أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لٰـكِنِ اللّٰهُ يَشۡهَدُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اِلَيۡكَ‌ اَنۡزَلَهٗ بِعِلۡمِهٖ‌ ۚ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ يَشۡهَدُوۡنَ‌ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيۡدًا ۞

ترجمہ:

لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ آپ کی طرف نازل فرمایا وہ اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے اور فرشتے (بھی) گواہی دیتے ہیں ‘ اور اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے جو کچھ آپ کی طرف نازل فرمایا وہ اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے اور فرشتے (بھی) گواہی دیتے ہیں ‘ اور اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے۔ (النساء : ١٦٦) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر اللہ تعالیٰ کی شہادت : 

اس آیت میں یہود کا اعتراض کا جواب ہے ‘ یہود نے کہا تھا کہ وہ اس قرآن کو منزل من اللہ نہیں مانتے ‘ جو تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوا ہے ‘ سو آیت کا معنی یہ ہے کہ ہرچند کہ یہود آپ کی کتاب اور آپ کی نبوت کو نہیں مانتے لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے آپ کی طرف جو کچھ نازل فرمایا وہ اپنے علم کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معجزات عطا فرمائے اور ان معجزات کی وجہ سے آپ کی تصدیق کرنا واجب ہے ‘ اور اگر یہود آپ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے تو اس سے آپ کو کیا کمی ہوتی ہے جب کہ اس کائنات کا رب اور آپ کا معبود آپ کی تصدیق کرتا ہے اور عرش کرسی اور آسمانوں اور زمینوں کے فرشتے آپ کی تصدیق کرتے ہیں اور یہود تو لوگوں میں سب سے خسیس درجہ کے ہیں اس لیے یہ اگر آپ کی تصدیق نہیں کرتے تو آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 166