خواجہ غریب نواز وصال شریف

وصال شریف: شبِ وصال چند اولیاء اللہ نے رسولِ خداﷺ کو عالمِ رؤیا (خواب) میں یہ فرماتے ہوئے دیکھا معین الدین حق تعالیٰ کا دوست ہے، ہم آج اس کے استقبال کے لئے آئے ہیں۔

۶؍رجب المرجب ۶۲۷؁ھ مطابق ۲۱؍مئی ۱۲۲۹؁ء بروزِ شنبہ بعد نمازِ عشاء آپ نے حجرہ شریف کا دروازہ بند کر لیا اور خدام کو اندر آنے کی ممانعت کر دی۔

خدام حجرہ کے باہر موجود رہے، رات بھر کانوں میں طرح طرح کی آوازیں آتی رہیں، پچھلے پہر آواز موقوف ہو گئی۔ جب نمازِ صبح کا وقت ہوا اور حجرہ شریف کا دروازہ حسبِ معمول نہ کھلا تو توڑ کر دیکھا گیا کہ آپ واصل بحق ہو چکے ہیں اور جبینِ مبارک پر بخطِ قدرت ’’ہٰذَا حَبِیْبُ اللّٰہِ مَاتَ فِیْ حُبِّ اللّٰہِ‘‘ منقوش ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون

چمنے کہ تا قیامت گل او بہار بادا

صنمے کہ بر جمالش دوجہاں نثار بادا

پسماندگان: حضرت سرکار خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بترتیب دو نکاح فرمائے تھے۔ محلِ اولیٰ سے دو صاحبزادے حضرت خواجہ فخر الدین ابوالخیر، حضرت خواجہ حسام الدین ابو صالح اور ایک صاحبزادی تاج المستورات بی بی حافظ جمال ہیں اور محلِ ثانیہ سے صرف ایک صاحبزادے حضرت خواجہ ضیاء الدین ابو سعید ہیں۔

سرکار خواجہ کی تمام اولادیں علم و عرفان اور ولایت و تقرب کے اعلیٰ مدارج پر فائز تھیں، آج بھی ان کے مزارات سے فیوض و برکات کے چشمے جاری ہیں۔

خواجۂ خواجگانِ چشت، اہلِ بہشت حضور غریب نواز کا سلسلۂ طریقت قطب الاقطاب سرکار خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ ساری دنیا میں پھیل گیا، حضرت خواجہ قطب الدین چودہ سال کی عمر شریف میں بمقام اوش سرکار غریب نواز کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے تھے۔

دلوں کا مرکزِ عشق: کشورِ ہند میں خواجہ کا روضۂ پر نور دلوں کا مرکزِ عشق ہے۔ جملہ اقطارِ ارض سے شوق کے قافلوں کا ہر دور میں وہ کعبۂ مقصود رہا ہے، آج بھی ہندیوں کا وہی قبلۂ آرزو ہے، بلا تفریق مذہب و ملت خواجہ کی چوکھٹ پر سب کی گردن عقیدت خم رہی ہے اور آج بھی خم ہے، قیامت تک خم رہے گی، غریب و امیر، نیک و بد، عالم و جاہل، سالک و مجذوب، حاکم و محکوم، شاہ و گدا، سرمست و ہوشیار یکساں طور پر سب کے لئے خواجہ کا آستانہ دل کی تسکین، روح کی کشش اور پیشانیوں کی تسخیر کا گہوارہ رہا ہے۔

مسلم بادشاہوں سے لے کر برطانوی فرمانروائوں تک سب نے حضرت خواجہ کی عظمتِ خدا داد کے آگے عقیدتوں کا خراج پیش کر کے ان کی معنوی بادشاہت پر اپنی مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

سلاطینِ ہند دربارِ خواجہ میں

سلطان محمود خلجی کی آمد: سرکار غریب نواز علیہ الرحمہ سے بے حد عقیدت رکھتا تھا، اس نے گنبدِ مبارک اور اس سے ملحق مسجد اور بلند دروازہ تعمیر کرا کے اپنی اس عقیدت و محبت کا ثبوت پیش کیا۔

شہنشاہ اکبر کی آمد: شہنشاہ اکبر نے بھی دربارِ خواجہ غریب نواز میں حاضری دی ہے اور نہایت ہی عقیدت و محبت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس کی عقیدت کی نشانی درگاہ وقف کا قیام ہے۔

جہانگیر کی آمد: جہانگیر اپنے والد کی طرح دربارِ غریب نواز میں نہایت عقیدت و محبت سے حاضر ہوتا تھا، عرسِ مبارک کی محفل میں بھی اس نے شرکت کی، ۱۰۲۸؁ھ کے عرس میں رجب کی چھٹی شب کو آدھی رات تک قوالی کی محفل میں شرکت کی۔ وہ خود لکھتا ہے ’’آدھی رات تک میں نے وہاں قیام کیا، خدام و صوفیاء نے وجد و حال کیا‘‘

شہنشاہ شاہ جہاں کی آمد: شہنشاہ شاہ جہاں کی عقیدت اس کی تاریخی عمارات سے عیاں ہے جو اس نے درگاہ معلی میں اور شہرِ اجمیر میں اناساگر تالاب کے کنارے بنوائی ہیں۔

عالمگیر اورنگ زیب رحمۃ اللہ علیہ کی آمد: حضرت اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ جہاں دنیاوی حکمراں گزرے ہیں وہیں خدا ترس اور شریعتِ مطہرہ کے پابند تھے۔ آپ بھی حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں بارہا حاضر ہوئے اور ان کے دربار میں نیازمندی کا ثبوت پیش کیا۔

سلاطین کے علاوہ نوابین، غیر مسلم راجہ و مہاراجہ نے بھی حضرت غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضری دی ہے، جن میں سے نواب حیدر آباد، مہاراجہ جودھپور، مہاراجہ گوالیا کے نام مشہور ہیں۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.