فقیہ یزید بن ابی حبیب

فقیہ یزید بن ابی حبیب

مصر کے فقیہ یزید بن ابی حبیب علم وفضل اوردیا نت و تقوی میں مشہور تھے ،پورے مصر میں انکے حزم واتقاء کے ڈنکے بجتے تھے ،حکومت وقت انکے تابع فرمان رہتی ۔حکومت کی گدی پرجب کوئی نیا حکمراں بیٹھتا اور بیعت لینا چاہتا تولوگ بیک زبان کہتے کہ یزید بن ابی حبیب اورعبداللہ بن ابی جعفر جو کہیں گے ہم وہ کرینگے ۔

لیث بن سعد جنکا ذکر گذرا فرماتے تھے ۔

ھما جوہر تاالبلاء کانت البیعۃ اذاجاء ت للخلیفۃ ھما اول من یبایع ۔(تذکرۃ الحفاظ للذہبی، ۱/۱۲۲)

یہ دونوں حضرات ملک مصر کے تابناک جوہر تھے ،خلیفہ کیلئے بیعت لی جاتی تویہ ہی دونوں پہلے بیعت کرتے تھے ۔

یہ ہی لیث کہتے ہیں۔

یزید عالمناویزید سیدنا ۔(تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۶/۲۰۱تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۳/۹)

یزید ہمارے ملک کے عالم ہیں اوریزید ہمارے پیشواہیں ۔

ایک دفعہ آپ بیمار ہوئے اس زمانہ میں بنی امیہ کی حکومت کی طرف سے مصر کا جوعرب گورنرتھا اسکا نام حوثرہ بن سہل تھا ، عوام کے قلوب میں جوان کا مقام تھا اسکو دیکھتے ہوئے اس نے ضروری خیال کیا کہ عیادت کیلئے خودجائے ،آیا ،اس وقت یزید بیٹھے ہوئے تھے ،مزاج پرسی کے بعد اس نے ایک مسئلہ پوچھا ،کیا کھٹمل کا خون کپڑے میں لگاہو تونماز ہوجائیگی ؟ یزید نےحوثرہ کے اس سوال کوسنکر منہ پھیرلیا اورکچھ جواب نہ دیا ۔

حوثرہ جواب کا انتظار کرکے جب جانے کیلئے کھڑاہوا تب آپ نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا:۔

تقتل کل یوم خلقا وتسالنی عن دم ۔

روزانہ خلق خداکوقتل کرتاہے اور مجھ سے کھٹمل کے خون کے بارے میں پوچھتا ہے۔

حوثرہ نے تلملادینے والاجملہ سنا لیکن کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی اور چپ چلاگیا

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.