ایک مد سے وضو پانچ مد سے غسل

حدیث نمبر :416

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد(دورطل)سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع سے پانچ مد تک غسل فرماتے تھے ۱؎(بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ حنفیوں کے نزدیک مد دو رطل کا ہوتا ہے،اور ایک رطل چالیس تولہ کا،اور ایک صاع چار مد کا۔لہذا پاکستانی وزن سے ایک رطل نصف سیر کااورایک مد ایک سیراور صاع چار سیرلیکن مد اور رطل کی مقدار میں اختلاف ہے،نیز ہلکی چیز صاع میں کم آئے گی اور بھاری زیادہ،اس لئے احتیاط یہ ہے کہ فطرہ میں آدھا صاع گندم تقریبًا سوا دو سیر مانے جائیں یعنی ایک صاع میں پانی اندازًا چارسیراور گندم ساڑھے چار سیر سمائے گی۔خیال رہے کہ غسل اور وضو میں پانی مقرر نہیں۔سنت یہ ہے کہ وضو ایک سیر پانی سے کم نہ ہو اورغسل چار سیر سے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.