يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِىۡ دِيۡـنِكُمۡ وَلَا تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ‌ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ‌ ۚ اَ لۡقٰٮهَاۤ اِلٰى مَرۡيَمَ وَرُوۡحٌ مِّنۡهُ‌ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ ‌ۚ وَلَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَةٌ‌ ؕ اِنْتَهُوۡا خَيۡرًا لَّـكُمۡ‌ ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗ وَلَدٌ‌ ۘ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيۡلًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 171

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِىۡ دِيۡـنِكُمۡ وَلَا تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الۡحَـقَّ‌ ؕ اِنَّمَا الۡمَسِيۡحُ عِيۡسَى ابۡنُ مَرۡيَمَ رَسُوۡلُ اللّٰهِ وَكَلِمَتُهٗ‌ ۚ اَ لۡقٰٮهَاۤ اِلٰى مَرۡيَمَ وَرُوۡحٌ مِّنۡهُ‌ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ‌ ‌ۚ وَلَا تَقُوۡلُوۡا ثَلٰثَةٌ‌ ؕ اِنْتَهُوۡا خَيۡرًا لَّـكُمۡ‌ ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰـهٌ وَّاحِدٌ‌ ؕ سُبۡحٰنَهٗۤ اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهٗ وَلَدٌ‌ ۘ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے اہل کتاب تم اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ کے متعلق حق کے سوا اور کچھ نہ کہو ‘ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو صرف اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جس کو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی روح ہے، سو تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یہ نہ کہو کہ تین (معبود) ہیں ‘ (اس قول سے) باز روہو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، صرف اللہ ہی واحد مستحق عبادت ہے، وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو، اسی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ کافی کار ساز ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے اہل کتاب تم اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ کے متعلق حق کے سوا اور کچھ نہ کہو ‘ مسیح عیسیٰ ابن مریم تو صرف اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جس کو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی روح ہے۔ (النساء : ١٧١) 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں افراط اور تفریط سے ممانعت :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کا رد کیا تھا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں تفریط (کمی) کرتے تھے ‘ حضرت مریم پر بہت بڑا بہتان باندھتے تھے ‘ اور یہ کہتے تھے کہ انہوں نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نزاہت اور وجاہت بیان فرمائی ‘ اور اہل کتاب میں سے عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شان میں بہت افراط (حد سے بڑھانا) کرتے تھے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا کہتے تھے ‘ سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کا رد کیا ہے ‘ اور فرمایا ہے کہ تم اپنے دین میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ تعالیٰ کے متعلق حق کے سوا اور کچھ نہ کہو ‘ یعنی یہ نہ کہو کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ کے بدن میں حلول کر گیا ہے ‘ یا ان کے بدن کے ساتھ متحد ہوگیا ہے ‘ یا وہ عیسیٰ کی روح کے ساتھ متحد ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو صحیح عقیدہ بیان کیا کہ مسیح عیسیٰ بن مریم تو صرف اللہ کا رسول اور اس کا کلمہ ہے جس کو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی روح ہے۔ 

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کلمۃ اللہ ہونے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے عیسیٰ اللہ کا کلمہ ہے جس کو اس نے مریم کی طرف القا کیا ‘ کلمہ کا معنی بات اور کلام ہے ‘ اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : 

(آیت) ” اذ قالت الملآئکۃ یمریم ان اللہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم “۔ (آل عمران : ٤٥) 

ترجمہ : جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تمہیں ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے۔ 

اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بغیر کسی واسطہ اور نطفہ کے محض اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن اور اس کے امر سے پیدا ہوئے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے۔ : 

(آیت) ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “۔ (ال عمران : ٥٩) 

ترجمہ : بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اس کو مٹی سے بنایا پھر اسے فرمایا ” ہوجا “ تو وہ ہوگیا۔ 

