دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا

دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا مسنون عمل ہے

وھابی فکر رکھنے والے لوگ اہل سنت کے معمولات پر تیر اندازی کرتے وقت فقط یہ ہدف رکھتے ہیں کہ سنی عوام کو الجھائے رکھیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انہیں دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنے پر بھی شدید اعتراضات لگے ہوئے ہیں۔ اس بابت یہ روایات ملاحظہ فرمائیں اور ایمان تازہ کریں۔

دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا رسول اللہ ﷺ کے عمل مبارک سے ثابت ہے؛

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دعا میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تو انہیں واپس نہیں لاتے تھے یہاں تک کہ انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔

(ترمذی ، كتاب الدعوات باب : ما جاء في رفع الايدي عند الدعاء ، حدیث : 3714)

دوسری روایت ملاحظہ فرمائیے؛

جان رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا:

دعا کرو اللہ سے ہتھیلیاں اوپر اٹھا کر ، نہ کہ ہتھیلیوں کی پشت اوپر کر کے ، جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ منہ پر پھیر دو۔

(ابو داؤد ، كتاب الوتر ، باب : الدعاء ، حدیث : 1487)

اسی ضمن میں امام المسلمین، مجدد دین سیدی و مرشدی الشاہ امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛

بعدِ فراغ (دعا سے فارغ ہونے کے بعد)دونوں ہاتھ چہرے پر پھیرے کہ وہ خیر و برکت جو بذریعہ دعا حاصل ہوئی اشر ف الاعضاء یعنی چہرے سے مُلاقِی(یعنی مَس)ہو ۔

امام اہل سنت علیہ الرحمہ اپنے اس قول کی دلیل حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لاتے ہیں؛

یعنی جب تم اپنے ہاتھ خدائے تعالیٰ کی طرف اٹھا کر دعا وسوال کرو انہیں منہ پر پھیرلو کہ خدائے تعالیٰ شرم وکرم والا ہے ، جب بندہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا اورسوا ل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خالی ہاتھ پھیرنے سے شرماتا ہے پس اس خیر کو اپنے مُونہوں پر مسح کرو یعنی خدائے کریم ہاتھ خالی نہیں پھیرتا۔کسی طرح کی بھلائی اورخیر وخوبی خواہ وہی خیر جس کیلئے دعاکی یا دوسری نعمت ضرور مرحمت فرماتاہے بنظراُس رحمت وبرکت کے دعا کے بعد منہ پر ہاتھ پھیرنا مقرر ہواٌ۔

واللہ ورسولہ اعلم

کتبہ: افتخارالحسن رضوی

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.