0129092017

مندرجہ بالا حدیث کی سند و متن کی تحقیق کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے برابر ہے کیونکہ یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے جس کو خودغیرمقلدین حضرات قرآن کے بعداصح الکتب کادرجہ دیتے ہیں۔ یہ حدیث جلیل القدرصحابی رسول حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں آپؓ رسول اﷲﷺ کی نمازکے بارے میں بیان فرماتے ہوئے صرف تکبیرتحریمہ کے رفع یدین کا ذکرکرتے ہیں باقی کسی مقام پررفع یدین کا ذکرنہیں کرتے جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ صرف تکبیرتحریمہ کے وقت رفع یدین کرنا افضل ہے۔

زبیر علی زئی صاحب اور ان کے متبعین کی طرف سےپیش کیئے جانے والےاشکالات کا تحقیقی جائزہ اور ان کے مدلل جوابات

اشکال نمبر۱: مذکورہ حدیث میں ایسا کوئی لفظ نہیں کہ ان مقامات پررفع الیدین نہیں کرنا چاہئے اور نہ محدثین میں سے کسی نے اس حدیث کو پیش کرکے رفع یدین کو منسوخ یا متروک کہاہے۔محدثین کرام نے جتناروایات کو سمجھا ہے اتنا شاید ہی آج کوئی سمجھ سکے۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۳۳)

جواب نمبر۱: زبیرعلی زئی صاحب کا پہلا اشکال پڑھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہےکہ موصوف کے پاس نہ تو اپنے مؤقف کے دفاع میں کوئی مستنددلیل ہے اور نہ ہی اس کی تائیدمیں کوئی معقول وجہ ہے جس سے وہ اپنے مؤقف کو صحیح ثابت کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ زئی صاحب مذکورہ حدیث میں ایسا لفظ تلاش کررہے ہیں جس سے ان مقامات پر رفع یدین نہ کرنے کا حکم ملتاہو۔ شاید موصوف اس بات سے بھی لاعلم ہیں یا لاعلمی کا اظہار فرمارہے ہیں کہ اگرحدیث میں کسی ایک مقام پرکوئی عمل کیا جارہا ہو اوروہی عمل دوسرے مقامات پرنہیں کیا جارہا ہوتو یقیناًیہ اس بات کی دلیل ہے کہ جس مقام پر یہ عمل کیاجارہا ہے وہیں کرنا چاہیے اوربقیہ مقامات پرنہیں کرنا چاہئے۔

رہا سوال اس بات کا کہ محدثین میں سے کسی نے بھی اس حدیث سے رفع یدین کومنسوخ یا متروک قرار نہیں دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ اس حدیث میں تکبیرتحریمہ کےرفع یدین کے علاوہ باقی مقامات پررفع یدین نہ کرنے کاحکم نہیں ملتابلکہ رسول اﷲﷺکےمبارک عمل سے پتہ چلتا ہے کہ آپﷺ نے دورانِ نماز تکبیرتحریمہ کا رفع یدین تو کیا لیکن دوسرے مقامات پررفع یدین نہیں کیالہٰذا محدثین کرامؒ نے اس حدیث سے منسوخیت کی دلیل نہیں لی۔ دوسری بات یہ کہ محدثین کے پاس رفع یدین کی منسوخیت پراور بھی بہت سی احادیث ہیں جن سے رفع یدین کا منسوخ و متروک ہونا ثابت ہوتاہے، لہٰذا انہوں نے دوسری احادیث کو اس حدیث پرترجیح دی جن میں تکبیرتحریمہ کےرفع یدین کے علاوہ باقی مقامات پررفع یدین کرنے سے منع کرنے کا واضح حکم ملتاہے۔ حضرت ابو حمیدساعدیؓ کی حدیث میں تکبیراولیٰ کے رفع یدین کے علاوہ باقی مقامات پررفع یدین نہ ہونا رفع یدین کی منسوخیت پر پیش کی جانے والی دوسری احادیث کی زبردست تائیدہے۔

اشکال نمبر۲: حافظ ابن حبانؒ کے نزدیک وہ شخص جاہل ہے جو اس حدیث کو رفع یدین کے خلاف پیش کرتا ہے۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۳۴)

