*نماز میں دل نہیں لگتا؟*

حکیم الامت مفتی احمد یار خاں نعیمی اشرفی عليه الرحمه فرماتے ہیں:

ایک بار میں نے حضرت محدث کچھوچھوی ابو المحامد سید محمد اشرفی جیلانی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں عرض کیا کہ نماز میں مزہ نہیں آتا دل نہیں لگتا کیا کروں؟ فرمایا پڑھتے تو ہو؟ میں نے کہا ہاں پڑھتا ہوں۔ فرمایا، تم بڑے خوش نصیب ہو۔ میں نے کہا وہ کیسے؟ فرمایا،

*جسے نماز میں مزہ آئے وہ تو مزے کے لیے پڑھتا ہے اور جس کو مزہ نہ آئے وہ رب کے لیے پڑھتا ہے۔*

ان کے اس جواب کا لطف مجھے اب تک آ رہا ہے، بہت ہی تسکین ہوئی۔

ریاضت نام ہے تیری گلی میں آنے جانے کا

تصور میں ترے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد ۸، صفحہ ٤۵۸

افتخار الحسن رضوی