آج کا مسلمان

علم نور ہے، جہالت تاریکی ہے، علم اجالا ہے، جہالت اندھیرا ہے، علم سے اخلاق سنورتے ہیں، علم سے کردار بنتے ہیں، علم سے زنگ آلود قلوب طہارت پاتے ہیں، علم سے پراگندہ اذہان کو پاکیزگی ملتی ہے، علم سے شعورِ زندگی ملتا ہے، علم سے طرزِ بندگی ملتا ہے، علم سے سلیقۂ حیات کی تحصیل ہوتی ہے۔ اسلام میں علم کی بہت اہمیت ہے، پہلی وحی قرآنی کا نور بھی علم کی تلقین فرماتا ہوا تشریف لایا ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق‘‘ قرآنِ مبین میں جگہ جگہ تعلیم کے حصول کی ترغیب دی گئی ہے، احادیث میں جا بجا علم کی فضیلت اور تحصیلِ علم کے احکامات وارد ہوئے ہیں۔

کائنات کے مُعَلِّمِ اعظم، رحمۃ للعالمین، مصطفی جانِ رحمتﷺ نے علم و دانائی اور متاعِ ہوش و خرد سے عاری عرب کے بادیہ نشینوں اور اونٹوں اور بکریوں کے چرواہوں کی اس احسن طرز سے تعلیم و تربیت فرمائی کہ آج تک ان فہیم و ذکی اور زیرک و دانا اصحابِ رسول ا کی طرح ذہانت و فطانت میں اپنی مثال آپ افراد کی جماعت دنیا کی نگاہوں نے نہ دیکھا۔ آج سارے عالم میں جس قدر بھی نت نئی ترقیاں و ایجادات، اکتشافات اور دریافتیں ہوئی ہیں ان تمام کی خشتِ اول قرآن مبین کی درخشاں و تاباں تعلیمات کے یہی بارگاہِ رسالت ا کے متعلمین و طالبین ہیں۔ لا علمی اور جہالت کے عمیق غاروں اور وادیوں میں سر گرداں اور بھٹکنے والے افراد آنِ واحد میں کس طرح قوموں کے امام واجب الاحترام بن گئے یہ ایک اہم سوال ہے۔ در حقیقت کائنات کے معلمِ اعظم ﷺ نے نے بذاتِ خود ان حضرات کی تعلیم و تربیت فرمائی تھی۔ تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کے ساتھ ساتھ معلم کائنات ﷺ نے ان افراد کے قلوب و اذہان میں علوم و معارف کے دریا رواں دواں فرما دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دل گنجینۂ علوم و معارف اور خز ینۂ اسرار و دقائق بن گئے تھے۔

معلمِ کائنات ﷺ کا طریقۂ تعلیم و تعلم انتہائی اعلیٰ اور لوگوں کو اپنی طرف مکمل طور پر راغب کرنے والا تھا، آپ نے لوگوں کی تعلیم و تربیت، اصلاح نفس اور تزکیہ و طہارتِ قلب و ذہن کے لئے قرآنِ مبین کے زرّیں اصولوں اور روشن روشن طرزِ تعلیم و تعلم کو اپنایا۔ خدائے علیم و خبیر جل شانہٗ ارشاد فرماتا ہے ’’ادع الٰی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ و جادلہم بالتی ہی احسن‘‘اپنے رب کی راہ کی طرف بلائو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو ۔(کنزالایمان، سورۃ النحل:۱۲۵، پ:۱۴)

اس آیتِ شریفہ میں قادرِ مطلق جل شانہٗ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے رسولِ رحمت، معلمِ کائناتﷺ کو پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے تلقین کرنے کا حکم فرماتا ہے۔ اس آیت میں ہر صنفِ انسانی یعنی بلا لحاظِ مذہب و نسل تمام لوگوں کے لئے مکمل دعوت ہے اور جو طریقۂ کامل اس میں موجود ہے وہ ہر قسمِ انسانی اور ان کے عادات و اطوار، اوصاف و خصائل اور طبیعتوں سے میل کھاتا ہے۔ انسانوں کی تین قسمیں جن کے لئے یہ دعوت ہے وہ ہیں طبقۂ خواص جو طالبِ حقیقت ہوتے ہیں، دوسرے طبقۂ عوام، تیسرے ان دونوں کے مخالف۔

اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں کہ تینوں اقسام مذکورہ میں ہر ایک قسم کے لئے اس آیتِ کریمہ میں ایک نہایت عمدہ اور معین اسلوب ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں بلاتا اور سکھاتا ہے۔ بے شک خالقِ کائنات نے اپنے نبیِ پاک معلم کائنات ا کو عظمت و سر بلندی اور رعب و دبدبہ عطا فرمایا ان کے کلام، ان کی زبان اور ان کے اقوال میں لوگوں کے لئے محبت و عقیدت ڈال دی جسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ان کے لئے رعب و دبدبہ اور شیرینی و لطافتِ گفتار دونوں کو یکجا فرما دیاان کی گلفشاں گلفشاں گفتگو کو اعادے اور دہرانے سے بے نیاز کر دیا ان کی مقدس ترین زبان سے کوئی لفظ نہ ساقط ہوا نہ کبھی غلط نکلا کیوں کہ ’’وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘ کے مصداق آپ کی زبان پر حق بولتا تھا، آپ وہی بولتے تھے جو مشیتِ خداوندی ہوتا تھا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدثِ بریلوی اسی جامعیت و انفرادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں سلام عرض کرتے ہیں ؎وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا ……….  چشمۂ علم و حکمت پہ لاکھوں سلام

جب ہم انسانوں کی تینوں اقسام عوام و خواص اور مخالفین حق پر نظر دوڑاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آیتِ کریمہ کا تعلق تینوں سے قائم ہے۔ جہاں تک خواص کا تعلق ہے تو انہیں حکمت و تدبیر کے ساتھ تعلیم دی جاتی ہے یعنی ایسی گفتگو کے ساتھ انہیں دعوت دینی چاہئے جو محکم اور صحیح ہو اور ایسے واضح دلائل و براہین کے ساتھ ہو جو حق کو انتہائی مبرہن کر دے اور ہر قسم کے شکوک و شبہات کو دور کر دے کیوں کہ طبقۂ خواص کے افراد روشن دلیلوں پر ہی قناعت کرتے ہیں اور اسی کے ذریعہ منزلِ ہدایت تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ طبقۂ عوام کے لوگوں کو مواعظِ حسنہ کے ساتھ دعوت دینی چاہئے یعنی ایسی خطابت و تقریر جس میں ایسی عبرت ہو جس سے وہ جان لیں کہ ان کے لئے بھلائی اور فلاح و بہبود کس میں مضمر ہے۔۔ اور جہاں تیسری قسم کا تعلق ہے تو اس کے لئے یہ طریقۂ کار ہے کہ انہیں بہترین طریقہ سے سنجیدہ بحث و تمحیص کے ذریعہ دعوت دی جائے یعنی نرمی سے آسانی اور سہل دلائل و براہین اور مشہور و معروف مثالوں کا حوالہ دیا جائے جو ان کے سینوں کی جلن کو سکون میں تبدیل کر سکیں۔

معلم کائنات ﷺ مسلمانوں کو اکثر و بیشتر سوال و جواب کے ذریعہ تعلیم دیتے تھے جیسا کہ حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریمﷺ کی بارگاہ مقدسہ میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال عرض کیا گیا تو آپ نے فرمایا نیکی حسنِ خلق کو کہتے ہیں اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تجھے یہ پسند نہ ہو کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔ اسی طرح آپ خواتین کو بھی سوال و جواب کے طریقہ سے تعلیم فرماتے۔ نبوی طریقۂ تعلیم میں تعلیم نسواں پر بھی توجہ دی گئی ہے اس سے اسلام کا مقصود یہ ہے کہ عورتوں کی تعلیم و تربیت اور آراستگیٔ ظاہر و باطن ’’دینی ثقافت‘‘ کے ذریعہ کی جائے۔

