کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 14 سورہ البقرہ آیت نمبر232 تا 235

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۳۲)

اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہوجائے (ف۴۶۳) تو اے عورتوں کے والیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں (ف۴۶۴) جب کہ آپس میں مُوافق شرع رضا مند ہوجائیں (ف۴۶۵) یہ نصیحت اسے دی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو یہ تمہارے لیے زیادہ ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

(ف463)

یعنی ان کی عدت گزر چکے۔

(ف464)

جن کو انہوں نے اپنے نکاح کے لئے تجویز کیاہو خواہ وہ نئے ہوں یایہی طلاق دینے والے یا ان سے پہلے جو طلاق دے چکے تھے۔

(ف465)

اپنے کفو میں مہر مثل پر کیونکہ اس کے خلاف کی صورت میں اولیاء اعتراض و تعرض کاحق رکھتے ہیں۔ شانِ نزول: معقل بن یسار مزنی کی بہن کا نکاح عاصم بن عدی کے ساتھ ہواتھا انہوں نے طلاق دی اور عدت گزرنے کے بعد پھر عاصم نے درخواست کی تو معقل بن یسار مانع ہوئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔(بخاری شریف)

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَؕ-وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَاۚ-لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖۗ-وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَۚ-فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاؕ-وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۳۳)

اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کو (ف۴۶۶) پورے دو برس اس کے لیے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہے (ف۴۶۷) اور جس کا بچہ ہے (ف۲۶۸) اس پر عورتوں کا کھانا پہننا ہے حسب دستور (ف۴۶۹) کسی جان پر بوجھ نہ رکھاجائے گا مگر اس کے مقدور بھر ماں کو ضرر نہ دیا جائے اس کے بچہ سے (ف۴۷۰) اور نہ اولاد والے کو اس کی اولاد سے (ف۴۷۱) یا ماں ضرر نہ دے اپنے بچہ کو اور نہ اولاد والا اپنی اولاد کو (ف۴۷۲) اور جو باپ کا قائم مقام ہے اس پر بھی ایسا ہی واجب ہے پھر اگر ماں باپ دونوں آپس کی رضا اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ دائیوں سے اپنے بچوںں کو دودھ پلواؤ تو بھی تم پر مُضائقہ نہیں جب کہ جو دینا ٹھرا تھا بھلائی کے ساتھ انہیں ادا کردو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

(ف466)

بیان طلاق کے بعد یہ سوال طبعاً سامنے آتاہے کہ اگر طلاق والی عورت کی گود میں شیر خوار بچہ ہو تو اس جدائی کے بعد اس کی پرورش کاکیا طریقہ ہوگااس لئے یہ قرین حکمت ہے کہ بچہ کی پرورش کے متعلق ماں باپ پر جو احکام ہیں وہ اس موقع پر بیان فرمادیئے جائیں لہٰذا یہاں ان مسائل کابیان ہوا۔

مسئلہ : ماں خواہ مطلقہ ہو یا نہ ہو اس پر اپنے بچے کو دودھ پلانا واجب ہے بشرطیکہ باپ کو اجرت پر دودھ پلوانے کی قدرت و استطاعت نہ ہو’یا کوئی دودھ پلانے والی میسر نہ آئے یابچہ ماں کے سوااور کسی کا دودھ قبول نہ کرے اگر یہ باتیں نہ ہوں یعنی بچہ کی پرورش خاص ماں کے دودھ پر موقوف نہ ہو تو ماں پر دودھ پلانا واجب نہیں مستحب ہے۔( تفسیر احمد ی و جمل وغیرہ)

(ف467)

یعنی اس مدت کاپورا کرنا لازم نہیں اگر بچہ کو ضرورت نہ رہے اور دودھ چھڑانے میں اس کے لئے خطرہ نہ ہو تو اس سے کم مدت میں بھی چھڑانا جائز ہے۔ (تفسیر احمدی خازن وغیرہ)

(ف468)

یعنی والد،اس انداز بیان سے معلوم ہوا کہ نسب باپ کی طرف رجوع کرتا ہے۔

(ف469)