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ حضرت محض اللہ کے کلمہ کن سے پیدا ہوئے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو کلمۃ اللہ فرمایا ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ہر انسان اللہ کے کن فرمانے سے پیدا ہوتا ہے تو پھر ہر انسان کو کلمۃ اللہ ہونا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کیا تخصیص ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ امام غزالی نے کہا ہے کہ ہر انسان کی پیدائش کا ایک سبب قریب ہے اور ایک سبب بعید ہے۔ سبب قریب نطفہ ہے اور سبب بعید اللہ کا کن فرمانا ہے اور چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا کوئی سبب قریب نہیں تھا اس لیے ان کی خصوصیت کے ساتھ کلمہ کن کی طرف نسبت کی ورنہ ہر انسان بلکہ دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن سے ہی پیدا ہوئی ہے کلمہ اللہ کی وہ بشارت ہے جو حضرت مریم کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے سلسلہ میں دی گئی تھی۔ 

حضرت عیسیٰ کے روح من اللہ ہونے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عیسیٰ اس کی طرف سے روح ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی طرف سے روح کہنے کی متعدد وجوہ بیان کی گئی ہیں : 

(١) جب کوئی چیز بہت زیادہ طاہر اور نظیف ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ روح ہے ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چونکہ نطفہ کی آمیزش کے بغیر محض نفخ جبرائیل (علیہ السلام) سے پیدا ہوئے تھے ‘ اس لیے وہ عام انسانوں کی بہ نسبت بہت طاہر اور طیب تھے اس لیے ان کو روح فرمایا۔ 

(٢) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی نبوت اور تبلیغ کی وجہ سے لوگوں کے دین میں حیات پیدا کرنے کا سبب تھے اور ان میں روحانیت پیدا کرنے کا باعث تھے اس لیے ان کو روح فرمایا جس طرح قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے روح فرمایا “۔ (آیت) ” وکذالک اوحینا الیک روحا من امرنا “۔ (الشوری : ٤٢) 

(٣) حضرت عیسیٰ لوگوں سے برائیوں کو دور کرتے ان کو نیکیوں سے آراستہ کرتے اور لوگوں کے حق میں یہ رحمت ہے کہ ان کو شر سے نکال کر خیر کی طرف لایا جائے تو وہ اللہ کی طرف سے رحمت ہیں اس لیے فرمایا ” ورح منہ “ جیسا کہ فرمایا (آیت) ” وایدھم بروح من “۔ (المجادلہ : ٢٤) ” اور ان کی اپنی طرف سے رحمت سے تائید فرمائی۔ “ 

(٤) کلام عرب میں روح پھونک کو کہتے ہیں ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس لیے ان کو روح فرمایا اور چونکہ یہ پھونک اللہ کے اذن اور اس کے امر سے تھی اس لیے فرمایا (آیت) ” وروح منہ “ وہ اللہ کی طرف سے روح ہیں ‘ قرآن مجید کی اس آیت میں بھی پھونک پر روح کا اطلاق ہے (آیت) ” فنفخنا فیہ من روحنا “۔ (التحریم : ١٢) ” تو ہم نے (مریم کے) چاک گریبان میں اپنی طرف سے روح (پھونک) پھونک دی۔ “ یعنی حضرت جبرائیل کی وساطت سے۔ 

(٥) روح پر تنوین تعظیم کے لیے ہے ‘ اس کا معنی ہے ارواح شریفہ قدسیہ عالیہ میں سے آپ ایک عظیم ‘ مقدس اور عالی قدر روح ہیں اور اس روح کی اللہ کی طرف اضافت تعظیم اور تشریف کے لیے ہے ‘ یعنی آپ اللہ کی طرف سے پسندیدہ معظم اور عالی قدر روح ہیں ‘ جس طرح بیت اللہ اور ناقۃ اللہ کہا گیا ہے۔ 

تثلیث کا بطلان : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور یہ نہ کہو کہ تین معبود ہیں ‘ (اس قول سے) باز رہو یہ تمہارے لیے بہت ہے۔ 

قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی تین خدا مانتے ہیں۔ اللہ ‘ عیسیٰ اور مریم اور ان کو وہ اقانیم ثلاثہ کہتے ہیں۔ اور ہر اقنیم کا دوسری اقنیم میں حلول مانتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” واذ قال اللہ یعیسی ابن مریم انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ “۔ (المائدہ : ١١٦) 

