أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَرُسُلًا قَدۡ قَصَصۡنٰهُمۡ عَلَيۡكَ مِنۡ قَبۡلُ وَرُسُلًا لَّمۡ نَقۡصُصۡهُمۡ عَلَيۡكَ‌ ؕ وَكَلَّمَ اللّٰهُ مُوۡسٰى تَكۡلِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ایسے رسول (بھیجے) جن کا قصہ ہم نے اس سے پہلے آپ کو بیان فرمایا اور ہم نے ایسے رسول (بھی) بھیجے جن کا قصہ ہم نے آپ سے (ابھی تک) بیان نہیں کیا، اور اللہ نے موسیٰ سے (بلاواسطہ) یہ کثرت کلام فرمایا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ایسے رسول (بھیجے) جن کا قصہ ہم نے اس سے پہلے آپ کو بیان فرمایا اور ہم نے ایسے رسول (بھی) بھیجے جن کا قصہ ہم نے آپ سے (ابھی تک) بیان نہیں کیا، اور اللہ نے موسیٰ سے (بلاواسطہ) یہ کثرت کلام فرمایا۔ (النساء : ١٦٤) 

نبیوں اور رسولوں کی تعداد کے متعلق احادیث : 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام عبد بن حمید ‘ حکم ترمذی نے نوادر الاصوال میں ‘ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں ‘ حاکم نے اور امام ابن عساکر نے حضرت ابو ذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی ہیں ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان میں سے رسول کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا تین سو اور تیرہ جم غفیر ہیں۔ پھر فرمایا اے ابوذر ! چار سریانی : آدم ‘ شیث ‘ نوح اور خنوع اور وہ ادریس ہیں اور وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم کے ساتھ لکھا ‘ اور چار عرب ہیں : ہود ‘ صالح ‘ شعیب اور تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بنو اسرائیل کے انبیاء میں سب سے پہلے موسیٰ ہیں اور سب سے آخری عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ‘ اور سب سے پہلے آدمی ہیں اور سب سے آخری نبی تمہارے نبی ہیں۔ 

امام ابن حبان نے اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کیا ہے اور امام ابن الجوزی نے موضوعات میں ‘ اور یہ دونوں حکم متصاد ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے نہ صحیح ہے نہ موضوع ہے جیسا کہ میں (سیوطی) نے مختصر الموضوعات میں بیان کیا ہے۔ 

امام ابن ابی حاتم حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! انبیاء کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں ‘ ان میں سے تین سو پندرہ جم غفیر رسل ہیں۔ 

امام ابو یعلی نے اور امام ابو نعیم نے حلیہ میں سند ضعیف کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ مجھ سے پہلے میرے بھائی انبیاء میں سے آٹھ ہزار نبی ہیں ‘ پھر عیسیٰ بن مریم ہیں پھر ان کے بعد میں ہوں۔ 

امام حاکم نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آٹھ ہزار انبیاء کے بعد مبعوث کیا گیا ‘ ان میں چار ہزار انبیاء بنی اسرائیل تھے۔ 

امام ابن عساکر نے کعب احبار سے روایت کیا ہے اللہ نے حضرت آدم پر انبیاء اور مرسلین کی تعداد کے برابر لاٹھیاں نازل فرمائیں ‘ پھر انہوں نے اپنے بیٹے شیث کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اے بیٹے تم میرے بعد میرے خلیفہ ہو گے ‘ تم اس لاٹھی کو مضبوطی اور تقوی کے ساتھ پکڑ لو ‘ اور جب تم اللہ کا نام لو تو اس کے ساتھ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لینا ‘ کیونکہ میں نے ان کا نام عرش کے پائے پر اس وقت لکھا دیکھا جب میں ہنوز روح اور مٹی (کے پتلے) کے درمیان تھا ‘ پھر میں نے آسمان کا طواف کیا تو میں نے آسمانوں میں ہر جگہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لکھا ہوا دیکھا ‘ پھر اللہ نے مجھے جنت میں ٹھہرایا تو میں نے جنت کے ہر محل اور ہر بالاخانہ میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لکھا ہوا دیکھا ‘ اور میں نے بڑی آنکھ والی حوروں پر سرکنڈوں پر شجرہ طوبی کے پتوں پر اور سدرۃ المنتہی کے پتوں پر اور ملائکہ کی آنکھوں کے درمیان بھؤوں پر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لکھا ہو اس دیکھا۔ 

