0510201701

اس حدیث پر وہابی زبیر زئی کے شاگرد کی جرح اور اعتراض نقل کرنے کے بعد اسکا جواب دیتا ہوں

جب کوئی شخص مجھے سلام کہتا ہے تو اللّہ میری روح واپس لوٹاتا ہے تاکے میں اس کہ سلام کا جواب دوں.

.

اس حدیث کو علامہ البانی نے سلسلہ الاحادیث الصحیحة جلد نمبر 5 حدیث نمبر 2266 ص،338 پر نقل کیا ہے اور امام نووی کا قول نقل کیا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے. 

۔ ابوداود 319/1 ،، والبیہقی فی الحسن 245/5 ،، مسنداحمد 227/2 ،، الطبرانی فی الوسط 449،،

اول- 

عن عبداللہ بن یزید الا سکند رانی عن حیوة بن شریح عن ابی صخر عن یزید بن عبداللہ بن قیسط عن ابی صالح عن ابی ھریرہ مرفوعا.

یہ سند سلسلہ الا حادیث الصحیحة میں جس طرح ہے اسی طرح نقل کی ہے ، لیکن سنن ابوداود ، البیھقی فی السنن مسند احمد میں یہ سند اس طرح نہیں بلکہ سند یو ں ہے محمد بن عرف المقری و عبداللہ بن یزید ثنا حیوة بن شریح عن ابی صخر عن یزید بن عبداللہ بن قیسط عن ابی صالح عن ابی ھریرہ مرفوعا. 

یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے کیونکہ عبداللہ بن قیسط کی وفات 122ھ میں ہوئی(1).

اور اس کی( عام روایت تا بعین سے ہیں اس روایت میں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی.

دوم-

بکر عن مھدی بن جعفر الرملی عن عبداللہ بن یزید الا سکند رانی عن حیوة بن شریح عن ابی صخر عن یزید بن عبداللہ بن قیسط عن ابی صالح عن ابی ھریرہ مرفوعا۔

یہ سند پہلے دو راوی چھوڑ کر علا مہ البانی نے سلسلہ الا حادیث الصحیحة میں نقل کی لیکن علا مہ البانی نے پہلے دو راوی حزف کر کے سند نقل کی ہے علامہ البانی نے ایسا کیوکیا یہ اللّہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر حقیقت یہ ہے اس سند میں امام طبرانی کا استاد بکر بن سہیل ضعیف ہے(2)۔ اور دوسرا راوی مہدی بن جعفر الرملی بھی مختلف ،،، فیہ ،، ہے.

1- تھزیب التھزیب 216/6.

2- لسان المیزان 51/2.

اب وہابی کے اعتراض کا جواب ۔۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

:

ما من أحد يسلم علي؛ إلا رد الله على روحي حتٰى أرد عليه السلام . 

”(میری وفات کے بعد) جب بھی کوئی مسلمان مجھ پر سلام کہے گا تو اتنی دیر اللہ تعالیٰ میری روح لوٹا دے گا کہ میں اس پر جواب لوٹا دوں۔“ [سنن أبي داود : 2041]

↰ اس حدیث کی سند کو حافظ نووی [خلاصة الاحكام: 441/1؛ ح: 1440] ، ابن تیمیہ [اقتضاء الصراط المستقيم، ص: 324] ، حافظ ابن القیم [جلاء الافهام:53/1] ، حافظ ابن ملقن [تحفه المحتاج: 190/2] رحمها اللہ وغیرہ نے ”صحیح‘‘اور حافظ عراقی [تخريخ احا ديث الاحياء : 1013] حافظ ابن الهادي [الصارم المنكي: 114/1] رحمها اللہ نے ”جید“ کہا ہے، نیز حافظ سخاوی [القاصد الحسنة 587/1] اور حافظ عجلونی [كشف الخفاء :194/2] رحمها اللہ وغیرہ نے اس حدیث کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