جواب نمبر۲: زبیرعلی زئی صاحب کی کتابوں اور رسالوں کے مطالعہ سے یہ بات تو کھل کرسامنے آگئی کہ یہ جو تمام غیرمقلدین حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے نزدیک دلیل شرعی تین ہیں۔ قرآن و حدیث اور اجماع۔ یہ دعویٰ ۱۰۰ فیصد غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔ کیونکہ زبیرعلی زئی صاحب نے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لئے جگہ جگہ آئمہ کرامؒ کے بلادلیل اقوال کا سہارا لیاہے، اور بقول آپ اور آپ کے فرقے کے بلادلیل بات ماننا تقلیدہےاورآپ اور آپ کے فرقے کے نزدیک تقلید حرام ہے۔ آپ کے پاس اس بات کی دلیل کیا ہے کہ حافظ ابن حبانؒ کی بات درست ہے؟ زبیرعلی زئی صاحب اور ان کے متبعین سے گزارش ہے کہ اگررفع یدین کے مسئلے پرکسی محدث امام کے بلادلیل قول کی پیروی کرنی ہے تو ان آئمہ کرامؒ کے اقوال کی پیروی کریں جن کی صداقت و ثقاہت پرامت مسلمہ کا اجماع ہےجیساکہ:

’’وَلَقَدْ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي دَاوُد، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: ثِنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: مَا رَأَيْت فَقِيهًا قَطُّ يَفْعَلُهُ، يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي غَيْرِ التَّكْبِيرَةِ الآُولَى‘‘۔ ’’ابن ابی داؤدؒ نے احمد بن یونسؒ سے انہوں نے امام ابوبکربن عیاش رحمة اﷲ علیہ سےنقل کیاکہ میں نے کسی عالم فقیہ کو کبھی تکبیرافتتاح کے علاوہ رفع یدین کرتے نہیں پایا‘‘۔ (المعانی الآثار للطحاوی: ج۱، ص۲۲۸)

’’فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الرُّكُوعِ وَالْإِحْرَامِ قَالَ: وَقَالَ مَالِكٌ: لَا أَعْرِفُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ فِي شَيْءٍ مِنْ تَكْبِيرِ الصَّلَاةِ لَا فِي خَفْضٍ وَلَا فِي رَفْعٍ إلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ شَيْئًا خَفِيفًا وَالْمَرْأَةُ فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: وَكَانَ رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ مَالِكٍ ضَعِيفًا إلَّا فِي تَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ‘‘۔ امام مالك رحمه الله فرماتے ہیں کہ ’’میں نمازکی تکبیرات میں کسی جگہ رفع اليدين نہیں جانتا نہ رکوع میں جاتے وقت اور نہ رکوع سے اٹھتے وقت مگر صرف نمازکے شروع میں تکبیر تحریمہ کے وقت‘‘ ، امام مالک کے صاحب وشاگرد ابن القاسم فرماتے ہیں کہ ’’امام مالك رحمه الله فرماتے ہیں رفع اليدين کرنا ضعیف ہے مگرصرف تکبیرتحریمہ میں ‘‘۔(المدونة الكبرى للإمام مالك: ج۱، ص ۱۶۵ – دار الفكر بيروت)

اشکال نمبر۳: حافظ زبیرعلی زئی نے لکھا ہے: ’’بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ راوی ایک روایت بیان کرتا ہے، اس کے بعض شاگرداسے مکمل مطول اور بعض شاگرد مختصر و ملخص بیان کرتے ہیں‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷ ،صفحہ نمبر۳۵)

جواب نمبر۳: تعجب کی بات ہے کہ زبیرعلی زئی صاحب کویہ قاعدہ کلیہ ترکِ رفع یدین والی احادیث کے متعلق تو یاد رہتا ہے لیکن سجدوں کےرفع یدین کے بارے میں موصوف یہ قاعدہ کلیہ بھول جاتےہیں۔ حالانکہ جن صحابہ کرامؓ سے رکوع کے رفع یدین کی احادیث مروی ہیں ان تمام صحابہ کرامؓ سے سجدوں کے رفع یدین کی احادیث بھی مروی ہیں تو وہاں انہیں یہ بات یاد نہیں رہتی کہ بعض شاگرد جنہوں نے صرف رکوع کے رفع یدین کا ذکرکیا ہےوہ مختصر و ملحض بیان کیا ہے اور جن شاگردوں نے رکوع کے ساتھ سجدوں کے رفع یدین کا بھی ذکرکیا ہے، انہوں نے مکمل مطول بیان کیا ہے۔

