کفار مسلمانوں سے ہمیشہ عدوات رکھیں گے کبھی اس کے خلاف نہ ہوگا اور جہاں تک ان سے ممکن ہوگا وہ مسلمانوں کو دین سے منحرف کرنے کی سعی کرتے رہیں گے۔ ” اِنِ اسْتَطَاعُوْا” سے مستفاد ہوتا ہے کہ بکرمہٖ تعالیٰ وہ اپنی مراد میں ناکام رہیں گے۔

(ف425)

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے اس کی عورت اس پر حلال نہیں رہتی وہ اپنے اقارب کا ورثہ پانے کا مستحق نہیں رہتا اس کا مال معصوم نہیں رہتا اس کی مدح و ثنا و امداد جائز نہیں۔(روح البیان وغیرہ)

(الف) شان نزول : عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں جو مجاہدین بھیجے گئے تھے ان کی نسبت بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ انہیں خبر نہ تھی کہ یہ دن رجب کا ہے اس لئے اس روز قتال کرنا گناہ تو نہ ہوا لیکن اس کا کچھ ثواب بھی نہ ملے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الٰہی رہنا چاہئے اور یہ امید قطعاً پوری ہوگی۔(خازن)

مسئلہ: ” یَرْجُوْنَ ” سے ظاہر ہوا کہ عمل سے اجر واجب نہیں ہوتا بلکہ ثواب دینا محض فضلِ الٰہی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-اُولٰٓىٕكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۱۸)

وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمتِ الٰہی کے امیداور ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف۴۲۵)

(ف425)

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ ارتداد سے تمام عمل باطل ہوجاتے ہیں آخرت میں تو اس طرح کہ ان پر کوئی اجرو ثواب نہیں اور دنیا میں اس طرح کہ شریعت مرتد کے قتل کا حکم دیتی ہے اس کی عورت اس پر حلال نہیں رہتی وہ اپنے اقارب کا ورثہ پانے کا مستحق نہیں رہتا اس کا مال معصوم نہیں رہتا اس کی مدح و ثنا و امداد جائز نہیں۔(روح البیان وغیرہ)

(الف) شان نزول : عبداللہ بن جحش کی سرکردگی میں جو مجاہدین بھیجے گئے تھے ان کی نسبت بعض لوگوں نے کہا کہ چونکہ انہیں خبر نہ تھی کہ یہ دن رجب کا ہے اس لئے اس روز قتال کرنا گناہ تو نہ ہوا لیکن اس کا کچھ ثواب بھی نہ ملے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ ان کا یہ عمل جہاد مقبول ہے اور اس پر انہیں امیدوار رحمت الٰہی رہنا چاہئے اور یہ امید قطعاً پوری ہوگی۔(خازن)

مسئلہ: ” یَرْجُوْنَ ” سے ظاہر ہوا کہ عمل سے اجر واجب نہیں ہوتا بلکہ ثواب دینا محض فضلِ الٰہی ہے۔

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ-وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ۬ؕ-قُلِ الْعَفْوَؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ(۲۱۹)

تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے (ف۴۲۶) اور تم سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں (۳۲۷) تم فرماؤ جو فاضل بچے (ف۳۲۸) اسی طرح اللہ تم سے آیتیں بیان فرماتا ہے

(ف426)

حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر شراب کا ایک قطرہ کنویں میں گر جائے پھر اس جگہ منارہ بنایا جائے تو میں اس پر اذان نہ کہوں اور اگر دریا میں شراب کا قطرہ پڑے پھر دریا خشک ہوا ور وہاں گھاس پیدا ہو اس میں اپنے جانوروں کو نہ چراؤں سبحان اللہ گناہ سے کس قدر نفرت ہے۔ ” رَزَقَناَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اِتِّباَعُھُمْ” شراب؁ ۳ھ میں غزوۂ احزاب سے چند روز بعد حرام کی گئی اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ جو ئے اور شراب کا گناہ اس کے نفع سے زیادہ ہے نفع تو یہی ہے کہ شراب سے کچھ سرور پیدا ہوتا ہے یا اس کی خریدو فروخت سے تجارتی فائدہ ہوتا ہے اور جوئے میں کبھی مفت کا مال ہاتھ آتا ہے اور گناہوں اور مفسدوں کا کیا شمار عقل کا زوال غیرت و حمیت کا زوال عبادات سے محرومی لوگوں سے عداوتیں سب کی نظر میں خوار ہونا دولت و مال کی اضاعت ایک روایت میں ہے کہ جبریل امین نے حضور پر نور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کو جعفرطیار کی چار خصلیتں پسند ہیں۔ حضور نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا انہوں نے عرض کیا کہ ایک تویہ ہے کہ میں نے شراب کبھی نہیں پی’ یعنی حکم حرمت سے پہلے بھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جانتا تھا کہ اس سے عقل زائل ہوتی ہے ا ور میں چاہتا تھا کہ عقل اور بھی تیز ہو، دوسری خصلت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بھی میں نے کبھی بت کی پوجا نہیں کی کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ پتھر ہے نہ نفع دے سکے نہ ضرر، تیسری خصلت یہ ہے کہ کبھی میں زنا میں مبتلا نہ ہوا کہ اس کو بے غیرتی سمجھتا تھا، چوتھی خصلت یہ تھی کہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیونکہ میں اس کو کمینہ پن خیال کرتاتھا،

مسئلہ: شطرنج تاش وغیرہ ہار جیت کے کھیل اور جن پر بازی لگائی جائے سب جوئے میں داخل اور حرام ہیں۔ (روح البیان)