تبصرہ : مذکورہ حدیث تو واقعی کم از کم حسن ہے، لیکن یہ سند منقطع ہے، کیونکہ یزید بن عبداللہ بن قسیط راوی جو کہ کثیر الارسال ہیں، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ڈائریکٹ یہ روایت نہیں سنی، بلکہ وہ ایک واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، جو کہ معجم اوسط طبرانی [262/3، ح:3092] میں موجود ہے اور اس کی سند ”حسن“ ہے۔

↰ اس روایت میں امام طبرانی رحمہ اللہ کے شیخ بکر بن سہل دمیاطی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، کیونکہ ضیا مقدسی رحمہ اللہ [المختاره: 159] اور امام حاکم رحمہ اللہ [177/4، 643، 646] نے ان کی توثیق کی ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

↰ نیز مستخرج ابو نعیم [583،586 وغیرہ] اور مستخرج ابی عوانہ [2524، 6903] میں بھی ان کی روایت موجود ہے جو کہ ان کے ثقہ ہونے پر واضح دلیل ہے۔

◈ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ضعفه النسائي، ووثقة غيره.

”امام نسائی رحمہ اللہ نے تو ان کو ضعیف کہا ہے لیکن، دوسروں نے انہیں ثقہ کہا ہے۔“ [مجمع الزوائد:117/4]

◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کومتوسط یعنی درمیانے درجے کا راوی کہا ہے۔ [المغني فى الضعفاء : 978]

◈ نیز فرماتے ہیں:

حمل الناس عنه، وهو مقارب الحال، قال النسائي: ضعيف.

”محدثین کرام نے ان سے روایات لی ہیں اور وہ حسن الحدیث راوی ہیں، البتہ امام نسائی رحمہ اللہ نے ان کو ضعیف کہا ہے۔“ [ ميزان الاعتدال:62/2]

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ایک سند پر حکم لگاتے ہوئے جس میں بکر بن سہل دمیاطی بھی موجود ہیں، لکھتے ہیں:

ورجاله موثوقون؛ إلا سليمان بن أبى كريمة، ففيه مقال . 

”سوائے سلیمان بن ابوکریمہ کے اس کے سارے راوی ثقہ ہیں، اس میں کچھ جرح موجود ہے۔“ [الأماليي المطلقة:121/1]

حالانکہ لسان المیزان [51/2: ت: 195] میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ خود بکر بن سہل دمیاطی پر امام نسائی رحمہ اللہ کی جرح ذکر کی ہے۔

↰ معلوم ہوا کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی امام نسائی رحمہ اللہ کی بکر بن سہل دمیاطی پر جرح مقبول نہیں، بلکہ جمہور کی توثیق کی وجہ سے وہ ثقہ ہی ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ :

◈ البانی کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ:

ضعفه النسائي، ولم يوثقه أحد.

”اس (بکر بن سہل دمیاطی) کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے، ثقہ کسی نے نہیں كہا۔“ [سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة : 562/14]

↰ رہا مسئلہ یہ کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لسان المیزان میں بکر بن سہل دمیاطی پر جو امام نسائی رحمہ اللہ اور مسلمہ بن قاسم رحمہ اللہ کی جرح نقل کی ہے، اس کا کیا معنی؟ تو عرض ہے کہ:

➊ امام نسائی رحمہ اللہ راویوں کے بارے میں بسا اوقات زیادہ احتیاط سے کام لیتے تھے، اس بارے میں :

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

فكم من رجل أخرج له أبو داود والترمذي تجنب النسائي إخراج حديثه، بل تجنب النسائي إخراج أحاديث جماعة من رجال الصحيحين، و قال سعد بن على الزنجاني : إن لابي عبد الرحمٰن شرطا فى الرجال أشد من شرط البخاري ومسلم 

