واقعہ بہاولپور

واقعہ بہاولپور:

دین اسلام دنیا میں امن و آتشی اور باہمی اخوت و محبت کا مذہب ہے اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں پر اپنی آراء و دین کو مسلط کرنے کے حوالے سے اس میں “لَاۤ اِکۡرَاہَ فِی الدِّیۡنِ ۟ۙ” کا روشن و واضح پیغام موجود ہے ،اس دین کی ایسی ہی پر نور تعلیمات کی وجہ سے دوسرے ادیان کے ماننے والے پروانوں کی طرح اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور شمع مصطفیٰ پر سب کچھ فدا کردیتے ہیں ۔دین اسلام کی بیان کی گئی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات بالکل عیاں ہے کہ انسانی جان انتہائی قیمتی ہے اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَیۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِی الۡاَرۡضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ وَ مَنۡ اَحۡیَاہَا فَکَاَنَّمَاۤ اَحۡیَا النَّاسَ جَمِیۡعًا ؕ

جس نے کوئی جان قتل کی بغرَ جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا (جان کو بچایا)اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا (سب کی جان بچالی)۔

یعنی ایک انسانی جان کی اہمیت اتنی ہے کہ یہ ایک شخص کا قتل نہیں بلکہ گویا ساری انسانیت کا قتل ہے اور ایک انسانی زندگی کی حفاظت کرنے والا ایسے ہے گویا اس نے ساری انسانیت کی حفاظت ہے۔لہذا انسانی جان کو دوسروں کے ضرر سے بچانے کے لئے مُضِر (قاتل)کے لئے سخت وعید کا اعلان فرمایا ہے کہ دنیا و آخرت میں اس کے لئے سزا ہے ،دنیا میں قاتل کی سزا کیاہے؟اس حوالے سے خود خالق کائنات ﷻکا فرمان ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلٰی ؕ اَلۡحُرُّ بِالۡحُرِّ وَ الۡعَبۡدُ بِالۡعَبۡدِ وَ الۡاُنۡثٰی بِالۡاُنۡثٰی ؕ

اے ایمان والوں تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔

قصاص کے نفاذ میں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں قاتل و مقتول میں چاہے دنیاوی مقام و مرتبہ کے لحاظ سےکتناہی تفاوت کیوں نہ ہے مگر مقتول کے بدلے میں قاتل کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، اسے اس کا معاشی، معاشرتی یا سماجی رتبہ کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کرتا، اور آخرت میں بھی مومن کے قاتل کے لئے دردناک عذاب ہے اللہ ﷻ ارشاد فرماتا ہے۔

وَ مَنۡ یَّقۡتُلۡ مُؤۡمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیۡہَا وَ غَضِبَ اللہُ عَلَیۡہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیۡمًا ﴿۹۳﴾

اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیا ر رکھا بڑا عذاب۔

انسانی جان کی اہمیت کے پیش نظر ایسا کوئی عمل کرنے کی بھی اجازت نہیں، جس کی وجہ سے کسی انسانی جان کو خطرے میں ڈالا جائے، نہ ہی براہ راست خطرے میں ڈال سکتا ہے اور نہ ہی بالواسطہ اس کے لئے خطرات پیدا کرسکتاہے۔اور ایسا عمل جس سے کسی جان کو خطرہ پہنچ سکتا ہو اس کے بارے میں محبوب خدا ﷺ کا ارشاد پاک ہے۔

مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.

جو کوئی اپنے بھائی کی طرف لوہے( ہتھیار) سے اشارہ کرتا ہے بے شک فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہںل جب تک وہ اس سے باز نہیں آجاتا، اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہو۔

بلکہ اس کے علاوہ صرف زبانی طور پر بھی کسی کے قتل کرنے میں رہنمائی ، ترغیب ، برانگیختہ یا تعاون کرتا ہے تو اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” مَنْ أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُؤْمِنٍ وَلَوْ بِشَطْرِ كَلِمَةٍ، لَقِيَ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ”۔