اشکال نمبر۴: آل بریلویہ کی عجیب حالت ہے کہ سیدنا ابوحمیدؓ کی صحیح بخاری والی حدیث میں رفع یدین کا ذکر نہ ہونے کی وجہ سے رفع یدین کو متروک و منسوخ کہتے ہیں۔ البتہ ہم یہی کہیں گے کہ آپ کی بیان کردہ/نقل کردہ حدیث میں رفع یدین کا زیادہ سے زیادہ عدم ذکر تو ہے اور عدم ذکر کا عدم شئی کو مستلزم نہ ہونا بین الفریقین مسلمہ کا قاعدہ کلیہ ہے، اگر اس اصول کا انکار کیاجائے، اسے تسلیم نہ کیا جائے تو یہ بہت بڑے فتنہ کا سبب بن سکتا ہے۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۴۷، ۴۵)

جواب نمبر۴: غیرمقلدین حضرات کی عجیب حالت ہےکہ انہیں سیدنا ابو حمیدساعدیؓ کی صحیح بخاری والی حدیث میں رکوع کےرفع یدین کا ذکرنہ ہونے پریہ قاعدہ کلیہ یاد رہتا ہے کہ عدم ذکر عدم شئی کو مستلزم نہیں لیکن اثبات رفع یدین کی صحیح بخاری ومسلم والی احادیث میں سجدوں کے رفع یدین کا ذکر نہ ہونے پریہ قاعدہ کلیہ یاد نہیں رہتا۔ لہٰذاہم بھی یہی کہیں گے کہ آپ کی بیان کردہ/نقل کردہ اثبات رفع یدین والی احادیث میں سجدوں کی رفع یدین کا زیادہ سے زیادہ عدم ذکر ہی تو ہے تو پھر آپ سجدوں میں رفع یدین کرنا کیوں ناپسند فرماتے ہیں؟ اس لئے زبیرعلی زئی صاحب اور ان کے متبعین سے درخواست ہے کہ پہلے خود اس قاعدہ کلیہ پر عمل کرکے دکھائیں پھر ہمیں اس پرعمل کرنے کی تلقین کریں۔

حقیقت یہ ہے کہ آل بریلویہ کا استدلال اس قاعدہ کے خلاف نہیں، اس لئے کہ اصول یہ ہےکہ:

’’ولکن السکوت فی معرض الحاجۃ إلى البیان بیان‘‘ ۔ وہ مقام جہاں ایک شے کو بیان کرنا چاہیے، وہاں اس کے بیان کو چھوڑنے کا مطلب اس شے کا عدم بیان کرنا ہوتاہے۔ (مرعاۃ المصابیح لعبیداللہ المبارکپوری: ج۳، ص۳۸۵؛ روح المعانی: ج۱۸، ص۷)

مندرجہ بالا حدیث میں حضرت ابو حمید ساعدیؓ رسول اﷲﷺکی نماز کے اس نقشہ کو بیان فرمارہے ہیں جو دیکھنے سے نظر آتا ہے، کمافی الحدیث ’’رایتہ‘‘ (یعنی میں نے انھیں دیکھا)۔ اگرآپؓ نے رسول اﷲﷺ کورفع یدین عندالرکوع وبعدالرکوع کرتے دیکھا ہوتاتو ضرور بیان فرماتے جیساکہ تکبیرتحریمہ کے رفع یدین کو بیان فرمایا۔

اشکال نمبر۵: اس حدیث میں نماز کے اور بھی بہت سے اراکین کا ذکر نہیں ہے مثلاً: قبلہ رخ ہونا، ہاتھ باندھنا، رکوع، قومہ اور سجدوں میں کیا پڑھا جائے، دوسرے سجدےکا، جلسہ میں بیٹھنے کااوراسی طرح اس حدیث میں سجدے کے وقت ناک کو زمین پررکھنے اورتشہدکے وقت انگلی سے اشارہ کرنے کا بھی کوئی ذکر نہیں ہےتو کیا یہ تمام اراکین بھی رفع یدین کی طرح منسوخ ہوگئے؟(ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۳۵-۴۵)