”کتنے ہی راوی ہیں، جن کی روایات امام ابو داؤد اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے بیان کی ہیں، لیکن امام نسائی رحمہ اللہ نے ان کی احادیث بیان کرنے سے اجتناب کیا ہے بلکہ انہوں نے تو (مزید اختیاط کو مدنظر رکھتے ہوئے) صحیح بخاری و مسلم کے بہت سے راویوں کی حدیث بیان کرنے سے بھی اجتناب کیا ہے، سعد بن علی زنجانی کا کہنا ہے کہ امام ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ کی راویوں کے بارے میں شرط امام بخاری و مسلم سے بھی کڑی ہے۔‘‘ [النكت على كتاب ابن الصلاح : 76/1]

➋ امام نسائی رحمہ اللہ سے یہ جرح ثابت نہیں، کیوں کہ امام موصوف سے اس بات کو بیان کرنے والے ان کے بیٹے عبدالکریم کے حالات ہمیں نہیں مل سکے، واللہ اعلم۔

باقی رہا مسلمہ بن قاسم کا بکر بن سہل دمیاطی پر یہ جرح کرنا کہ:

كلم الناس فيه. ”لوگوں نے اس پر جرح کی ہے۔“ [لسان الميزان:51/2]

تو یہ کئی وجوہ سے مردود و باطل ہے۔

① مسلمہ بن قاسم خود ناقابل اعتبار شخص تھا، لہذا اس کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔

② امام نسائی رحمہ اللہ (کی غیر ثابت شدہ جرح) کے سوا کسی محدث نے ان پر جرح نہیں کی۔ مسلمہ بن قاسم کے ذکر کردہ لوگ مجہول ہونے کی بنا پر لائق اعتنا نہیں۔

③ مسلمہ بن قاسم ان راویوں کے بارے میں بھی یہ الفاظ ذکر کر دیتا ہے جو خود اس کے نزدیک بھی حسن الحدیث ہوتے ہیں، لسان المیزان ہی میں موجود ہے:

وقال مسلمة بن قاسم : ليس به بأس، تكلم الناس فيه.

”مسلمہ بن قاسم نے کہا ہے کہ اس (یحیٰی بن ابو طالب) میں کوئی جرح نہیں، (حالانکہ وہ حسن الحدیث راوی ہے) لوگوں نے اس پر جرح کی ہے۔“ [لسان الميزان : 262/6]

↰ معلوم ہوا کہ بکر بن سہل دمیاطی پر تمام جروح مردود ہیں۔

تنبیہ : طبرانی اوسط کی مذکورہ سند میں حیوۃ بن شریح کے شاگرد عبداللہ بن یزید اسکندرانی ذکر کیے گئے ہیں، جن کا کتب تواریخ و رجال میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا، جبکہ باقی کتب احادیث میں یہ راوی عبداللہ بن یزید مقری ہیں، جو کہ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے معروف راوی ہیں۔

معلوم یہ ہوتا ہے کہ طبرانی میں مذکور عبداللہ بن یزید اسکندرانی دراصل مقری ہیں، کیونکہ حیوۃ بن شریح کے شاگردوں میں کسی اور عبداللہ بن یزید کا پتہ نہیں چل سکا۔ پھر طبرانی اوسط میں ہی امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی ایک دوسری سند بھی ذکر کی ہے جس میں اگرچہ یزید بن عبداللہ بن قسیط اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ابوصالح کا واسطہ موجود نہیں، لیکن امام صاحب کے استاذ کے شیخ عبداللہ بن یزید کے نام کے ساتھ ”مقری“ کا لفظ استعمال ہوا ہے، جیسا کہ سنن ابوداؤد وغیرہ میں ہے۔

ان کو اسکندرانی کہے جانے کی وجہ شاید یہ ہے کہ معجم البلدان میں اسکندریہ نامی تیرہ (۱۳) شہر ذکر کیے گئے ہیں، جو کہ اب کسی اور نام سے معروف ہیں، عین ممکن ہے کہ ان کے علاقے کو بھی اسکندریہ کہا جاتا ہو اور شاید اسی وجہ سے ہی :

◈ البانی فرماتے ہیں:

قلت: و هو المقرئ، ثقة من رجال الشيخين.

