غسل کی ترتیب

حدیث نمبر :413

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا حضرت میمونہ نے ۱؎ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے غسل کا پانی رکھا پھر میں نے آپ کو کپڑے سے آڑکردی۲؎ اور آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی بہایا پھر انہیں دھویاپھرہاتھوں پربہایاپھرانہیں دھویاپھر داہنے ہاتھ سے بائیں پرپانی ڈالااوراستنجا کیاپھراپنا ہاتھ زمین پر مارا انہیں صاف کیا پھر اسے دھویا پھر کلی کی اور ناک میں پانی لیااوراپنا منہ اورکہنیوں تک ہاتھ دھوئے پھر اپنے سر پر پانی بہایا اور اپنے تمام جسم پر بہایا۳؎ پھر وہاں سے ہٹ گئے اوراپنے قدم شریف دھوئے میں نے کپڑا پیش کیا قبول نہ فرمایا۴؎ اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔(مسلم،بخاری) اور اس کے لفظ بخاری کے ہیں۔

شرح

۱؎ آپ کا نام میمونہ بنت حارث ہلالیہ عامریہ ہے،پہلے آپ کا نام برہ تھا،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے نام تبدیل فرمایا،زمانہ جاہلیّت میں مسعود ابن عمرو ثقفی کے نکاح میں تھیں،اس کے بعد ابو رہم کے نکاح میں آئیں،ان کے فوت ہوجانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذیقعدہ ۷ھ؁ میں عمرہ ٔقضاء کے موقع پر مکہ معظمہ سے دس میل دور مقام سرف میں آپ سے نکاح کیا،اﷲ کی شان کہ ۶۱ھ؁ میں نکاح کی جگہ ہی آپ کی وفات ہوئی،آپ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیوی ہیں،جن کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے نکاح نہیں کیا۔ام الفضل یعنی عبداﷲ ابن عباس کی والدہ اور اسماء بنت عمیس کی آپ ہمشیرہ ہیں،یعنی عبداﷲ ابن عباس کی خالہ۔

۲؎ اگرچہ آپ تہبند باندھ کر غسل فرماتے تھے لیکن پھر بھی آپ چادرتان کر سامنے کھڑی ہوگئیں زیادتی ستر کے لیے۔لہذا چاہیئے یہ کہ تہبند باندھ کر غسل میں نہائے،بعض نے کہا کہ اس کے معنی ہیں پانی کو ڈھک دیا،مگر یہ درست نہیں۔(مرقاۃ)

۳؎ غسل کی ترتیب یہ ہوئی کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں،پھر استنجاء،پھر وضو کیا جائے،پھر جسم پر بہایا جائے۔چونکہ کچی زمین پر غسل فرمایا تھا اس لیے وضوء کے ساتھ پاؤں نہ دھوئے بلکہ بعد میں دھوئے اگر پختہ زمین پر غسل ہو تو پاؤں پہلے دھولیے جائیں۔خیال رہے کہ یہاں مسح سر کا ذکر نہیں یا تو حضور نے مسح کیا ہی نہیں کیونکہ سر کے دھلنے میں مسح بھی ہوجاتا ہے،یا مسح کیا تھا مگر ذکر نہیں لہذا یہ حدیث پہلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں مسح کا ذکر ہے۔

۴؎ یا اس لئے کہ کپڑا صاف نہ تھا یا آپ جلدی میں تھے،یا وقت گرمی کا تھا،جسم کی تری اچھی معلوم ہوتی تھی،یا اس لئے کہ غسل و وضو کا پانی نہ پونچھنا افضل۔بہرحال اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پونچھنا ممنوع ہے کیونکہ پچھلی روایتوں میں پونچھنے کا ثبوت بھی ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ وضواورغسل کے بعدجسم پر جو تری رہ جاتی ہے وہ ماءمستعمل نہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.