حضرت ابو ھریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مومن کے قتل میں تھوڑی بات کہہ کر بھی مددگار ہوا ہو تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی پیشانی پر اللہ کی رحمت سے مایوس(شخص) لکھا ہوگا۔

کسی کا قتل ناحق قاتل کے لئے تو بد ترین جرم ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اسباب و زرائع بھی شارع نےمذموم و ممنوع اور جرم قرار دے دیئے ہیں جو قتل پر منتج ہو سکتے ہوں۔جب ہتھیار سے کسی کی طرف صرف اشارہ یا زبان سے رہنمائی کرنے پر فاعل مستحق لعنت اور “الرحمٰن الرحیم “شان والے رب کی رحمت سے مایوس جیسی سخت وعید ہے تو براہ راست حملہ کرنے والے پر اللہ تعالیٰ کس قدر ناراض ہوتا ہوگا؟ یقینا یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے ، اس جرم کی شدت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں شرک جیسے بدترین جرم کو بیان فرمایا اس کے ساتھ ہی قتل کے گناہ کو بھی بیان فرمایا قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

وَ الَّذِیۡنَ لَا یَدۡعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ وَ لَا یَقۡتُلُوۡنَ النَّفۡسَ الَّتِیۡ حَرَّمَ اللہُ اِلَّا بِالۡحَقِّ وَ لَا یَزۡنُوۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ یَلۡقَ اَثَامًا ﴿ۙ۶۸﴾

اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پوجتے اور اس جان کو جس کی اللہ نے حرمت رکھی ناحق نہیں مارتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جو یہ کام کرے وہ سزا پائے گا۔

مومن کا خون کعبۃ اللہ سے بھی زیادہ محترم ہے:

ایک مومن کی جان کی قدر قیمتی اور اس کے خون کی حرمت کی بلندی کے بارے میں حضور رحمۃ للعالمین ﷺ فرماتے ہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، وَيَقُولُ “مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ، مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰهِ حُرْمَةً مِنْكِ، مَالِهِ، وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے۔ “تو کتنا عمدہ ہے، اور کتنی اچھی تیری خوشبوہےتو کتنا عظیم المرتبت ہےاور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کی حرمت اس کے مال و خون کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تیری حرمت سے بھی زیادہ ہے، اور ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے۔

گستاخی رسول کا الزام :

گستاخی رسول کائنات کا بد ترین جرم ہے اور اس کے مرتکب کے لئے کسی قسم کی نرمی و معافی کی گنجائش نہیں اور اس کی سزا موت ہے۔ لیکن کسی شخص کابغیر علم کے کسی دوسرے کو اس کا مرتکب قرار دینا بھی بہت بڑا گناہ ہے۔ شخصی تکفیر کے مسئلہ میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وقوعہ کی تصدیق کرنی چاہئے کہ جس واقعہ کو بنیاد بنا کر کسی کی تکفیر کی جارہی ہے کیا واقعی ایسا معاملہ وقوع پزیر ہوا بھی ہے؟ یا کسی بے گناہ کے خلاف تعصب پر مبنی محض پروپیگنڈہ ہے؟اس کے بعد یہ بھی دیکھنا چاہئے جس جملہ کو بیان کیا جارہا ہے کیا واقعی اس نے اس پیرائے میں بیان کیا ہے جس کا اس پر الزام ہے؟ یا ملزم نے کسی اور سیاق و سباق میں جملہ بولا ہے، اور اس واقعہ کی تشہیر سیاق و سباق سے ہٹ کر کی جارہی ہے۔ پھریہ دیکھنا بھی ضروری ہے یہ اس کی طرف سے انشاء ہے یا خبر(نقل کفر کفر نہ باشد) ہے۔ اس کا پورا کلام کیا ہے؟ کہیں کسی ادھورے جملے سے من پسند مقاصد تو حاصل نہیں کئے جا رہے ۔ عام کفر میں تکفیر سے پہلے لزوم و التزام کی شرائط کو بھی ضرور مد نظر رکھنا چاہئے۔ اس میں انتہائی تدبر و احتیاط کی ضرورت ہے کہ کہیں کسی بے گناہ پر کفر کا الزام نہ لگ جائے ۔