مسئلہ :بچہ کی پرورش اور اس کو دودھ پلوانا باپ کے ذمہ واجب ہے اس کے لئے وہ دودھ پلانے والی مقرر کرے لیکن اگر ماں اپنی رغبت سے بچہ کو دودھ پلائے تو مستحب ہے۔

مسئلہ:شوہر اپنی زوجہ پر بچہ کے دودھ پلانے کے لئے جبر نہیں کرسکتا اور نہ عورت شوہر سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت طلب کرسکتی ہے جب تک کہ اس کے نکاح یا عدت میں رہے۔

مسئلہ : اگر کسی شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور عدت گزر چکی تو وہ اس سے بچہ کے دودھ پلانے کی اجرت لے سکتی ہے۔

مسئلہ :اگر باپ نے کسی عورت کو اپنے بچہ کے دودوھ پلانے پر بہ اجرت مقرر کیا اور اس کی ماں اسی اجرت پر یابے معاوضہ دودھ پلانے پر راضی ہوئی تو ماں ہی دودھ پلانے کی زیادہ مستحق ہے اور اگر ماں نے زیادہ اجرت طلب کی تو باپ کو اس سے دودھ پلوانے پر مجبور نہ کیا جائے گا۔(تفسیر احمد ی مدارک) المعروف سے مراد یہ ہے کہ حسب حیثیت ہو بغیر تنگی اور فضول خرچی کے۔

(ف470)

یعنی اس کو اس کے خلاف مرضی دودھ پلانے پر مجبور نہ کیا جائے۔

(ف471)

زیادہ اجرت طلب کرکے ۔

(ف472)

ماں کا بچہ کو ضرر دینا یہ ہے کہ اس کو وقت پر دودھ نہ دے اور اس کی نگرانی نہ رکھے یااپنے ساتھ مانوس کر لینے کے بعد چھوڑ دے اور باپ کا بچہ کو ضرر دینا یہ ہے کہ مانوس بچہ کو ماں سے چھین لے یا ماں کے حق میں کوتاہی کرے جس سے بچہ کو نقصان پہنچے۔

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۲۳۴)

اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں (ف۴۷۳) تو جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو اے والیو تم پر مُواخذہ نہیں اس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں موافق شرع کریں اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

(ف473)

حاملہ کی عدت تو وضع حمل ہے جیسا کہ سورہ طلاق میں مذکور ہے یہاں غیر حاملہ کابیان ہے جس کا شوہر مرجائے اس کی عدت چار ماہ دس روز ہے۔اس مد ت میں نہ وہ نکاح کرے نہ اپنا مسکن چھوڑے نہ بے عذر تیل لگائے،نہ خوشبو لگائے، نہ سنگار کرے،نہ رنگین اور ریشمیں کپڑے پہنے نہ مہندی لگائے ،نہ جدید نکاح کی بات چیت کھل کر کرے اور جو طلاق بائن کی عدت میں ہو اس کابھی یہی حکم ہے البتہ جو عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہو اس کو زینت اور سنگار کرنا مستحب ہے۔

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا۬ؕ-وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗؕ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠(۲۳۵)

اور تم پر گناہ نہیں اس بات میں جو پردہ رکھ کر تم عورتوں کے نکاح کا پیام دو یا اپنے دل میں چھپا رکھو(ف۴۷۴) اللہ جانتا ہے کہ اب تم ان کی یاد کرو گے (ف۴۷۵) ہاں ان سے خفیہ وعدہ نہ کر رکھو مگر یہ کہ اتنی ہی بات کہو جو شرع میں معروف ہے اور نکاح کی گرہ پکی نہ کرو جب تک لکھا ہوا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ لے (ف۴۷۶) اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا حلم والا ہے

(ف474)

یعنی عدت میں نکاح اور نکاح کا کھلا ہوا پیام تو ممنوع ہے،لیکن پردہ کے ساتھ خواہش نکاح کا اظہار گناہ نہیں مثلاً یہ کہے کہ تم بہت نیک عورت ہو یااپنا ارادہ دل ہی میں رکھے اور زبان سے کسی طرح نہ کہے۔

(ف475)

اور تمہارے دلوں میں خواہش ہوگی اسی لئے تمہارے واسطے تعریض مباح کی گئی۔

(ف476)

یعنی عدت گزر چکے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.