معلمِ کائنات ﷺ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خود سوال عرض کرتے اس لئے نہیں کہ انہیں وہ جواب دیں بلکہ سوالات کے ذریعہ ان کے اذہان میں ان مطالب و مفاہیم اور رموز و اسرار کے اکتساب کے لئے شوق و ذوق اور توجہ و اشتیاق پیدا فرما دیتے جو آپ انہیں آگاہ فرمانا چاہ رہے ہوتے تھے۔ حضرتِ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں امر کے سر، عمود اور اس کے کوہان کی چوٹی کے بارے میں آگاہ نہ کردوں؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہﷺ کیوں نہیں، آقا ﷺ نے فرمایا امر(نیکی کا حکم) کا سر اسلام ہے، اس کا عمود نماز ہے اور اس کے کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ معلمِ کائنات ﷺ کا یہ طریقۂ تعلیم و تعلم یعنی سوال و جواب کا طریقہ آج کے ماہرینِ تعلیم نے اخذ کر کے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

رسولِ مختارﷺ سوال کر کے جواب معلوم کر نے کا طریقہ تعلیم لوگوں کی تربیت کے لئے استعمال فرماتے تھے تاکہ وہ صحابہ کے علم اور ذہانتوں کا امتحان لیں جیسا کہ حضرتِ ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسولِ کونین ﷺ نے فرمایا کہ ایک درخت جس کے پتے نہیں گرتے اور وہ مومن کی مثال ہے بتائو وہ درخت کون سا ہے؟ لوگوں کے ذہن صحرا کے درختوں کی طرف گئے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میرے دل میں کھجور کے درخت کا خیال آیا مگر میں جھجک گیا، پھر صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہمیں بتائیں وہ کون سا درخت ہے آپ نے فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ معلمِ کائناتﷺ جب مسلسل لوگوں کی تعلیم و تربیت فرماتے تو اس بات کا اندیشہ فرماتے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم پر ان کا طریقۂ تعلیم گراں نہ پڑے اور وہ اکتا نہ جائیں لہٰذا انہیں آرام اور تفریح کا وقفہ فراہم کرتے تاکہ جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ ان کے قلوب و اذہان میں اچھی طرح منقش ہو جائے۔ آج تعلیمی و تربیتی ادارے اسی طریقۂ کار کو اپنا کر کامیاب ہیں۔ آج دانشگاہوں میں دورانِ تدریس طلباء کی اکتسابِ علم کے تعلق سے آمادگی پر بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیٔ کریمﷺ وعظ و نصیحت کبھی کبھی فرماتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں آپ لوگوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق مخاطب فرمایا کرتے تھے اور ان سے وہی کچھ کہتے جو ان کے حواس سے ہم آہنگ ہوتا، ان کی فطرتوں کے عین مطابق ہوتا اور ان کے اسلوب اور طرز سے مشابہ ہوتا تاکہ آپ کی تعلیم ان تک بآسانی پہنچ سکے۔ آپ اپنی تعلیمات کو لوگوں کے قلوب و اذہان میں جا گزیں کرنے کی خاطر اپنی بات کو تین مرتبہ فرمایا کرتے۔