جھوٹ کی تشہیر( پروپیگنڈہ) پر وعید:

نبی اکرمﷺ کا ارشاد پاک ہے۔

عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ “كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ”۔

حضرت حفص بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کسی شخص کے جھوٹا ہونے کیلئے یہ کافی ہے کہ جو سنے اس کو(آگے) بیان کردے”۔

اسی طرح ایک دوسرے روایت میں ہےکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ”۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کسی شخص کے گناہگار ہونے کیلئے یہ کافی ہے کہ جو سنے اس کو(آگے) بیان کردے”۔

اس چیز کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ جسے ثواب سمجھ کر جگہ جگہ ذکر کیا جارہا ہے ۔تو کہیں ذکر کرنے والاچھوٹ کے فروغ و تشہیر کا مجرم تو نہیں بن رہا؟ اور نیکیوں کے حسن کے بجائے گناہوں کی سیاہی سے نامہ اعمال برباد تو نہیں ہورہا؟ بلکہ ایسی سنی سنائی جھوٹی باتوں کی ابتداءاور اس کو پھیلانے کی چارہ جوئی توخود ابلیس لعین بھی کرتا ہے ،مسلم شریف کی ایک رویت ہے ۔

عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبَدَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَتَمَثَّلُ فِى صُورَةِ الرَّجُلِ فَيَأْتِى الْقَوْمَ فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ فَيَتَفَرَّقُونَ فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَجُلاً أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلاَ أَدْرِى مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ (مسلم)

سيدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: شیطان ایک مرد کی صورت بن کر لوگوں کے پاس آتا ہے پھر ان سے جھوٹى حدیث بیان کرتا ہے۔ جب لوگ اس جگہ سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص کہتا ہے، میں نے سنا ایک شخص سے جس کی صورت میں پہچانتا ہوں لکن۔ نام نہیں جانتا وہ ایسے بیان کرتا تھا۔

لہذا اہل ایمان کو ہر وقت متنبہ رہنا چاہئے کہ کہیں انجانے میں رحمان کی فرمابرداری اور شریعت کی پاسداری کے بجائے ابلیس کےمشن کے آلہ کارنہ بن جائیں۔ ایسی کسی بھی بے بنیاد خبر کی تصدیق و تشہیر اور اس کی بنیاد پر کسی کے خلاف کاروائی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے۔

اَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوۡمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصۡبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلۡتُمۡ نٰدِمِیۡنَ ﴿۶﴾

اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحققت کرلو کہ کہںا کسی قوم کو بے جانے ایذا نہ دے بٹھون پھر اپنے کے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔

اگر خبر سچی بھی ہوتو پھر بھی اس پر شرعی حکم کے نفاذ یا فتویٰ کے لئے بھی شریعت کا علم ضروری ہے۔

بغیر علم کے فتویٰ:

اس دور میں دینی علوم سے نابلد لوگوں کو یہ زُعم ہے کہ وہ سارا دین جانتے ہیں لہذا ان کی رائے ہی حرف آخر ہے۔ بلکہ درحقیقت دینی علوم کی معرفت اور اس پر عبور یا دسترس کی صورتحال جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یہ ہے کہ اس میں اسلامی مضامین کی حکومتی نظام تعلیم میں ایک ثانوی حیثیت رہ گئی ہے۔اور پہلے سے موجود برائے نام اسلامی مضامین کو بھی ختم یا مزید کم کیا جارہا ہے ۔ اس نظام تعلیم سے کس قدر قرآن و حدیث اور شریعت کی معرفت و سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے ؟ اس کا اندازہ اس سے لگالیں فوجداری اپیل نمبر”39-L/2015 ” جس کی سماعت 8 اکتوبر 2018 کو ہوئی اس میں ایک انتہائی حساس شرعی مسئلہ پر 31 اکتوبر2018 میں انتہائی اہم فیصلہ عدالت عظمیٰ کے تین معزز جسٹس صاحبان نے فرمایا اورفیصلہ کی ابتدا اس سے فرمائی۔

