أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رُسُلًا مُّبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ لِئَلَّا يَكُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌ ۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے) خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت نہ رہے، اور اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ پر کوئی حجت نہ رہے، اور اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے۔ (النساء : ١٦٥) 

یک بارگی کتاب نازل نہ کرنے کے اعتراض کا ایک اور جواب : 

اس آیت میں بھی یہود کے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یک بارگی پوری کتاب کیوں نہیں نازل کی گئی ‘ جواب کی تقریر یہ ہے کہ نبیوں اور رسولوں کو بھیجنے سے اصل مقصود یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی اور عبادت کرنے والوں اور اس کے احکام کی اطاعت کرنے والوں کو ثواب کی بشارت دیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت سے روگردانی کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں اور یہ مقصد صرف نبی پر کتاب نازل کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ وہ کتاب الواح (تختیوں) کی صورت میں یکبارگی نازل کی جائے یا متفرق طور پر تھوڑے تھوڑے کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام نازل کیے جائیں ‘ بلکہ تھوڑے تھوڑے احکام وقتا فوقتا نازل کرنا مصلحت اور حکمت کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ اگر تمام احکام ایک دم نازل کردیئے جائیں تو ان سب پر فورا عمل کرنا دشوار ہوگا ‘ اور بنو اسرائیل کی سرکشی اور بغاوت کی وجہ بھی یہی تھی کہ ان پر یکبارگی تمام احکام کا بوجھ ڈال دیا گیا تھا ‘ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آپ کے وسیلہ سے ہم پر یہ رحمت فرمائی کہ تھوڑے تھوڑے کرکے احکام نازل کیے شراب کی حرمت تدریجا نازل کی ‘ کتوں سے اجتناب کا حکم بھی بہت بعد میں دیا ‘ جوئے کو بھی بعد میں حرام کیا کیونکہ جو لوگ برسوں سے ان کاموں کے عادی تھے ان کے لیے ان کاموں کو یک لخت چھوڑنا آسان نہ تھا ‘ مکہ کی زندگی میں پہلے ان کو نماز کا پابند کیا ‘ پھر مدینہ منورہ میں جہاد ‘ زکوۃ اور روزے کے احکام نازل کیے اس کے بعد حج فرض کیا ‘ پھر بتدریج مسلمانوں کو تمام برے کاموں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ سو واضح ہوا کہ قرآن مجید میں جو تھوڑے تھوڑے کرکے احکام نازل کیے گئے ہیں۔ مصلحت اور اللہ کی رحمت کے بہت زیادہ قریب ہیں اور اس پر یہود کا اعتراض بالکل بےجا اور ان کی کم عقلی پر مبنی ہے۔ 

رسول کے بغیر محض عقل سے ایمان لانے کے وجوب میں مذاہب :

علامہ عبدالحق خیرآبادی متوفی ١٣١٨ ھ لکھتے ہیں : 

بعض احناف نے یہ کہا ہے کہ بعض احکام کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے ‘ اس لیے انہوں نے کہا کہ ایمان واجب ہے اور کفر حرام ہے ‘ اسی طرح ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو ‘ مثلا کذب اور جہل وغیرہ ‘ یہ بھی حرام ہے ‘ حتی کہ عقل مند بچہ جو ایمان اور کفر میں تمیز کرسکتا ہو اس پر ایمان لانا واجب ہے ‘ اور اس مسئلہ میں ان کے اور معتزلہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ‘ اور وہ (احناف) اس کے قائل ہیں کہ بعض اشیاء کا حکم عقل سے معلوم ہوجاتا ہے اور شرع پر موقوف نہیں ہوتا ‘ اور امام ابوحنیفہ (رح) سے یہ منقول ہے کہ جو شخص اپنے خالق سے جاہل ہو اس کو عذر مقبول نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ اللہ کے وجود اور اس کی ذات پر دلائل کا مشاہدہ کر رہا ہے ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان لانا تمام عقلاء کے نزدیک صفت کمال ہے اور اللہ تعالیٰ کا کفر کرنا سب کے نزدیک صفت نقصان ہے ‘ نیز ایمان کا معنی ہے نعمت کا شکر ادا کرنا اور یہ صفت کمال ہے اور کفر کرنا نعمت کا کفر ہے اور یہ صفت نقصان ہے ‘ پس عقل کے نزدیک ایمان حسن ہے اور کفر قبیح ہے لہذا اگر انسان اس کام کو ترک کر دے جو عقل کے نزدیک حسن ہے تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا ‘ خواہ اس تک اللہ کا حکم نہ پہنچے اور وہ معذور نہیں ہوگا ‘ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا کیونکہ اس کے پاس بالفعل اللہ کا حکم نہیں پہنچا ‘ اور عقل پر اعتماد کلی نہیں ہے۔ 

