حیض کا غسل

حدیث نمبر :414

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انصار کی ایک بی بی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں بتایا کہ یوں غسل کریں پھر فرمایا کہ مشک کا ٹکڑا لے کر اس سے پاک کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کروں فرمایا اس سے پاکی کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کرو فرمایا سبحان اﷲ! اس سے پاکی کرو ۱؎ تو انہیں میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون کی جگہ ٹکڑا لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ خفیہ مسائل کے متعلق تعلیم اشاروں کنایوں سے چاہیئے،خصوصًا اجنبی عورتوں کے سامنے کہ ان بی بی صاحبہ کے بار بار پوچھنے پربھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملہ کی وضاحت نہ فرمائی۔مقصد یہ تھا کہ غسل کرنے کے بعد مشک کا ٹکڑایامشک میں بھیگے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا وہاں پھیر لیں جہاں خون پہنچتا ہے تاکہ خون کی بوجاتی رہے۔بعض نسخوں میں مُمَسَّك بھی ہے یعنی مشک میں بسا ہوا کپڑا۔

۲؎ سبحان اﷲ! اس سے حضرت عائشہ صدیقہ کی ذہانت معلوم ہوئی کیوں نہ ہو کہ مزاج شناس رسول ہیں،بڑی فقیہہ عالمہ ہیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.