اَشْهَدْ اَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لا شَرِيکَ لَہُ وَ اَشْھَدْ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُهٗ

“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہ ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں”

اور انگلش میں تحریر کئے گئے فیصلے میں اس کا ترجمہ لکھا۔

“I bear witness that there is no God worthy to be worshiped but Allah, and I bear witness that Muhammad is the Last Messenger of Allah”

اس میں آپ نے دونوں مرتبہ” اَشْهَدْ “میں دال پر ضمہ کے بجائے جزم تحریر کی اور اردو و انگریزی دونوں میں ترجمہ کرتے وقت “وَحْدَهُ لا شَرِيکَ لَہُ”( وہ اکیلاہے اس کا کوئی شریک نہیں ) کا ترجمہ ہی نہیں لکھا اور “اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُهٗ “(بے شک محمدﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) کاترجمہ اردو میں “حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں” اور انگریزی میں “Muhammad is the Last Messenger of Allah” کیا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ اس میں کلمہ شہادت کے بارے میں جو تحریر ہوا ہے اس کا آپ کی ہی سمجھ و معرفت کا ہونا اور کاتب کی غلطی نہ ہونے کا امکان آپ کی اس سے متصل یہ عبارت بھی ختم کردیتی ہے ۔ “مندرجہ بالا کلمہ شہادت جو اسلام کی روح ہے سے آشکار ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا(عبادت کے لائق) نہ ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں”۔ ہمارے خکومتی نظام تعلیم کے معیار کی حقیقی حالت تو یہ ہے کہ نہ تو اس کے ذریعےحاصل ہونے والے دینی علم سے نماز ادا کرسکتا ہے اور نہ ہی ضروریات دین کا پتہ چلتا ہے ۔ اور دوسرا تعلیم کے حصول کا اہم ذریعہ میدیا ہے اور میڈیا پرپہلے تودینی پروگراموں کے لئے وقت ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی خاص موقع پر کچھ وقت دیا بھی جاتا ہے تو اکثر دین کو بیان کرنے کی ذمہ داری علماء حق کے بجائے فنکاروں کے سپرد ہوتی ہے۔جس پر وہ نہ صرف من چاہی تعبیر و تشریح کرتے رہتے ہیں بلکہ فتویٰ لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ حالانکہ فتویٰ نویسی اور خاص کر تکفیر کا فتویٰ انتہائی ذمہ داری کا منصب ہے جو کہ کسی صورت میں حقیقی علماء کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہونا چاہئے۔اور یہ مہارت آج کے دور میں دو چار سال کسی دینی ادارے میں زیر تعلیم رہنے سے بھی حاصل نہیں ہوتی جب تک قرآن و حدیث اور فقہ و اصول فقہ پرمتبحر اساتذہ فن کے زیر سایہ مہارت حاصل نہ کی جائے۔ ایسے ہی جہلاء کو علماء کا منصب تنفیذ ہونے کے بارے میں سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ” إِنَّ اللّٰهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا ، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا “

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ مں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے واپس لے لے۔ بلکہ وہ (حقیقی) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

ایسے لوگوں کی گمراہی و بے دینی ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ دوسروں کے لئے بھی گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔آج کے دور میں بھی دیکھا جائے تو اہل علم اور خاص طور پر علماء ربانیین کم ہوتے جا رہے ہیں، اور جہلاء کا دور دورہ ہے اور جب اہل علم ختم ہوجائیں گے تو اس کے بارے میں سرکار دوعالم ﷺ نے پیشن گوئی کرتے ہوئے فرمایا تھا۔

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ ، وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا ” .

حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ (دینی) علم اٹھ جائے گا اور جہل ہی جہل ظاہر ہو جائے گا۔ اور (علانیہ) شراب پی جائے گی اور زنا پھیل جائے گا۔

اور آج ہم اس سے قریب تر حالات کا سامنا کررہے ہیں۔ہر شخص عملا اپنے آپ کو مفتی سمچھ رہا ہےاور یہ روش کتنی خطرناک کیونکہ بغیر علم کے فتویٰ کے بارے میں آقاء دوجہاں ﷺ کی ایک اور حدیث ہے۔

عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ ثُمَّ احْتَلَمَ ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ ، فَقَالَ هَلْ تَجِدُونَ لِي رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ فَقَالُوا مَا نَجِدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ . فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ ، فَقَالَ ” قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللّٰهُ ، أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا ، فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ شَكَّ مُوسَى عَلَى جُرْحِهِ خِرْقَةً ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهَا وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ ” ۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے (مسئلہ)پوچھاکیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: “ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب انہیں مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے پوچھ کیوں نہیں لیا؟ لاعلمی کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا (یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے)، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا”۔

اس حدیث مبارک میں رسول اللہ ﷺنے نہ جاننے کے باوجود مسئلہ بتانے پر جس کی وجہ سے کسی کی جان چلی گئی سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور مسئلہ بتانے والوں کے بارے میں فرمایا” ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے” حالانکہ یہاں کسی نے اس کے قتل کا فتویٰ نہیں دیا مگر لاعلمی کی بنا پر اس کو وہ حکم بتایا جو کہ شرعی نہیں تھا۔

لہذا ان لوگوں کو خود اس کا احساس کرنا چاہئے کہ ذرا ذرا سی بات اورذاتی ناراضگی کی وجہ سے کسی پر کفر و شرک کا فتویٰ صادر کر دینا کس قدر ناپسندیدگی کا باعث ہوگا۔

بغیر کے علم کے فتویٰ دینے کے بارے میں ابن ماجہ شریف میں روایت ہے۔

عَنِ ابِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال‏:‏ مَنْ اُفْتِيَ بِفُتْيَا مِنْ غَيْرِ ثَبْتٍ فَاِنَّمَا اِثْمُهُ عَلَى مَنْ اَفْتَاهُ

حضرت ابوہریرہسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جسے (بغیر تحقیق کے) کوئی غلط فتویٰ دیا گیا (اور اس نے اس پر عمل کیا) تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا”۔

اسی طرح ابو داؤد شریف میں ہے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَفْتَى . ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الطُّنْبُذِيِّ رَضِيعِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” مَنْ أُفْتِىَ بِغَيْرِ عِلْمٍ كَانَ إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ “. زَادَ سُلَيْمَانُ الْمَهْرِىُّ فِى حَدِيثِهِ “وَمَنْ أَشَارَ عَلَى أَخِيهِ بِأَمْرٍ يَعْلَمُ أَنَّ الرُّشْدَ فِى غَيْرِهِ فَقَدْ خَانَهُ “. وَهَذَا لَفْظُ سُلَيْمَانَ.

حضرت ابوہریرہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “جس نے فتویٰ دیا” اور سلیمان بن داود کی روایت میں ہے “جسے بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا۔ تو اس کا گناہ فتویٰ دینے والے پر ہو گا”۔ سلیمان مہری نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ” جس نے اپنے بھائی کی کسی معاملہ میں راہنمائی کی جس کے متعلق وہ یہ جانتا ہو کہ بھلائی اس کے علاوہ دوسرے میں ہے تو اس نے اس کے ساتھ خیانت کی”۔

اس کی شرع میں علامہ ابن ملك الكرمانی حنفی (المتوفى: 854 ھ)لکھتے ہیں۔

كلُّ جاهلٍ سألَ عالِمًا عَنْ مَسْأَلَةٍ مِنْ أحْكَامِ الشَّرْعِ، فَأفْتَاهُ العَالِمُ بِجوَابِ بَاطِلٍ، فَعَمَلَ السَائِلُ بِهَا وَلَمْ يَعْلَمْ بُطْلَانَهَا.”كانَ إثْمُهُ عَلَى مَنْ أفْتَاهُ،