جواب نمبر۵: زبیرعلی زئی صاحب کے بچکانہ و احمقانہ اعتراضات پڑھ کر اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موضوف کا علمی معیار کیاہے۔ ایسے ناقص العقل اعتراضات تو علم حدیث کا ایک ادناطالب علم بھی نہیں کریگا جوموصوف نے اپنے مؤقف کے دفاع میں کیئے ہیں۔ یہ بات تو ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے کہ ’’نمازمیں قبلہ رخ ہونا، ہاتھ باندھنا، رکوع، قومہ اور سجدوں میں کیا پڑھنا ، دوسرے سجدے، جلسہ میں بیٹھنا، سجدے کے وقت ناک کو زمین پررکھنااورتشہدکے وقت انگلی سے اشارہ کرنا‘‘ یہ سب نماز کے وہ افعال ہیں جن پر ابتداءِاسلام سے لیکرآج تک کسی مسلمان نے اختلاف نہیں کیا اور نہ ہی ان میں سے کسی ایک عمل کو منسوخ قراردیاہےاور کوئی ایک ضعیف یا موضوع روایت بھی نہیں ملتی جس میں ان افعال کے منسوخ ہونے کاذکرملتا ہو، پھر کوئی احمق ہی ہوگا جو حضرت ابو حمیدساعدیؓ کی حدیث میں ان افعال کا ذکرنہ پاکران کے منسوخ ہونے کاسوال کرے۔ جبکہ ترکِ رفع الیدین عندالرکوع وبعدالرکوع کی منسوخیت پرابتداءِ اسلام سے لیکر آج تک صحابہ کرامؓ، تابعینؒ وتبع تابعینؒ، آئمہ مجتہدین و محدثین سمیت امت مسلمہ کا سب سے بڑاگروہ عمل پیرارہا ہے اوراس کی منسوخیت پرکتب احادیث کی تمام کتابوں میں سینکڑوں صحیح و ضعیف احادیث رقم ہیں۔

دوسری بات یہ کہ اگر حضرت ابو حمیدساعدیؓ کی حدیث میں رفع یدین کا سرے سے ذکرہی نہیں ہوتا تو عدم ذکرکا جواز بنتا تھا۔لیکن اس حدیث میں تکبیرتحریمہ کے رفع یدین کا ذکر موجود ہے پررکوع میں جانے اور رکوع سے سراٹھانے کے وقت کیئے جانے والے رفع یدین کا ذکرموجود نہیں ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت ابو حمید ساعدیؓ نبی کریمﷺکی نمازبیان کرتے ہوئے تکبیرتحریمہ کے رفع یدین سمیت رکوع کرتے ہوئے گھٹنوں کو پوری طرح پکڑنے اور پیٹھ کو جھکادینے کا ذکر تو کرتے ہیں، رکوع سے سر اٹھانے پرسیدھے کھڑے ہو جانےحتیٰ کہ تمام جوڑ سیدھے ہو جانے کا بھی ذکرکرتے ہیں لیکن رکوع میں جاتے ہوئےاور رکوع سے سراٹھاتے ہوئے رفع یدین کا ذکرنہیں کرتے۔حضرت ابو حمیدساعدیؓ کی حدیث میں رسول اﷲﷺ کاتکبیرتحریمہ کارفع یدین کرنا اور رکوع میں جاتے اور سراٹھاتے وقت رفع یدین نہ کرنااس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اﷲﷺکا آخری عمل ترکِ رفع یدین ہی تھا۔

اشکال نمبر۶: سیدنا ابو حمید ساعدیؓ کی صحیح حدیث سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب افتتاح الصلاۃ میں بھی موجود ہےجس میں ان چار مقامات پر رفع یدین کا ذکر موجود ہے۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۳۷)

جواب نمبر۶: زبیرعلی زئی صاحب کا حضرت ابو حمید ساعدیؓ کی صحیح بخاری والی حدیث کے مقابلے میں سنن ابی داؤدکی ایک ضعیف حدیث پیش کرنا اور اسے صحیح قرار دینا سراسر جھوٹ اور عام مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے۔ کیونکہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابو حمید ساعدیؓ سے مروی اثبات رفع یدین کی حدیث کی سندمنقطع، مضطرب اورضعیف ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