”میں کہتا ہوں کہ یہ (عبداللہ بن یزید اسکندرانی) مقری ہی ہیں، جو کہ ثقہ ہیں، صحیح بخاری و صحیح مسلم کے راوی ہیں۔“ [سلسلة الأحاديث الصحيحة : 338/5، ح : 2266]

لیکن اگر اس میں عبداللہ بن یزید اسکندرانی کو مجہول قرار دیا جائے تو لامحالہ طور پر سنن ابی داؤد والی سند ’’حسن“ ہو جائے گی، کیونکہ اس کے ضعیف ہونے پر سوائے اس روایت کے اور کوئی دلیل نہیں کہ طبرانی اوسط میں یزید بن عبداللہ بن قسیط اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ابو صالح کا واسطہ موجود ہے، جبکہ سنن ابی داؤد میں موجود نہیں، اگر طبرانی اوسط والی یہ سند ضعیف قرار پاتی ہے تو سنن ابوداؤد کی سند میں موجود انقطاع کی یہ دلیل ختم ہو جائے گی اور پھر اسے منقطع قرار دینا بلا دلیل ہو گا۔

اگرچہ یزید بن عبداللہ بن قسیط ”کثیر الارسال“ ہیں لیکن صرف یہ شبہ اس سند کے ضعف کی دلیل نہیں ہو گا کہ شاید یہاں بھی انہوں نے ارسال کر کے کوئی واسطہ گرایا ہو اور ڈائریکٹ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کر دیا ہو۔

یاد رہے کہ یزید بن عبداللہ بن قسیط کا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ سے لقا و سماع ثابت ہے۔ [السنن الكبري للبيهقي :122/1، ح : 598، و سندهٔ جيد]

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس اصول پر محدثین کرام کا اجماع نقل کیا ہے کہ ”غیر مدلس“ راوی اگر بصیغہ ”عن“ روایت کرے اور اپنے شیخ سے اس کا سماع و لقا کسی دلیل سے ثابت نہ ہو بلکہ اس کا امکان ہو تو بھی روایت اتصال پر محمول ہو گی، چہ جائے کہ کسی جگہ اس کے سماع کی صراحت بھی مل جائے، لہٰذا اگر طبرانی اوسط والی سند کو اسکندرانی کی وجہ سے ”ضعیف‘‘خیال کیا جائے تو بھی اس اجماع کے خلاف صرف شبہ انقطاع کو معتبر نہیں سمجھا جائے گا۔

إن الظن لا يغنى من الحق شيئا

پھر ہمارے علم کے مطابق ”کثیر الارسال“ راوی کی ”عن“ والی روایت کو متقدمین میں سے امام ابن سعد رحمہ اللہ [الطبقات:693/6] کے علاوہ کسی نے بھی شبه انقطاع کی وجہ سے ”ضعیف“ قرار نہیں دیا۔ اور امام موصوف کی بات کو بھی اس صورت پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ ”کثیر الارسال“ راوی کسی ایسے صحابی سے ”عن“ کے ساتھ روایت کر رہا ہو، جس سے اس کا سماع کہیں بھی ثابت نہ ہو تو اس کی روایت ان کے نزدیک ”ضعیف“ ہوتی ہے۔

ورنہ پھر امام عطاء بن ابو رباح، امام مکحول شامی (خصوصاً حديثه فى القراءة خلف الإمام عنعن فيه ) امام ضحاک بن مزاحم، امام عبداللہ بن زید ابوقلابہ جرمی، امام ابو العالیہ، رفیع بن مہران رحمہ اللہ علیہم و غیره کی ”عن“ والی ساری روایات اس شبہ انقطاع کی نذر ہو کر ”ضعیف“ قرار پائیں گی، کیونکہ یزید بن عبداللہ بن قسیط کی طرح یہ مذکور ائمہ بھی ”کثیر الارسال“ ہیں، حالانکہ ان کی ا یسی روایات سب کے ہاں معتبر ہوتی ہیں۔

معلوم ہوا کہ یہ حدیث بہرحال حسن درجہ کی ہے۔

(دعاگو : رانا اسد فرحان)