باب الغسل

نہانے کا بیان ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ اسلام میں غسل چار طرح کے ہیں:

فرض،سنت،مستحب اور مباح۔

فرض غسل تین ہیں۔جنابت سے،حیض سے،نفاس سے۔جنابت خواہ شہوت سے منی نکلنے کی وجہ سے ہو یا صحبت سے انزال ہو یا نہ ہو۔

غسل سنت پانچ ہیں:جمعہ کا غسل،عیدین کا غسل،احرام کے وقت کا غسل،عرفہ کے دن کا غسل۔

غسل مستحب بہت ہیں:مسلمان ہوتے وقت،مردے کو نہلا کر،قربانی کے دن،طواف زیارت کے لیے،مدینہ منورہ حاضری کے موقعہ پر،وغیرہ۔غسل مباح جو ٹھنڈک وغیرہ کے لیے کیا جائے۔اس باب میں بہت سے اقسام کے غسل بیان ہوں گے۔

غسل میں تین فرض ہیں:کلی کرنا،ناک میں پانی ڈالنا،تمام ظاہری بدن پر پانی بہانا۔

حدیث نمبر :409

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی عورت کے چاروں شانے کے درمیان بیٹھے پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوگیااگرچہ انزال نہ ہوا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس کی شرح وہ حدیث ہے جس میں فرمایا گیا کہ جب ختنہ ختنہ میں غائب ہوجائے تو غسل واجب ہے،وہی یہاں مراد ہے یعنی جب مشتہات عورت سے صحبت کی جائے اور حشفہ غائب ہوجائے تو غسل واجب ہوگیا۔چار شانوں سے چار ہاتھ پاؤں مراد ہیں،اور بیٹھنے کا ذکر اتفاقًاہے،ورنہ جس صورت سے بھی صحبت ہو غسل واجب ہے۔بہت چھوٹی غیر مشتہات بچی اورجانورسے صحبت کرنے میں انزال شرط ہے بغیر انزال غسل واجب نہیں۔