عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے

حدیث نمبر :411

روایت ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلیم نے عرض کیا ۱؎ یارسول ا ﷲ یقینًا اﷲ تعالٰی حق سے نہیں شرماتا کیا عورت پر غسل واجب ہے جب اسے احتلام ہو فرمایا ہاں جب پانی دیکھے۲؎ تو ام سلیم نے منہ چھپالیا اور بولیں یا رسول اﷲ کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے۳؎ فرمایا ہاں تمہارا ہاتھ گرد آلود ہو ورنہ بچہ اپنی ماں کے ہم شکل کیوں ہوتا ہے۴؎(مسلم،بخاری)مسلم نے ام سلیم کی روایت سے یہ زیادتی کہ مرد کی منی گاڑھی سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی زرد ان میں سے جو غالب یا پہلے ہو بچہ اس کے مشابہ ہوگا ۵؎

شرح

۱؎ آپ کے نام میں اختلاف ہے،کنیت ام سلیم ہے،مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں،ان سے حضرت انس پیدا ہوئے،مالک کے قتل کے بعدابوطلحہ کے نکاح میں آئیں،اس وقت تک ابو طلحہ مشرک تھے تو آپ نے اس شرط سے نکاح کیا کہ وہ مسلمان ہوجائیں۔

۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے یعنی خواب کی صورت میں بغیر تری دیکھے غسل واجب نہیں خواہ منی ہو یا مذی،کیونکہ کبھی منی پتلے ہونے کی صورت میں مذی محسوس ہوتی ہے۔

۳؎ اس سےمعلوم ہوا کہ جو بیبیاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے والی ہوں انہیں احتلام بھی نہیں ہوتا،یعنی رب تعالٰی انہیں زنا کے خیال سے بھی پاک رکھتا ہے یہ ہے ازواج پاک کی عصمت۔

۴؎ سبحان اﷲ!کیسا حکیمانہ جواب ہے۔مقصد یہ ہے کہ احتلام کی علت یا احتلام کی وجہ منی ہے اورمنی عورت میں بھی ہے،لہذا احتلام بھی عورت کو ہونا چاہیئے۔اور منی کا ثبوت یہ ہے کہ کبھی بچہ ماں کی ہم شکل ہوتا ہے جب ماں کی منی باپ کی منی پر غالب ہو۔ہاتھ کا خاک میں ملنا بدعا نہیں بلکہ عرب والے کبھی محبت میں بھی یہ کلمہ بولتے ہیں۔جیسے اردو میں منڈی،مشٹنڈی،پنجابی میں رڑ جانئیں اوترجانئیں وغیرہ۔ ۵؎ یہ اصلی حالت ہے ورنہ کبھی کمزور مرد کی منی پتلی اور کمزور ہوجاتی ہے اور طاقتورعورت کی منی سفیداور گاڑھی،بچہ ماں باپ کی مخلوط منی سے بنتا ہے جس کے اجزاءزیادہ ہوں گے بچہ اس کی جنس سے ہوگا۔یعنی اگر عورت کی منی کے زیادہ اجزاء ہیں تو لڑکی ہوگی ورنہ لڑکا،اور رحم میں جس کی منی پہلے گرے گی بچہ اس کی شکل پر ہوگا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.