سوال و جواب کے طریقۂ تعلیم کے علاوہ مثالوں اور حوالوں کے ذریعہ مسائل کا حل فرماتے اور اسی طرح کوئی قصہ اور حکایت بیان فرما کر اسلام کی بنیادی فکریں واضح فرماتے۔ آپ اس طریقۂ تدریس سے ایمان باللہ، توحید، رسالت، صبر، غیبت، صدق، فضیلتِ توبہ، توکل، قناعت اور تسلیم و رضا جیسے بلند مضامین کو واقعات و حکایات کی روشنی میں بیان فرماتے اور ساتھ ہی ساتھ سابقہ امتوں کے واقعات و قصص بیان فرماتے۔ آپ جو بھی سناتے وہ سچ پر مبنی ہوتا اور سچے لوگوں کے بارے میں ہوتا کیوں کہ بیان فرمانے والا ہی صادق و مصدوق ا اور اپنی طرف سے کچھ نہ کہنے والا بلکہ وہ کہتا جو وحی الٰہی ہوتی ’’و ما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ‘‘ کے مصداق آپ جو فرماتے وہ رب العزت کا کلام ہوتا۔

اس تجزئے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ معلمِ کائناتﷺ کے تعلیم و تعلم کے انداز گو نا گوں اور متنوع تھے جن سے لوگوں کو نور اور کمال کی منزلوں تک رسائی ہوتی تھی اور انہی طرزہائے تدریس کا نتیجہ تھا کہ ایک صالح اسلامی طرزِ معاشرت کی داغ بیل پڑ گئی جس نے فتحِ مبین کی حسین و جمیل شکل اختیار کر لی اور امتِ مسلمہ ’’خیرِ امت‘‘ کے عظیم ترین اعزاز سے نوازی گئی۔

ہمارے لئے ہمارے آقا و مولیٰ ہادیٔ برحق معلمِ کائناتﷺ نے دین و دنیا کے راستوں کو کشادہ فرمادیا اور اپنی تعلیماتِ صالحہ کی ایسی روشنی ہمیں عطا فرمائی کہ آج مسلمان اگر چاہیں تو اس روشنی سے ترقی و عروج اور کمال کی نہایت اعلیٰ ترین منزلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کو چاہئے کہ دورانِ تدریس معلمِ کائنات ا کا طریقۂ تعلیم و تعلم استعمال کریں پھر دیکھیں اس کے کتنے اچھے اور دور رس نتائج بر آمد ہوں گے اللہ ہمیں توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین بجاہ الحبیب الامین ا۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اسلام اور مسلمانوں پر الزام تراشی کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ روزِ اول ہی سے چلا آرہا ہے،اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی آمد سے پیشتر جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکنے والی قوم، عادات و اطوار کے اعتبار سے ہلاکت کے عمیق غار میں گری جا رہی تھی، شراب نوشی، سود خوری، بدمستی، مال کی محبت اور بوالہَوسی انتہاء کو پہنچ چکی تھی جس کی وجہ سے دنیا کا سکون و چین غارت ہوچکا تھا، انسان انسانیت سے گری ہوئی حرکتوں کا مرتکب ہو کر ساری دنیا سے انسانیت کے خاتمہ کے لئے جد و جہد کر رہا تھا، جسے اشرف المخلوقات ہونے کا شرف خالقِ کائنات جل و عَلا نے بخشا تھا وہ اپنی بد اخلاقیوں کی وجہ سے جانوروں سے بھی بدتر نظر آرہا تھا اور فسادی بن کر دنیا میں فساد پیدا کر رہا تھا، عالمی معاشرہ آشفتگی و بے قراری کا شکار تھا، قوانینِ الٰہی کا احترام دنیا سے اُٹھ چکا تھا، عدل و مساوات کا خون ہو رہا تھا، چمنِ دہر میں مصائب و آلام کی بدلیاں چھائی ہوئی تھیں، سبزہ زاروں کی ہریالی پر خزاں کا دور مسلط ہو چکا تھا۔

جیسا کہ قرآنِ مقدس میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’ظہر الفساد فی البر و البحر بنا کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون‘‘ چمکی خرابی خشکی اور تری میں ان برائیوں سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائی تاکہ ان کو ان کے بعض کوتکوں کا مزہ چکھائے کہیں وہ باز آئیں۔

