يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَـقِّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَيۡرًا لَّـكُمۡ‌ ؕ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 170

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَـقِّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَيۡرًا لَّـكُمۡ‌ ؕ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اے لوگو بیشک تمہارے پاس رسول (معظم) تمہارے رب کے پاس سے حق لے کر آگیا سو تم اپنی بہتری کے لیے ایمان لے آؤ‘ اور اگر تم کفر کرو تو اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے ‘ اور اللہ بہت علم والا بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو بیشک تمہارے پاس رسول (معظم) تمہارے رب کے پاس سے حق لے کر آگیا سو تم اپنی بہتری کے لیے ایمان لے آؤ‘ اور اگر تم کفر کرو تو اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمینوں میں ہے ‘ اور اللہ بہت علم والا بڑی حکمت والا ہے۔ (النساء : ١٧٠) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت پر دلیل : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے دلائل کثیرہ کے ساتھ یہود کے قول باطل کا رد کیا ‘ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے صادق اور برحق ہونے کو ظاہر کیا ‘ اور اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ماننے کی عام دعوت دی ہے۔ خواہ یہود ہوں یا غیر یہود ہوں سب کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ماننے کی دعوت دی ہے ‘ نیز فرمایا وہ اللہ کے پاس سے حق لے کر آئے ہیں اس سے مراد یا تو قرآن عظیم ہے کیونکہ قرآن عظیم کلام معجز ہے اور یہ معجزہ آج تک قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا ‘ سو قرآن عظیم کے اعجاز کو دیکھ کر تم آپ کو نبی مان لو اور آپ کی نبوت پر ایمان لے آؤ اور یا حق سے مراد دین اسلام ہے آپ نے یہ دعوت دی ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور باطل خداؤں کی پرستش نہ کرو اور یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے ‘ سو تم اس دعوت کو قبول کرلو اور آپ کو نبی مان کر اسلام میں داخل ہوجاؤ اور اگر تم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نہ صرف تمہارے اسلام لانے سے بلکہ سارے جہانوں سے مستغنی ہے تمام آسمان اور زمینیں اس کی ملک میں ہیں اور وہ بہت علم والا اور بڑی حکمت والا ہے ‘ اور اس کے علم اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ کافر اور مومن اور نیکو کار اور بدکار کو ایک درجہ میں نہیں رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 170

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.