(ف427)

شان نزول :سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی تو آپ سے دریافت کیا گیا کہ مقدار ارشاد فرمائیں کتنا مال راہِ خدا میں دیا جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن)

(ف428)

یعنی جتنا تمہاری حاجت سے زائد ہو ۔ ابتدائے اسلام میں حاجت سے زائد مال کا خرچ کرنا فرض تھا صحابہ کرام اپنے مال میں سے اپنی ضرورت کی قدر لے کر باقی سب راہ خدا میں تصدُّق کردیتے تھے۔یہ حکم آیت زکوۃ سے منسوخ ہوگیا۔

فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰىؕ-قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌؕ-وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۲۲۰)

کہ کہیں تم دنیا اور آحرت کے کام سوچ کر کرو (ف۴۲۹) اور تم سے یتیموں کا مسئلہ پوچھتے ہیں (ف۴۳۰) تم فرماؤ ان کا بھلا کرنا بہتر ہے اور اگر اپنا ان کا خرچ ملالو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے اور اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈالتا بےشک اللہ زبردست حکمت والا ہے

(ف429)

کہ جتنا تمہاری دنیوی ضرورت کے لئے کافی ہو وہ لے کر باقی سب اپنے نفع آخرت کے لئے خیرات کردو (خازن)

(ف430)

کہ ان کے اموال کو اپنے مال سے ملانے کا کیا حکم ہے شان نزول آیت ” اِنَّ الَّذِیْنَ یَأ کُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْماً” کے نزول کے بعد لوگوں نے یتیموں کے مال جدا کردیئے اور ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا اس میں یہ صورتیں بھی پیش آئیں کہ جو کھانا یتیم کے لئے پکایا اور اس میں سے کچھ بچ رہا وہ خراب ہوگیا اور کسی کے کام نہ آیا اس میں یتیموں کا نقصان ہوا یہ صورتیں دیکھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر یتیم کے مال کی حفاظت کی نظر سے اس کا کھانا اس کے اولیاء اپنے کھانے کے ساتھ ملالیں تو اس کا کیا حکم ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یتیموں کے فائدے کے لئے ملانے کی اجازت دی گئی۔

وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّؕ-وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْۚ-وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ-وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۚۖ-وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖۚ-وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠(۲۲۱)

اور شرک والی عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک مسلمان نہ ہوجائیں (ف۴۳۱) اور بےشک مسلمان لونڈی مشرکہ سے اچھی (ف۴۳۲) اگرچہ وہ تمہیں بھاتی ہو اور مشرکو ں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں (ف۴۳۳) اور بےشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا اگرچہ وہ تمہیں بھاتاہو وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں (ف۴۳۴) اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں

(ف431)

شانِ نزول:حضرت مرثد غَنَوِی ایک بہادر شخص تھے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مکّہ مکرّمہ روانہ فرمایا تاکہ وہاں سے تدبیر کے ساتھ مسلمانوں کو نکال لائیں وہاں عناق نامی ایک مشرکہ عورت تھی جو زمانہ جاہلیت میں ان کے ساتھ محبت رکھتی تھی حسین اور مالدار تھی جب اس کو ان کی آمد کی خبر ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئی اور طالب وصال ہوئی آپ نے بخوفِ الٰہی اس سے اعراض کیا اور فرمایا کہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا تب اس نے نکاح کی درخواست کی آپ نے فرمایاکہ یہ بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت پر موقوف ہے اپنے کام سے فارغ ہو کر جب آپ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حال عرض کرکے نکاح کی بابت دریافت کیااس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر احمدی) بعض علماء نے فرمایا جو کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کفر کرے وہ مشرک ہے خواہ اللہ کو واحد ہی کہتا ہو اور توحید کا مدعی ہو (خازن)

(ف432)

شانِ نزول: ایک روز حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کسی خطاپر اپنی باندی کے طمانچہ مارا پھر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اس کاذکر کیاسید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کاحال دریافت کیاعرض کیا کہ وہ اللہ کی وحدانیت اور حضور کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ رمضان کے روزے رکھتی ہے خوب وضو کرتی ہے اور نماز پڑھتی ہے حضور نے فرمایا وہ مؤمنہ ہے آپ نے عرض کیا:تو اس کی قسم جس نے آپ کو سچا نبی بنا کر مبعوث فرمایا میں اس کو آزاد کرکے اس کے ساتھ نکاح کروں گا اور آپ نے ایسا ہی کیااس پر لوگوں نے طعنہ زنی کی کہ تم نے ایک سیاہ فام باندی کے ساتھ نکاح کیاباوجوویکہ فلاں مشرکہ حرّہ عورت تمہارے لئے حاضر ہے وہ حسین بھی ہے مالدار بھی ہے اس پر نازل ہوا۔ ” وَلَاَمَۃٌ مُّوْئمِنَۃٌ” یعنی مسلمان باندی مشرکہ سے بہتر ہے خواہ مشرکہ آزاد ہو اور حسن و مال کی وجہ سے اچھی معلوم ہوتی ہو۔

(ف433)

یہ عورت کے اولیاء کو خطاب ہے

مسئلہ :مسلمان عورت کا نکاح مشرک و کافر کے ساتھ باطل و حرام ہے۔

(ف434)

تو ان سے اجتناب ضروری اور ان کے ساتھ دوستی و قرابت ناروا ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.