۱۔ یہ روایت مضطرب ہے کیونکہ ابوداؤد میں اس کی سند یوں ہے۔ ’’حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، – وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَ – أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، – يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ – أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ‘‘۔ (سنن ابی داؤد: باب افتتاح الصلاۃ، ج۱، ص۱۰۶)

اور امام بیہقیؒ نے اس کی سند یوں نقل کی ہے۔ ’’أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّفِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ الْحَارِثُ بْنُ رِبْعِيٍّ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ‘‘۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی: ج۲، ص۱۰۵)

امام بیہقیؒ نے اسے ایک دوسرے طریق سے بھی روایت کیا ہےجس کی سند یوں نقل کی ہے۔ ’’أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا: ثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَأَبُو حُمَيْدٍ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ ‘‘۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی: ج۲، ص۱۰۶)

۲۔ امام طحاویؒ فرماتے ہیں کہ: ’’قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَأَمَّا حَدِيثُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، فَإِنَّهُمْ يُضَعِّفُونَ عَبْدَ الْحَمِيدِ، فَلاَ يُقِيمُونَ بِهِ حُجَّةً، فَكَيْفَ يَحْتَجُّونَ بِهِ فِي مِثْلِ هَذَا۔ وَمَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ لَمْ يَسْمَعْ ذَلِكَ الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي حُمَيْدٍ، وَلاَ مِمَّنْ ذُكِرَ مَعَهُ فِي ذَلِكَ الْحَدِيثِ بَيْنَهُمَا رَجُلٌ مَجْهُولٌ، قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ الْعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْهُ، “عَنْ رَجُلٍ”، وَأَنَا ذَاكِرٌ ذَلِكَ فِي بَابِ الْجُلُوسِ فِي الصَّلاَةِ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ وَحَدِيثُ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ هَذَا، فَفِيهِ “فَقَالُوا جَمِيعًا صَدَقْت” فَلَيْسَ يَقُولُ ذَلِكَ أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ‘‘۔ ’’ عبد الحمید ابن جعفر کو جب وہ خود ضعیف قرار دیتے ہیں اور اس سے احتجاج نہیں کرتے تو پھر اس کی حدیث سے کس طرح حجت پکڑتے ہیں ۔ اس کی روایت سے استدلال اس موقع پر کیوں درست ہوگا۔ یہ روایت منقطع ہےکیونکہ محمد بن عمروبن عطاءکا سماع خود حضرت ابو حمید ساعدی سے ثابت نہیں ہے، باب صفۃالجلوس میں یہی سند مذکور ہے اس میں محمدبن عمروبن عطاءکے بعدعطاف بن خالد نے ’عن رجل‘ کہہ کرتذکرہ کیا ہے تو یہ مجہول راوی کی روایت غیرمعتبرہے۔ عبدالحمیدجعفرکے کئی شاگردہیں: ۱۔ ابوعاصم، ۲۔ یحییٰ بن سعیدبن قطان، ۳۔ ہشیم بن بشیروغیرہ۔ ابو عاصم کی اس مذکورۃ الصدرروایت میں تو فقالواجمیعاصدقت کے الفاظ ہیں جبکہ دیگرشاگردوں میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتامعلوم ہوتا ہے، یہ ان کا اضافہ ہے۔ (شرح المعانی الآثار: ج۱، ص۲۲۷-۲۲۸)

امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منقطع ہے۔ (کتاب العلل لابن ابی حاتم: ج۱، ص۱۶۳)

۳۔ ابو داؤد کی حدیث کاایک راوی عبدالحمیدبن جعفرہے جوضعیف، خطاکار اور قدری ہےجس کے بارے میں محدثین کرامؒ فرماتے ہیں:

۱. حافظ ابن حجرؒ جرح تعدیل کے سب سے بڑے امام یحییٰ بن سعید القطانؒ کی جرح کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں: ’’ونقل عباس عن ابن معین، قال: کان یحیٰ بن سعید یضعف عبدالحمیدبن جعفر، وقدروی عنہ‘‘۔ امام الجرح والتعدیل حضرت یحییٰ بن معینؒ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس(عبدال

