کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 13 سورہ البقرہ آیت نمبر229 تا 231

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ۪-فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍؕ-وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْــٴًـا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ-فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَاۚ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۲۹)

یہ طلاق (ف۴۴۶) دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے (ف۴۴۷) یا نکوئی(اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑدینا ہے (ف۴۴۸) اور تمہیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا (ف۴۴۹) اس میں سے کچھ واپس لو (ف۴۵۰) مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے (ف۴۵۱) پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے (ف۴۵۲) یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں

(ف446)

یعنی طلاق رجعی

شانِ نزول: ایک عورت نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے شوہر نے کہاہے کہ وہ اس کو طلاق دیتااور رجعت کرتا رہے گاہر مرتبہ جب طلاق کی عدت گزرنے کے قریب ہوگی رجعت کرلے گا پھر طلاق دے دے گااسی طرح عمر بھر اس کو قید رکھے گااس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ارشاد فرمادیا کہ طلاق رجعی دو بار تک ہے اس کے بعد طلاق دینے پر رجعت کا حق نہیں۔

(ف447)

رجعت کرکے ۔

(ف448)

اس طرح کہ رجعت نہ کرے اور عدت گزر کر عورت بائنہ ہوجائے۔

(ف449)

یعنی مہر

(ف450)

طلاق دیتے وقت

(ف451)

جو حقوق زوجین کے متعلق ہیں۔

(ف452)

یعنی طلاق حاصل کرے

شانِ نزول: یہ آیت جمیلہ بنت عبداللہ کے باب میں نازل ہوئی یہ جمیلہ ثابت بن قیس ابن شماس کے نکاح میں تھیں اورشوہر سے کمال نفرت رکھتی تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں اپنے شوہر کی شکایت لائیں اور کسی طرح ان کے پاس رہنے پر راضی نہ ہوئیں تب ثابت نے کہا کہ میں نے ان کو ایک باغ دیاہے اگر یہ میرے پاس رہناگوارا نہیں کرتیں اور مجھ سے علیحدگی چاہتی ہیں تو وہ باغ مجھے واپس کریں میں ان کو آزاد کردوں جمیلہ نے اس کو منظور کیا ثابت نے باغ لے لیااور طلاق دے دی اس طرح کی طلاق کو خُلَعْ کہتے ہیں

مسئلہ :خُلَع طلاق بائن ہوتا ہے۔

مسئلہ : خُلَعْ میں لفظ خلع کاذکر ضروری ہے۔

مسئلہ : اگرجدائی کی طلب گار عورت ہو توخُلَع میں مقدار مہر سے زائد لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے نشوز نہ ہو مرد ہی علیحدگی چاہے تو مرد کو طلاق کے عوض مال لینا مطلقاً مکروہ ہے۔

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۲۳۰)

پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے(ف۴۵۳) پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں (ف۴۵۴) اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لیے

(ف453)

مسئلہ:تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر بحرمت مغلظہ حرام ہوجاتی ہے اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے نہ دوبارہ نکاح جب تک کہ حلالہ ہو یعنی بعد عدت دوسرے سے نکاح کرے اور وہ بعد صحبت طلاق دے پھر عدت گزرے۔

(ف454)

دوبارہ نکاح کرلیں۔

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ ۪-وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْاۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا٘-وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۲۳۱)

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے (ف۴۵۵) تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو (ف۴۵۶) یا نکوئی (اچھے سلوک)کے ساتھ چھوڑ دو (ف۴۵۷) اور انہیں ضرر دینے کے لیے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے (ف۴۵۸) اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو (ف۴۵۹) اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے (ف۴۶۰) اور وہ جو تم پر کتاب و حکمت (ف۴۶۱) اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف۴۶۲)

(ف455)

یعنی عدت تمام ہونے کے قریب ہو

شانِ نزول: یہ آیت ثابت بن یسار انصاری کے حق میں نازل ہوئی انہوں نے اپنی عورت کو طلاق دی تھی اور جب عدت قریب ختم ہوتی تھی رجعت کرلیا کرتے تھے تاکہ عورت قید میں پڑی رہے۔

(ف456)

یعنی نباہنے اور اچھا معاملہ کرنے کی نیت سے رجعت کرو ۔

(ف457)

اور عدت گزر جانے دو تاکہ بعد عدت وہ آزاد ہوجائیں ۔

(ف458)

کہ حکم الٰہی کی مخالفت کرکے گنہگار ہوتا ہے۔

(ف459)

کہ ان کی پرواہ نہ کرو اور انکے خلاف عمل کرو۔

(ف460)

کہ تمہیں مسلمان کیا اور سیدانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی بنایا ۔

(ف461)

کتاب سے قرآن اور حکمت سے احکام قرآن و سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مراد ہے۔

(ف462)

اس سے کچھ مخفی نہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.