رزق حلال اور تطہیرِ باطن

*رزق حلال اور تطہیرِ باطن*

غلام مصطفی رضوی

[نوری مشن مالیگاؤں]

اسلام زندگی کے جمیع احوال کا احاطہ کرتا ہے۔اس میں ایک اہم شعبہ ذرائع و وسائلِ حیات یعنی رزق کا ہے؛ جس کے لیے قرآن مقدس کی تعلیم یہ ہے کہ:

لَا تَاْ کُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ (سورۃ النسآء:۲۹)

’’آپس میں ایک دوسرے کے مالِ نا حق نہ کھاؤ‘‘ (کنزالایمان)-

یعنی رزقِ حلال کھاؤ۔غیر شرعی طریقے سے مال کا حصول ممنوع فرمایا گیا۔

اسلام نے ظاہری حیات کو سنوارا ہی، اس سے زیادہ باطن کی تطہیر و پاکیزگی کی تعلیم دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں باطنی صفائی ستھرائی کے لیے ایک پورا نظام قائم ہے۔ جسے اس دور میں ہم اولیاے کرام کی تعلیمات یا تصوف سے یاد کرتے ہیں۔ جن کی تعلیم ہی تزکیہ و تطہیر ہے۔ آپ دیکھیں کہ باطن کو نکھارنے والے ایسے نکھرے کہ ان کی بارگاہوں میں سکون ہے، ان کی یادوں میں سکون ہے، ان کے تذکروں اور ان کے احوال میں سکون ہے۔ ٹوٹے دل ان کی بارگاہ میں آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبوں کے توسل سے مشکلات دور فرماتا ہے اور آسودگی عطا کرتا ہے۔

باطن سنور گیا تو اس کا اثر ظاہر پر بھی ہوگا۔ اسی لیے جب تزکیہ و تطہیر کا مرحلۂ شوق طے ہوتا ہے تو بندہ رزق حلال کے سوا اور کوئی ذریعہ قبول نہیں کرتا۔ حلال کے برکات و ثمرات بڑے دیرپا ہوتے ہیں۔ یا کم از کم یہ پہلو تو ضرور اجاگر ہوتا ہے کہ حلال کی برکت سے برائیوں کی نحوست سے بندہ بہت حد تک محفوظ ہوجاتا ہے۔ اور اس کی زندگی لمحہ لمحہ تقویٰ کی طرف بڑھتی ہے، وجہِ بلندی بلاشبہ تقویٰ ہی ہے جس کی طرف اولیاے کرام نے رہبری کی ہے۔

توکل بھی اسی کا ایک ضابطہ ہے۔ بندۂ مومن حلال کی راہ میں یقیں کی دولت سے بھی آراستہ ہوتا ہے۔ توکل یعنی اللہ کی ذات پر یقین کامل کہ ہمارا تمام بھروسہ اسباب کی بجائے خالقِ اسباب پر ہے۔ اس کی تدبیریں لاریب! ہمارے لیے افادہ کا سبب ہیں۔قرآن کی یہ آیت توکل کے ساتھ ہی جائز معاشی اسباب کی طرف رہبری کرتی ہے:

وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَاسعٰی(سورۃ النجم:۳۹)

’’اور یہ کہ آدمی نہ پائے گا مگر اپنی کوشش‘‘ (کنزالایمان)

اسی طرح رزق حلال کی تعلیم دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا کہ:

وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ (سورۃ الجمعۃ: ۱۰)

’’اور اللہ کا فضل تلاش کرو‘‘ (کنزالایمان)

حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ: ’’(ماتھے کے پسینے سے ) کمائی کرنے والا اللہ کا محبوب ہے۔‘‘

ناجائز ذرائع سے مال و دولت کا حصول اسلام نے ناجائز و ممنوع قرار دیا ہے۔ بلکہ ان کے لیے وعیدیں آئی ہیں۔ انھیں عذاب کی خبر دی گئی ہے۔حلال اپنانے اور حرام سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ نیکی و برائی کی جدا جدا راہیں صاف سمجھا دی گئی ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

وَاَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا (سورۃ البقرۃ:۲۷۵)

’’اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سود‘‘ (کنزالایمان)

سود کے حرام ہونے سے متعلق کثیر حوالے موجود ہیں؛ تاہم آیت مبارکہ میں بیع کا حلال کیا جانا ہمیں تجارت و بزنس کے جائز ذرائع کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ہمارا تجارتی نظام ماضی میں اِس قدر مستحکم تھا کہ مسلم تجار نے اپنے ایمان دارانہ بزنس سے اسلام کی کامیاب تبلیغ کی اور کفر زدہ دلوں کو اسلام کے نور سے معمور کر دیا۔ تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ تجارت کرنے والے بڑے کامیاب رہے ہیں۔ ہم اپنے ذرائع تجارت اگر پختہ کیے ہوتے تو؛ آج لاکھوں ذرائع آمدن پر ہمارا تسلط ہوتا لیکن افسوس کہ غیر اسلامی طرزِ تجارت کے فروغ کے لیے مغربی قوتیں، یہود و نصاریٰ مسلسل سرگرم عمل رہیں اور ہم غافل۔ بلکہ ایک پورا عالمی اقتصادی نظام اسلام مخالف قوتوں نے کھڑا کر رکھا ہے، جس میں سود و حرام کی آمیزش کی گئی ہے تا کہ مسلمان اس راہ پر آ کر اپنے ایمان کی تازگی کھو دے، اور برے رزق میں مبتلا ہو جائے، اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔

اسلامی قانون و ضابطہ کی پاس داری کا یہ بھی تقاضا ہے کہ بے جا خرچنے سے بچا جائے۔ فضول برباد کرنابھی معیوب ٹھہرا۔ لائق مذمت فعل ہے فضول خرچی۔ قرآن میں رب تعالیٰ فرماتا ہے:

٭کُلُوْا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (سورۃ الاعراف:۳۱)

’’کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں‘‘ (کنزالایمان)

٭ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْآ اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ( سورۃبنی اسرائیل: ۲۶۔۲۷)

’’اور فضول نہ اڑا بے شک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘ (کنزالایمان)

٭وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا (سورۃ الفرقان:۶۷) ’’اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں‘‘ (کنزالایمان)

بندۂ مومن کے لیے ضروری ہے کہ قوانین الٰہی کی متابعت و پیروی کرے تا کہ اس کی زندگی اسلامی زندگی بنے۔ اور اس کا ضابطہ ہر شعبے میں موجود ہے، جیسا کہ رزقِ حلال اور اس کے لیے احکامات پر مذکورہ سطور میں دلائل ذکر کیے گئے۔ بہر کیف! ہمیں چاہیے کہ رزق حلال کے لیے تگ و دو اور جستجو کریں اور اللہ کے شکر گزار بندے بنیں۔ مصائب و آلام میں صبر سے کام لیں تا کہ آخرت کی زندگی تابندہ رہے۔ اسلام کی ایک عظیم تعلیم آخرت کی زندگی کی تعمیر ہے جس کے لیے حلال رزق ناگزیر ہے۔

٭٭٭

gmrazvi92@gmail.com

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.