حمیدبن جعفر)سے روایت بھی لیتے تھے تو ابن معینؒ نے فرمایا کہ حضرت یحییٰ القطانؒ اس سے روایت بھی لیتے تھے اور ساتھ ہی اس کی تضعیف بھی کرتے تھے اور یہ تقدیر کا منکر تھا(تہذیب التہذیب: ج۳، ص۴۷۴)

امام نسائیؒ فرماتے ہیں: لیس بالقوی۔ عبدالحمیدبن جعفرمضبوط نہیں ہے۔ (کتاب ضعفاءبحوالہ تہذیب التہذیب: ج۳، ص۴۷۴)

ت‌. امام ابوحاتمؒ فرماتے ہیں: لا یحتج بہ۔ اس کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جاسکتی۔ (میزان الاعتدال: ج۴، ص۲۴۷)

ث‌. امام سفیان الثوریؒ بھی اس کی تضعیف کرتے تھے وکان الثوری یضعفہ۔ (میزان الاعتدال: ج۴، ص۲۴۷) (تہذیب التہذیب: ج۳، ص۴۷۴)

ج‌. امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں کہ: وقال ابن حبان ربما اخطاء۔ اس نے اکثر اوقات خطا کی ہے۔ (تہذیب التہذیب: ج۳، ص۴۷۴)

ح‌. امام ترمذیؒ نے بھی اس کی ایک روایت کو غیر اصح قرار دیا ہے۔ (سنن ترمذی: ج۲، ص۱۴۰، سورۃ حجر)

خ‌. شرح المعانی الآثار، ج ۱، ص۲۲۷-۲۲۸میں خودامام طحاویؒ نےبھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

د‌. حافظ ابن القیم الجوزی حنبلیؒ اس کی ایک حدیث کا جواب یوں دیتے ہیں: امام یحییٰ بن سعیدؒ اور امام ثوریؒ نے عبد الحمید بن جعفر کو ضعیف قرار دیا ہے۔

ذ‌. امام شوکانی ؒغیر مقلدعبد الحمید بن جعفر کی ایک روایت بارے یوں لکھتے ہیں: ابن المنذر نے فرمایا اس راوی کو محدثین کرامؒ مضبوط قرار نہیں دیتے اور اس سند میں کلام ہے۔

ر‌. علامہ امیر یمانی غیر مقلد لکھتے ہیں: حضرت ابوحمیدؓ کی حدیث جو بخاری کی روایت سے گزر چکی ہے اس میں رفع یدین تکبیر احرام کے سوا اور کہیں نہیں ہےلیکن ابو داؤد کی یہ روایت اس کے خلاف ہے اور اس میں تین مقامات میں رفع الیدین کا ذکر ہے۔ (سبل السلام: ج۱، ص۱۰۵)

صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ابو حمید الساعدیؓ کی مذکورہ بالا روایت ذکر کی ہے مگر رفع الیدین عند افتتاح الصلوٰۃ کے علاوہ کسی اور مقام کے رفع یدین کاذکر نہیں کیا۔ معلوم ہوا کہ رفع الیدین کا بیان بخاریؒ میں اس لیے نہیں ہے کہ وہاں راوی عبدالحمید بن جعفر نہیں ہے اور چونکہ ابوداؤد میں عبدالحمید بن جعفر ہے اس لیے اس نے بطور خطاء رفع الیدین کا ذکر کر دیا ہے۔ اگرچہ کچھ محدثین کرام نے عبدالحمیدبن جعفرکی توثیق بھی کررکھی ہے۔ لیکن اگرابوداؤد کی حدیث میں رفع یدین کا ذکر صحیح ہوتا تو امام بخاریؒ اسے صحیح البخاری میں بیان کرنے سے ہرگز نہ چُوکتے کیونکہ انہوں نے جزء رفع الیدین میں ہر قسم کی رطب و یابس روایات کی بھرتی کی ہےلیکن ابوداؤد کی حدیث میں رفع یدین کا ذکرہونے کے باوجود امام بخاریؒ نے اسے اپنی صحیح میں رقم نہیں کیا جو اس کے ضعیف ہونے کی واضح دلیل ہے۔ نیز یہ روایت سنداً ومتناًمضطرب بھی ہے اورمنقطع بھی کیونکہ محمد بن عمرو بن عطاء کا سماع حضرت ابوقتادہ سے ثابت نہیں ہے۔