کوئی بھی جاہل انسان کسی عالم سےشرعی مسئلہ کا حکم دریافت کرتاہے اور عالم اسے غلط مسئلہ(فتویٰ) بتا دیتا ہے جس کی وجہ سے سوال کرنے والا لا علمی کی بنا پر اس غلط پر ہی عمل کر دیتا ہے تو اس کا گناہ اس مفتی پر ہوگا جس نے فتویٰ دیا تھا۔

اور اس کی تائید ملا علی قاری حنفی بھی کرتے ہیں۔

كُلُّ جَاهِلٍ سَأَلَ عَالِمًا عَنْ مَسْأَلَةٍ فَأَفْتَاهُ الْعَالِمُ بِجَوَابٍ بَاطِلٍ، فَعَمِلَ السَّائِلُ بِهَا وَلَمْ يَعْلَمْ بُطْلَانَهُ فَإِثْمُهُ عَلَى الْمُفْتِي إِنْ قَصَّرَ فِي اجْتِهَادِهِ

کوئی بھی جاہل انسان کسی عالم سے مسئلہ دریافت کرتاہے اور عالم اسے غلط مسئلہ بتا دیتا ہے جس کی وجہ سے سوال کرنے والا لا علمی کی وجہ سے اس غلط پر ہی عمل کر دیتا ہے تو اس کا گناہ اس مفتی پر ہوگا جس نے اجتہاد میں کوتاہی کی ہے۔

ان فرامین رسول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ بے جافتویٰ بازی سے اپنے آپ کو بچائے اور خاص طور پرشخصی تفسیق و تکفیر کے معاملہ میں بہت زیادہ احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھے۔ کیونکہ بلاتحقیق و تبین کےکسی بے گناہ کی تکفیر پرملزم کے بجائے مُکفِرکے اپنے ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔

تکفیر میں بے احتیاطی کا اعتاب:

اس حوالے سے رسول اللہﷺ کی واضح حدیث پاک موجود ہے۔

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ” أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا”۔

حضر ت عبداللہ  بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جب کسی شخص نے اپنے بھائی کو کافر کہا تو وہ کفر دونوں مںَ سے کسی پر ضرور پلٹے گا “۔

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا ، إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ ، وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ ” .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو شخص اپنے بھائی کو کافر کہہ کر پکارے تو دونوں مںِ سے ایک پر کفر آ ئے گا۔ اگر وہ شخص جس کو اس نے کہا (حقیقتا)کافر ہے تو خرا (کفر اس پر رہے گا) ورنہ پکارنے والے پر لوٹ آئے گا”۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ” إِذَا كَفَّرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا” جب کوئی شخص اپنے بھائی کی تکفیر کرتا ہے تو وہ کفر دونوں میں سے کسی پر ضرور پلٹے گا”۔

ان احادیث کے تحت شرح کرتے ہوئے علماء کرام نے تفصیلی گفتگو کی ہے ان میں سے علماء ظاہر کے نزدیک ملزم کے مستحق کفر نہ ہونے پر تکفیر کرنے والے پروجوب کفر کا حکم لگےگا۔ مگر محقق علماء نے کسی کی تکفیر کرنے پر اگر وہ شخص اس کا مستحق نہ ہو تو تکفیرکرنے والے پر تکفیر کا حکم تو نہیں لگایا مگر فرمایادوسرے کے مستحق کفر نہ ہونے پر عمل تکفیر کا گناہ اس پرضرورلوٹے گا۔ اوربعض علما نے فرمایا اگر کسی تکفیر کرنے کی عادت بن جائے تو اس کے اپنے سوء خاتمہ کا خدشہ بھی ہے۔

لہذا کسی کو کافر و گستاخ قراردینے سے پہلے ان تمام تنبیہات و شرعی وعیدات کو ضرور پیش نظر رکھیں۔۔۔

ارباب اختیار کے لئے لمحہ فکریہ ۔۔۔۔

بیرونی دباو یا غیروں کو خوش کرنے کے لئے اگر فیصلے کئے جائیں گے(اور یہ تاثر ابھرے گا کہ گستاخوں کو سزائیں نہیں ملتیں) تو عوام کا عدالتوں پر اعتماد ختم ہوگا جو کئی بےگناہوں کی موت کا باعث بنے گا۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.