سسکتی ہوئی انسانیت فسادیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے بے چین تھی، بیوائوں کے نالے، یتیموں کی آہیں اور مظلوم کی فریاد ربِ قدیر جل جلالہٗ نے سُن ہی لی اور دہشت گردوں اور فسادیوں سے مظلوم و بے کس انسان کو نجات دلانے کے لئے ایک عظمت والے رسول ا کو مبعوث فرمایا۔

جب خورشیدِ رسالت طلوع ہوا تو ہر مظلوم کو انصاف کی امید، ہر کمزور کو طاقت وروں سے نجات کا یقین، زندہ در گور کر دی جانے والی بے قصور بچیوں کو پر کیف زندگی گزارنے کی دائمی خوشی حاصل ہو گئی، اور ایسا عدل و انصاف قائم ہوا کہ تاریخِ عالم جس کی نظیر نہیں پیش کر سکتی۔ اس لئے کہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو صرف دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے نہیں بلکہ اسبابِ دہشت گردی پر روک لگا کر معاشرہ کر امن کا گہوارہ بنانے کے لئے آیا تھا۔

حقوقِ انسانی کا جو عظیم نظام اور نمونہ پیغمبرِ اسلام ﷺ نے پیش کیا تاریخ میں اس کی مثال ممکن نہیں۔ ظاہر سی بات ہے سود کے ذریعہ غریبوں کا خون چوسنے والی قوم، غلام بنا کر کمزوروں کا استحصال کرنے والی قوم اور اُس دور کے سب سے بڑے دہشت گرد، ابوجہل اور ابو لہب کو کب یہ گوارا تھا کہ معاشرہ پر سکون رہے اس لئے انہوں نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام ا پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا، کبھی یہ کہاکہ اسلام جبر و زیادتی کا مذہب ہے، اسلام کے ماننے والے دہشت گرد ہیں اور کبھی اسلامی دہشت گردی کہہ کر اسلام کے حسین چہرے کو داغ دار کرنے کی ناپاک کوشش کی لیکن اسلام وہ چراغ نہیں جو پھونکوں سے بجھایا جا سکے۔ کیوں کہ اس چراغ کی تکمیل کا ذمہ خود خالقِ کائنات نے اپنے ذمۂ کرم پر لیا ہے جیسا کہ قرآنِ مقدس میں رب نے فرمایا ’’یریدون لیطفؤا نور اللہ بافواہہم و یابی اللہ الا ان یتم نورہ و لو کرہ الکفرون‘‘ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ نہ مانے گا مگر اپنے نور کا پورا کرنا پڑے برا مانیں کافر۔

کبھی یہ کہا گیاکہ اسلام کے قبول کرنے والے لوگ غریب و لاچار ہیں، کبھی پیغمبرِ اسلامﷺ کی نبوت کا انکار کر کے یہ اعتراض کیا گیا کہ نبوت کے لئے یتیم کا انتخاب ممکن ہے؟ نبی تو کسی بادشاہ کو یا سرمایہ دار کو ہونا چاہئے، یہ کیسے نبی ہو سکتے ہیںجو کہ بازاروں میں چلتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں، بازاروں میں چلتے ہیں وغیرہ۔ غرض کہ مختلف طریقے سے فروغِ اسلام کو روکنے اور دامنِ اسلام کو تھامنے والوں کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ یقینا اعتراض کرنے والے بظاہر اپنے دور کے ذہین، طاقتور، سرمایہ دار اور معزز کہلائے جانے والوں میں سے تھے، اس دور میں پیغمبرِ اعظمﷺ نے معترضین اور دہشت گردوں کے اعتراض کا جواب کس طرح سے دیا اسے ہم کو اچھی طرح سے ذہن میں رکھنا ہے اور سرکار ا کے نقشِ قدم پر چل کر دورِ حاضر کے دہشت گردوں اور اسلام کے خلاف پروپگنڈا کرنے والوں کو ہم جواب دیں تاکہ سنتِ رسول ا کی برکتوں سے ہم اپنے سچے مذہب کو بے چین و بے قرار قوموں تک پہنچا کر دامنِ اسلام میں جگہ دے سکیں۔ یقینا یہ جواب مکی دور کا ہے اسے ذہن میں رکھا جائے۔