امام ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ آدم اور نوح کے درمیان ایک ہزار سال ہیں ‘ اور نوح اور ابراہیم کے درمیان ایک ہزار سال ہیں ‘ اور ابراہیم اور موسیٰ کے درمیان ایک ہزار سال ہیں ‘ اور موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان چار سو سال ہیں ‘ اور عیسیٰ اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان چھ سو سال ہیں۔ 

امام ابن ابی حاتم نے اعمش سے روایت کیا ہے کہ موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان ایک ہزار سال ہیں۔ 

امام حاکم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ آدم اور نوح کے درمیان ایک ہزار سال ہیں اور نوح اور ابراہیم کے درمیان ایک ہزار سال ہیں ‘ اور ابراہیم اور موسیٰ کے درمیان سات سو سال ہیں ‘ اور موسیٰ اور عیسیٰ کے درمیان ایک ہزار پانچ سو سال ہیں اور عیسیٰ اور ہمارے نبی (علیہ السلام) کے درمیان چھ سو سال ہیں۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ٢٤٨۔ ٢٤٧‘ مطبوعہ ایران) 

علم نبوت پر ایک اعتراض کا جواب : 

بعض لوگ اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے کلی علم (تمام مخلوق کا علم) نہیں عطا فرمایا ‘ کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ ہم نے بعض انبیاء کا قصہ آپ کو بیان فرمایا ہے اور بعض کا قصہ بیان نہیں فرمایا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں زمانہ ماضی میں بعض انبیاء کا قصہ بیان کرنے کی نفی ہے ‘ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ آپ کی آخر عمر شریف تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان بعض انبیاء کے احوال کی خبر سے مطلع نہیں فرمایا نیز اس بحث میں اس آیت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے : 

(آیت) ” وکلا نقص علیک من انبیآء الرسل ما نثبت بہ فؤادک “۔ (ھود : ١٢٠) 

ترجمہ : اور رسولوں کی خبروں میں سے ہم سب باتیں آپ پر بیان فرماتے ہیں جن سے ہم آپ کے دل کو ثابت رکھتے ہیں۔ 

ہر چند کہ سورة نساء مدنی ہے اور سورة ہود مکی ہے لیکن اہل علم پر روشن ہے کہ ان سورتوں کا مکی یا مدنی ہونا اکثر آیات کے اعتبار سے ہوتا ہے ‘ ہر ہر آیت کے اعتبار سے نہیں ہوتا۔ 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

احادیث میں مذکور ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتایا کہ نبی ایک لالکھ چوبیس ہزار ہیں اور رسول تین سو تیرہ ہیں ‘ اور اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کا قصہ آپ سے بیان نہیں فرمایا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض انبیاء کا قصہ بیان نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان انبیاء کا عدد بھی نہ بیان فرمایا ہو ‘ اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان خبروں سے مطلع نہ فرمایا ہو لیکن یہ اطلاع دی ہو کہ کل نبی اتنے ہیں ‘ اس تقریر سے بعض معاصرین کا یہ اعتراض دور ہوگیا کہ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عدم علم کی تصریح ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے منزہ ہیں کہ آپ کو انبیاء کی تعداد کا علم نہ ہو۔ (روح المعانی ج ٦ ص ‘ ١٨۔ ١٧ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے میں یہود کا رد :

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے (بلاواسطہ) بکثرت کلام فرمایا : 

جزء بن جابر الخثعمی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے یہودی علماء سے سنا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کے سوا ہر زبان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کے سوا ہر زبان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے ‘ اے میرے رب میں اس کلام کو نہیں سمجھ رہا ‘ حتی کہ اللہ نے ان کی زبان میں ان کی آواز کے مشابہ آواز میں کلام فرمایا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب کیا تیرا کلام اسی طرح ہے ؟ فرمایا اگر میں اپنے کلام کے ساتھ تم سے کلام کروں تو تم فنا ہوجاؤ گے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ! کیا مخلوق میں کوئی چیز تیرے کلام کے مشابہ ہے ؟ فرمایا آسمانی بجلی کی گرج دار کڑک میری آواز کے مشابہ ہے۔ (جامع البیان جز ٦ ص ٤١۔ ٤٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

لیکن تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر آواز کے ہر جہت اور ہر طرف سے سنا ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ بغیر رنگ کے دکھائی دے گا اسی طرح اس کا کلام بغیر آواز کے سنائی دیتا ہے۔ 

اس آیت سے بھی یہود کا رد کرنا مقصود ہے انہوں نے کہا تھا کہ جب طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر آسمان سے کتاب نازل ہوئی تھی اسی طرح آپ پر بھی آسمان سے کتاب نازل کی جائے تو ہم آپ کو نبی مان لیں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف کلام سے نوازا اور باقی نبیوں سے ہم کلام نہیں ہوا حالانکہ تم ان سب کو نبی مانتے ہو جس طرح حضرت موسیٰ کی خصوصیت کلام کی وجہ سے تم باقی انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت کا انکار نہیں کرتے تو اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر خصوصیت کے ساتھ آسمان سے کتاب نازل کی گئی ہے تو تم اس وجہ سے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کیوں کرتے ہو ! 

ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ سے ہم کلام ہونا اور تمام معجزات کا بہ درجہ اتم جامع ہونا : 

واضح رہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت ہم کلامی ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ دوسرے انبیاء کے اعتبار سے ہے اور یہ خصوصیت اضافی ہے حقیقی نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ شب معراج ‘ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہم کلام ہوا ! اور آپ کو زیادہ شرف اور فضیلت سے نوازا ‘ بلکہ ہر وہ معجزہ جو دوسرے نبیوں کو دیا گیا وہ زیادہ کمال اور حسن کے ساتھ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمایا ہے ‘ دیکھئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی مار کر زمین سے پانی نکالا ‘ لیکن زمین میں پانی ہوتا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انگلیوں سے پانی جاری کردیا جہاں پانی ہوتا ہی نہیں ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہا نرم کردیا گیا وہ اس سے زرہ بن لیتے تھے ‘ لیکن لوہے کی طبیعت میں نرمی ہے وہ آگ سے نرم ہوجاتا ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ میں سر داخل کردیا تو وہ موم کی طرح نرم ہوتا چلا گیا جب کہ پتھر کی طبیعت میں نرمی نہیں وہ ٹوٹ جاتا ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ میں سرداخل کردیا تو وہ موم کی طرح نرم ہوتا چلا گیا جب کہ پتھر کی طبیعت میں نرمی نہیں وہ ٹوٹ جاتا ہے نرم نہیں ہوتا۔ یہ حسی نرمی تھی اور معنوی نرمی یہ تھی کہ آپ نے فرمایا احد پہاڑ ہے یہ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں ‘ پتھر میں محبت نہیں ہوتی جو محبت نہ کرے اس کو سنگ دل کہتے ہیں لیکن یہ تو ان کا کمال ہے کہ جس کی طبیعت میں محبت نہیں ہوتی اس میں بھی اپنی محبت پیدا کردی ‘ حضرت سلیمان کے لیے دور کی مسافت سے پلک جھپکنے سے پہلے تخت لایا گیا ‘ لیکن تخت ایسی چیز ہے جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے ‘ معراج کے بعد آپ مشرکوں کے سامنے یہ واقعہ بیان کر رہے تھے کسی نے آپ سے مسجد اقصی کی نشانیاں پوچھیں ایک لمحہ کے لیے آپ کو تردد ہوا تو جبرائیل نے مسجد اقصی آپ کے سامنے لا کر رکھ دی اور آپ مسجد کو دیکھ کر نشانیاں بتاتے رہے ‘ حالانکہ مسجد ایسی چیز ہے جس کو صحیح وسالم ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جاسکتا سو تخت لانے سے یہ زیادہ بعید ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے چار مردے زندہ کیے لیکن ان کے بدن موجود تھے جس بدن میں ایک بار حیات آچکی ہو اس میں دوبارہ حیات جاری کرنا ‘ اتنا بعید نہیں ہے ‘ آپ کی توجہ سے پتھروں نے کلام کیا ‘ درخت چل کرآئے ‘ کھجور کا ستون آپ کے فراق میں چلاچلا کر رونے لگا ‘ گوشت کا ایک ٹکڑا آپ کے دہن میں بول اٹھا ‘ پتھروں ‘ درختوں اور ستونوں میں آپ کی توجہ سے حیات آئی جن میں عادۃ حیات نہیں ہوتی ! سو واضح ہوگیا کہ ہر نبی کو جو معجزہ دیا گیا اس نوع کا معجزہ آپ کو زیادہ کمال اور زیادہ شرف کے ساتھ دیا گیا ‘ بلکہ اس کائنات میں جس صاحب کمال کو کوئی کمال ملا ہے وہ آپ ہی کا تصدق ہے ‘ جس کو جو روشنی ملتی ہے وہ آپ کے نور نبوت سے ملتی ہے اور حقیقت میں کمال وہی ہے جس کی اصل آپ میں ہو اور جس چیز کی اصل میں آپ نہ ہوں جس کی آپ سے نسبت نہ ہو وہ کمال نہیں وہ سراسر نقص اور سر تاپا زوال ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 164