زبیرعلی زئی صاحب اپنے رسالے ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۳،صفحہ نمبر۹پر لکھتے ہیں: ’’امام بخاری کے شاگردامام مسلم رحمہ اﷲنے آپ کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا:آپ سے صرف حسد کرنے والاشخص ہی بغض کرتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ دنیا میں آپ جیسا کوئی نہیں ہے۔ شیخ الاسلام محمد بن اسحاق بن خزیمہ النیسابوری رحمہ اﷲ (متوفی۳۱۱ھ) نے فرمایا: میں نے آسمان کے نیچے محمد بن اسماعیل البخاری سے زیادہ بڑا حدیث کا عالم نہیں دیکھا‘‘۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۲۳،صفحہ نمبر۹)

تعجب کی بات ہے کہ امام بخاریؒ کو حدیث کا سب سے بڑاعالم کہنے اور سمجھنے والے آج ان کی بیان کردہ حدیث چھوڑ کران کے مقابلے میں دوسرے امام کی بیان کردہ حدیث کو ترجیح دینے لگے؟ ویسے تو غیرمقلدین حضرات صبح شام بخاری بخاری کی رٹ لگائے رہتے ہیں لیکن جب بخاری سے ان کے مؤقف کا رد پیش کیا جاتاہےتوانہیں بخارچڑھ جاتا ہےاور فوراً بخاری چھوڑ کردوسری کتابوں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور ایسی حدیث کو بخاری کی حدیث کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں جس کی سندمضطرب اور منقطع ہونے کے ساتھ ساتھ ضعیف بھی ہے۔

اشکال نمبر۷: سیدنا ابو حمید ساعدیؓ کی رفع یدین والی حدیث درج ذیل علماء کے نزدیک صحیح ہے۔ (۱) ترمذی (۲) ابن خزیمہ (۳) ابن حبان (۴) بخاری (۵) ابن الجارود (۶) عبدالحق اشبیلی (۷) خطابی (۸) نووی (۹) ابن تیمیہ اور (۱۰) ابن القیم رحمہم اﷲاجمعین۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۳۷)

جواب نمبر۷: زبیرعلی زئی صاحب نے کل ۱۰ محدثین کے نام تحریر کرکے سیدنا ابو حمید ساعدیؓ سے مروی ابو داؤد کی حدیث کو صحیح ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہےجن میں امام بخاریؒ کا نام بھی درج ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث امام بخاریؒ کے نزدیک صحیح تھی تو پھر امام بخاریؒ نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں کیوں نہیں لیا؟ اس کی وجہ یہی ہے جو اوپربیان کی جاچکی ہے کہ امام بخاریؒ کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں تھی ورنہ اس حدیث کو چھوڑ کرترک رفع یدین والی حدیث اپنی صحیح میں رقم نہ کرتے۔

زبیرعلی زئی صاحب نے ان ۱۰ ناموں میں ابن حبانؒ کا نام بھی شامل کیا ہے جبکہ ابن حبانؒ خود اس حدیث کے راوی عبدالحمیدبن جعفرکے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’وقال ابن حبان ربما اخطاء‘‘۔ ’’اس نے اکثر اوقات خطا کی ہے‘‘۔ (تہذیب التہذیب: ج۳، ص۴۷۴)

دوسری بات یہ کہ لگتا ہے زئی صاحب کے لئے کسی حدیث کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کل ۱۰ محدثین کی توثیق کافی ہے۔ اگر زئی صاحب کا کسی حدیث کی قبولیت کا معیار یہی ہے تو پھر ہم ترکِ رفع یدین کی ہر حدیث پر کل دس محدثین کی تو ثیق پیش کئے دیتے ہیں اور آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ انہیں بھی قبول فرمائیں۔ دیدہ باید!