جب اللہ کے رسولﷺ نے جبلِ ابو قُبیس پر لوگوں کو دعوت الی اللہ دینا چاہا تو سب سے پہلے اپنی ذات کے حوالے سے لوگوں کے نظریات دریافت فرمائے، پوچھا کہ اگر میں کہوں کہ پہاڑ کی اس جانب سے ایک لشکرِ جرار حملہ آور ہونے والا ہے تو کیا تم میری بات پر یقین کر لوگے؟ تو بے ساختہ رؤسائے قریش نے بیک زبان کہا کہ اے محمد ا آپ نے سچ کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کہا ہے۔ پھر تاجدارِ کائناتﷺ نے اللہ کی طرف دعوت دی اور ہزاروں معبودانِ باطلہ کی پرستش کے بجائے خدائے واحد و بر حق کے سجدے کی طرف بلایا، بس کیا تھاکہ معبودانِ باطلہ کی پرستش چھوڑ کر ایک رب کی طرف بلانا ان کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیتا ہے، بے ساختہ اسلام اور دعوت الی اللہ کے سچ ہونے کے حوالے سے دلیل طلب کی گئی تو پیغمبرِ اعظم ﷺ نے رب کی وحدانیت کی دلیل کے طور پر کوئی معجزہ دکھانے کی بجائے اپنی بے عیب زندگی کو بطورِ دلیل پیش فرمایا جیسا کہ قرآنِ مقدس میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا ’’فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون‘‘ یعنی ’’تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں؟‘‘

گویا قیامت تک کے لئے آنے والے مسلمانوں کو ایک فکر عطا فرمادی کہ تم اپنی ذات کو اسلام کے سچے ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کرو۔

اس دلیل کا دنیائے انسانیت کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس لئے کہ تجارت کی منڈی سے لے کر غریبوں کی مدد تک اور مخلوق خدا کی خدمت سے لے کر رشتہ داروں کے حقوق تک رسولِ اعظمﷺ کی نظیر ممکن نہ تھی اس لئے کہ جو رسول دودھ پینے کے سلسلے میں رضاعی بھائی کے حق کا خیال فرماتے ہوں وہ رسول کسی اور کی حق تلفی کیسے کر سکتے ہیں اور یہ ایک ایسی سچائی تھی جسے دنیا بازار سے لے کر خاندان میں بھی اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جس کا انکار کسی طرح بھی ممکن نہ تھا۔

بہت سارے شریف النفس اس دعوت پر غور کرنے لگے اور دعوت دینے والے کی بے عیب شخصیت سے متأثر ہو کر اپنے آپ کو آغوشِ اسلام میں پہنچانے لگے۔ شروع شروع میں ان دہشت گردوں نے یہ سوچا کہ چند دنوں میں یہ دین ختم ہو جائے گا لیکن اللہ کے اس پسندیدہ دین کو پھیلنا تھا وہ پھیلتا گیا۔ آہستہ آہستہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر اس دور کے دہشت گرد اپنی طاقت کا استعمال کرنے لگے، اسلام قبول کرنے والوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹتے، کبھی گرم ریت پر گھسیٹا جاتا، کبھی برہنہ پیٹھ شعلوں پر لٹایا جاتا لیکن ان کے جبر و زیادتی اور طاقت کا مظاہرہ اسلام کے ماننے والوں کو اسلام سے دور کرنے کی بجائے اسلام پر اور مضبوط کر دیتا۔

