امام قاضی ابویوسف

امام قاضی ابویوسف

آپ عظیم محدث وفقیہ تھے ،امام اعظم کے ارشدتلامذہ میں ہیں ،فر ماتے تھے ۔

میرے ساتھ میں پڑھنے والوں کی یوں توکافی جماعت تھی ،لیکن جس بیچارے کے دل کی دباغت دہی سے کی گئی تھی نفع اسی نے اٹھایا ۔

پھرخود ہی دل کی اس دباغت کا مطلب بیان کرتے کہ:۔

ابو العباس سفاح کے ہاتھ خلافت کی باگ ڈور جب آئی اورکوفہ کے قریب ہی ہاشمیہ میں اس نے قیام اختیار کیا تو اس نے مدینہ منورہ سے اہل علم وفضل کووہیں طلب کیا، میں نے اس موقع کو غنیمت خیال کیا اوران حضرات کے پاس استفادے کیلئے حاضر ہونے لگا ،میرے گھر کے لوگ میرے کھانے کا انتظام یہ کردیتے تھے کہ چند روٹیا ںٹھوک لی جاتی تھیں اور بندہ دہی کے ساتھ کھاکر صبح سویرے درس وافادہ کے حلقوں میں حاضر ہوجاتا ۔ لیکن جواس انتظام میں رہتے کہ انکے لئے ہریسہ یا عصیدہ تیار ہولے تب اسکا ناشتہ کرکے جائینگے ،ظاہر ہے کہ ان کے وقت کاکافی حصہ اسی تیاری میں صرف ہوجاتاتھا ،اسی لئے جو چیزیں مجھے معلوم ہوسکیں ان سے یہ عصیدہ اور ہریسہ والے لوگ محروم رہے۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۱ /۹۷ ٭ تدوین حدیث، ۱۵۵)

محدثین وفقہا کی اس جیسی جفاکشی و جانفشانی ،فقروتنگدستی اورمالی قربانیوں سے دفتر بھرے پڑے ہیں ۔ یہاں سب کا استقصاء واستیعاب مقصود نہیں ،بتانا صرف یہ ہے کہ ان حضرات نے کن صبر آزمامراحل سے گذرکراس دینی متاع اورسرمایۂ مذہب وملت کی حفاظت فرمائی اسکاندازہ ان چندواقعات سے لگانا مشکل نہیں ۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنے ذاتی اغراض ومقاصد سے بلند وبالا ہوکر دینی وملی خدمات انجام دیں ۔جذبۂ دینی سے سرشار لوگوں کا

یہ طرئہ امتیازتھا کہ انکے لیل ونہار اسی میں بسر ہوئے کہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کودنیا کی طرف نہ لگاکردین کی پاسبانی کیلئے وقف فرماتے ،مکروفریب کاجال بچھانے والے لوگوں کی محفی کارروائیوں کو طشت ازبام کردکھاتے اورسنت مصطفی علیہ التحیۃ والثناء کی حفاظت اورموضوع ومن گڑہت روایات سے صیانت کیلئے کوئی دقیقہ فروگذشت نہ کرتے ۔ انہوں نے اپنی دنیا کو

نہایت پاکیزہ اصول پر استوار کیا تھا اور دنیا کے غلط رسم ورواج سے بہت دور رہکر اپنی نیک نیتی کے آثار آنے والوں کی رہنمائی کیلئے چھوڑگئے ۔یہ حضرات مذہب وملت کے عظیم ستون اورمنارئہ نور تھے جواپنے علم وفضل ،زہدوتقوی ،صبروتوکل اور قناعت وسیرچشمی سے امت مسلمہ کی رہنمائی کے خواہاں رہتے ،حکام وقت کی ہرزہ سرائیاں بھی انکے عزم وحوصلہ اور حق گوئی وبے باکی کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.