امام ابوحنیفہ کے مذہب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر رسول کے بھیجنے اور اس کی دعوت کے بغیر ایمان لانا واجب ہو تو اس سے لازم آئے گا کہ اگر کوئی شخص عقل کے حکم پر اللہ اور اس کی صفات پر ایمان لائے بغیر مرجائے تو لازم آئے گا کہ رسولوں کے بھیجے بغیر بھی اس کو عذاب دیا جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ (الاسراء : ١٥) 

ترجمہ : ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول نہ بھیج دیں۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی انسان پر غور وفکر کی مدت گزر جائے تو پھر اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا ‘ کیونکہ غور وفکر کی مدت عقل کو متنبہ کرنے کے لیے رسولوں کی بعث کے قائم مقام ہے ‘ اور یہ مدت مختلف ہوتی ہے، کیونکہ لوگوں کی عقلیں مختلف ہوتی ہیں۔ امام فخر الاسلام نے اصول بزدوی میں یہ کہا ہے کہ ہم جو کہتے ہیں کہ انسان عقل سے مکلف ہوتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ اس کی تجربہ سے مدد فرماتا ہے اور اس کو انجام کا ادراک کرنے کی مہلت مل جاتی ہے تو پھر وہ معذور نہیں رہے گا۔ خواہ اس کو رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو ‘ جیسا کہ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ کم عقل شخص جب پچیس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس سے اس کے مال کو روکا نہیں جائے گا لیکن اللہ پر ایمان لانے کے باب میں عمر کی کوئی حد نہیں مقرر کی گئی۔ بہرحال جب انسان پر غور وفکر کی مدت گزر جائے جس مدت میں اس کا دل متنبہ ہو سکے تو یہ مدت اس کے حق میں رسول کی دعوت کے قائم مقام ہے۔ 

ہم نے بیان مذاہب کی جو تقریر کی ہے اس پر یہ مسئلہ متفرع ہوتا ہے کہ جو انسان دوردراز کے پہاڑوں میں بالغ ہو اور اس تک رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو ‘ اور نہ اس نے ضروریات دین کا عقیدہ رکھا ہو اور نہ احکام شرعیہ پر عمل کیا ہو ‘ تو معتزلہ اور احناف کی ایک جماعت کے نزدیک اس کو آخرت میں عذاب ہوگا ‘ کیونکہ اس کی عقل جن احکام کا ادراک کرنے میں مستقل تھی اس نے اس کے تقاضے پر عمل نہیں کیا ‘ صحیح یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ معتزلہ اور بعض احناف کے نزدیک اس کو مطلقا کفر کے اختیار کرنے پر عذاب ہوگا ‘ خواہ وہ بلوغت کی ابتداء میں کفر کو اختیار کرے خواہ غور وفکر کی مدت گزرنے کے بعد کفر کو اختیار کرے ‘ اسی طرح اگر وہ ایمان نہیں لایا پھر بھی اس کو عذاب ہوگا خواہ وہ بلوغت کی ابتداء میں اللہ پر ایمان نہ لایا ہو یا غور و فکر کی مدت گزرنے کے بعد ایمان نہ لایا ہو ‘ اور اشاعرہ اور جمہور حنیفہ کے نزدیک اس کو عذاب نہیں ہوگا ‘ کیونکہ حکم شرع سے ثابت ہوتا ہے اور مفروض یہ ہے کہ اس شخص کے پاس شریعت کی دعوت نہیں پہنچی ‘ اس لیے اشاعرہ اور جمہور حنیفہ کے نزدیک اس شخص کے ایمان نہ لانے یا کفر کرنے کی وجہ سے اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا کیونکہ ان کے نزدیک شرط یہ ہے کہ انسان تک تمام احکام کی دعوت پہنچ جانی لازم ہے۔ (شرح مسلم الثبوت ص ٦٢۔ ٦٠‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ) 

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ : 

(١) جمہور معتزلہ اور بعض احناف کے نزدیک رسول کی بعثت نہ ہو پھر بھی انسان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کفر نہ کرے ‘ اگر وہ ایمان نہیں لایا اور اس نے کفر کیا تو اس کو عذاب ہوگا۔ 

(٢) امام ابوحنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ اگر شخص نے اللہ کی معرفت حاصل نہ کی تو وہ مستحق عذاب ہوگا خواہ اس کو عذاب نہ ہو۔ 

(٣) اشاعرہ اور جمہور احناف کا مذہب یہ ہے کہ جب تک کسی شخص کے پاس رسول کی دعوت اور شریعت کا پیغام نہ پہنچے وہ ایمان لانے یا کسی اور حکم کو بجا لانے کا مکلف نہیں ہے۔ جمہور کا استدلال النساء : ١٦٥‘ الاسراء : ١٥ اور حسب ذیل آیت سے ہے : 

(آیت) ” ولو انا اھلکنا ھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا فنتبع ایتک من قبل ان نذل ونخزی “۔ (طہ : ١٣٤) 

ترجمہ : اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب میں ہلاک کردیتے تو وہ ضرور کہتے اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی اتباع کرتے ‘ اس سے پہلے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوجاتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 165