وہ دور الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کا دور نہ تھا کہ اس کے ذریعہ سے الزام کا جواب دیا جا سکے، ظاہر سی بات ہے ان کے پاس افراد کی کثرت تھی، ان کے پاس وسائل تھے، وہ سینہ بسینہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے متعلق پروپیگنڈہ کرتے تھے۔ اللہ کے رسول ا نے اس دور میں اپنے صحابہ کو مکمل اسلام بنا دیا تھا۔ جب کہیں آواز آتی ’’مسلمان دہشت گرد ہیں‘‘ تو اللہ کے رسولﷺ اپنے صحابہ کو ان کے سامنے پیش کر دیتے اور صحابہ کی معاملاتی زندگی سے لے کر اخلاقی زندگی اور عبادات و تقویٰ کو دیکھ کر دنیا پکار اٹھتی کہ اتنے اچھے کردار کا مالک بھلا دہشت گرد کیسے ہو سکتا ہے جو امین ہو وہ ظالم کیسے ہو سکتا ہے؟ جس کی نگاہیں جھکی ہوں، جو رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو، غریبوں کی دستگیری کرتا ہو اور آپس میں رحم دل ہو، یقینا یہ بڑے عظیم دین کے ماننے والے لوگ اور بڑے کردار کے مالک ہیں، یہ اس دور کے پروپیگنڈے کا جواب تھاجو رسولِ اعظمﷺ نے اپنے صحابہ کے ذریعہ اس دور کے دہشت گردوں کو عطا فرمایا تھا، آج الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کا دور ہے اور ان دونوں پر صیہونی طاقت کا کنٹرول ہے۔

ہمیں تو اپنے ملکوں کی تباہی اور بھائیوں کے قتل کی خبر بھی دشمنوں کے بتانے سے ہی ملتی ہے۔ میرے آقا ﷺ کے علم میں یہ بات تھی اس لئے دہشت گردوں کے سوالوں کا جواب صحابہ کی زندگی کے ذریعہ دیا تاکہ جب بھی اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ ہو تو مسلمان مکمل اسلام بن جائے تاکہ اسلام کا حسن گھر کی چار دیواری سے لے کر تجارت کی منڈیوں تک نظر آئے اور شریف النفس لوگ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے کے شکار ہونے کی بجائے اسلام کے حسن کو اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ سکے۔

کیا آج ہم اسلام کے اصول کے پابند ہیں؟ کیا ہماری زندگی سے اسلام کا حسن نمایاں ہے؟ کیا ہم امانت و صداقت کے علمبردار ہیں؟ کیا ہماری زندگی امانت و صداقت کی حامل ہے؟الا ماشاء اللہ

یاد رکھیں ! ہمیں مسجد کی چار دیواری میں نماز پڑھتے ہوئے دن میں پانچ مرتبہ چند منٹوں کے لئے مسلمان ہی دیکھتا ہے، خانۂ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے زندگی میں ایک بار یا چند بار مسلمان ہی دیکھتا ہے، سال میں ایک مہینہ کے روزے کے حوالے سے مسلمان ہی با خبر ہوتا ہے اور مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ دیتے وقت مسلمان ہی دیکھتا ہے لیکن تجارت کی منڈی سے لے کر حالتِ سفر میں اور اپنی قیام گاہ اور بازار وغیرہ میں چلتے پھرتے ہر مذہب کے لوگ دیکھتے ہیں۔

کاش ہم اپنی داخلی اور خارجی زندگی کو سنتوں کے سانچے میں ڈھال لیتے تو آج کے پروپگنڈے کا بہت حد تک یہ جواب بن جاتا۔ اس لئے کہ جب اخلاقِ رسولﷺ کے سانچے میں ہم ڈھل جائیں گے تو رب کے سامنے سر جھکانے کا جذبہ بھی پیدا ہو گا اور رب کی راہ میں سر کٹانے کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔

دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اخلاقِ رسولﷺ اور سنتِ رسولﷺ کا پیکر بنائے اور موجودہ دور کے الزام کا جواب بننے کی صلاحیت عطا کرے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.