زبیرعلی زئی صاحب کی یہ عادت تھی کہ موصوف اپنے مسلک کی ہمایت میں جانے والی حدیث کے کمزورترین اورمتروک الحدیث راوی(جیسے عبدالحمید بن جعفر، عبدالرحمٰن بن ابی زناد، محمدبن اسحاق بن یسار، عیسیٰ ابن جاریہ) پر۵، ۷ افراد کی توثیق پیش کرکے انہیں جمہورکا نام دیکرثقہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اپنے مسلک کی مخالفت میں جانے والی حدیث کے ثقہ تابعی راوی(جیسے ابراہیم نخعیؒ اورسفیان ثوریؒ)پرمدلس ہونے کا الزام لگاکر ۵، ۷ افراد کی مبہم جرحیں پیش کرکےانہیں جمہور کا نام دیکرضعیف ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اﷲپاک ایسے علماءِ سُو کو ہدایت نصیب فرمائے اور امت مسلمہ کو ان کے شر سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

اشکال نمبر۸: امجد سعید دیوبندی کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ امام ترمذی رحمہ اﷲ نے سیدنا ابوحمید ساعدیؓ کی رفع یدین والی حدیث کو ’’حسن‘‘ بھی کہا ہے اور صحیح بھی کہا ہے۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷، صفحہ نمبر۳۷)

جواب نمبر۸: زبیرعلی زئی صاحب غیرمقلد کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ امام ترمذی رحمہ ا ﷲ نے سیدنا عبداﷲبن مسعودؓکی ترکِ رفع یدین والی حدیث کو’’حسن‘‘ بھی کہا ہے اور صحیح بھی کہا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ بہت سارے صحابہ کرامؓ وتابعینؒ میں اہل علم کا اور اہل کوفہ کا اس حدیث پر عمل تھا۔ تو آپ سے گزارش ہے کہ آپ امام ترمذیؒ کی یہ بات قبول کرلیں تو پھر ہم بھی آپ کی بات قبول کرلیں گے۔

اشکال نمبر۹: نیز سیدنا ابو حمید ساعدیؓ کی صحیح بخاری والی روایت پرآل دیوبند خود بھی عمل نہیں کرتے کیونکہ اس حدیث میں درمیانی اور آخری تشہد میں بیٹھنے کا فرق مذکورہے۔ (ماہنامہ الحدیث حضرو: شمارہ۶۷،صفحہ نمبر۴۱)

جواب نمبر۹: زبیرعلی زئی صاحب نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ ایسا سوال کیا جائے جس سے موضوع ہی تبدیل ہوجائےتاکہ انہیں راہِ فرار اختیار کرنے میں آسانی ہولیکن شاید موصوف اس بات سے لاعلم تھے کہ ہم انہیں یہاں بھی منہ مانگااور تسلی بخش جواب دینگے (انشاءاﷲتعالیٰ)۔

درمیانی اور آخری تشہد میں بیٹھنے پرفقہاء کرامؒ کا اختلاف ہے جس کا سبب اس باب میں وارد مختلف احادیث ہیں۔ چنانچہ بعض فقہاء نے کہا کہ بائیں پاؤں کو بچھائے گا اور اس پر بیٹھے گا، اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرے گا۔ امام شافعیؒ اور ايک جماعت نے کہا: کہ دو رکعت والی نماز میں تشہد کے بیٹھنے میں تورک کرے گا یعنی سرین کے بل تورک کی حالت ميں بیٹھے گا، خواہ وہ فرض ہو جیسے کہ صبح کی نماز یا نفل نماز، اس لئے کہ یہ قعدہ نماز کی آخری رکعت میں ہے۔ اور بعض فقہاء نے بائیں پاؤں کے بچھانے اور دائیں پاؤں کے کھڑا کرنے کی احادیث کو رباعی اور ثلاثی نماز کے پہلے تشہد پر اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے پر محمول کیا ہے، تاکہ دلائل کے درمیان مطابقت ہوجائے، لیکن حدیث کے ظاہری مفہوم کی وجہ سے پہلی بات راجح ہے۔

کیونکہ اس باب میں دونوں طرف صحیح احادیث موجود ہیں لہٰذا دونوں پر عمل کرناجائزہے لیکن احناف کا عمل پہلی بات پر ہے کیونکہ یہ راجح ہے۔ احناف کے اس عمل کی تائید مملکت سعودی عرب علمی تحقیقات اور فتاویٰ جات کی دائمی کمیٹی کے صدر عبدالعزیز بن عبداللہ بن بازاور ممبرعبد اللہ بن قعودکے فتویٰ نمبر۲۲۳۲سے پیش خدمت ہے۔اسد الطحاوی