ترجمہ : اور جب اللہ فرمائے گا اے عیسیٰ ابن مریم کیا تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو ؟ 

عیسائیوں کا ایک اور فرقہ اللہ ‘ عیسیٰ اور روح القدس کو تین خدا مانتا ہے ‘ عیسائی ان تینوں کو الگ الگ خدا بھی مانتے ہیں اور ان تینوں کو ایک خدا بھی کہتے ہیں۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ نہ کہو کہ تین خدا ہیں ‘ یا تین اقانیم ہیں اور ان میں سے ہر ایک دوسرے کی عین ہے ‘ اور ان میں سے ہر ایک کامل خدا ہے اور ان کا مجموع بھی ایک خدا ہے ‘ کیونکہ اس نظریہ سے اس توحید خالص کا انکار ہوتا ہے جس کی دعوت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی اور تلیث کو جمع کرنا غیر معقول ہے اور جتماع الاضداد ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تثلیث کے قائلین کو کافر قرار دیا ہے : 

(آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثۃ وما من الہ الا الہ واحد “۔ (المائدہ : ٧٣) 

ترجمہ : بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے ‘ جنہوں نے کہا یقینا اللہ تین میں سے تیسرا ہے ‘ حالانکہ سوا ایک مستحق عبادت کے اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ 

(آیت) ” لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “۔ (المائدہ : ٧٤) 

ترجمہ : بیشک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا یقینا مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ 

ابنیت مسیح کا بطلان :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : صرف اللہ ہی واحد مستحق عبادت ہے ‘ وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہو ‘ اسی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے اور اللہ کافی کار ساز ہے۔ (النساء : ١٧١) 

اس آیت کا معنی ہے : اللہ واحد ہے مستحق عبادت ہے ‘ وہ تعدد ‘ اجزاء اور اقانیم سے منزہ ہے ‘ اور نہ ہی وہ اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور جو کسی کی طرح محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ‘ وہ سبحان ہے وہ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو یا اس کا کوئی شریک ہو ‘ عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے ‘ اگر وہ حقیقی بیٹا کہتے ہیں تو یہ اللہ پر محال ہے کہ اس کی کوئی زوجہ ہو اور وہ کسی کا باپ ہو ‘ کیونکہ باپ اولاد کے حصول میں زوجہ کا محتاج ہے اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا ‘ نیز حقیقی باپ ہونا جسمیت کا متقاضی ہے اور جسم مرکب اور محتاج ہوتا ہے اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا ‘ نیز اس میں مسیح کی الوہیت کا بھی بطلان ہے کیونکہ بیٹا باپ کے بعد ہوتا ہے اور جو کسی کے بعد ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا اور اگر وہ مجازا مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں تو اس میں مسیح کی تخصیص نہیں ہے ‘ نیز خدا پر باپ کا اطلاق اس لیے جائز نہیں کہ یہ لفظ مخلوق کی صفت ہے خالق کی صفت نہیں ہے ‘ اللہ کی شان خالق ہے۔ باپ اس کی شان نہیں ہے۔ 

تمام آسمان اور تمام زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے وہ سب اللہ کی مملوک ہیں اور مسیح بھی کا مملوک ہے اور بیٹا مملوک نہیں ہوتا اور کائنات کی ہر چیز اس کے احکام کے تحت اور مسخر ہے ‘ سب اس کے مقدور ہیں ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا “۔ (مریم : ٩٣) 

ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز بندگی کے ساتھ اللہ کی بارگارہ میں حاضر ہونے والی ہے۔ 

(آیت) ” بدیع السموت والارض، انی یکون لہ ولد ولم تکن لہ صاحبۃ “۔ (الانعام : ١٠١) 

ترجمہ : آسمانوں اور زمینوں کو ابتداء پیدا کرنے والا ہے ‘ اس کا بیٹا کیونکر ہوگا اس کی تو بیوی ہی نہیں۔ 

جب آسمانوں اور زمینوں کی ہر چیز اور سب لوگ اس کے بندے ‘ مملوک اور مخلوق ہیں تو اس کا بیٹا کیسے ہوگا !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 171

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.