فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ وَ يَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَـنۡكَفُوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا  ۙ وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 173

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيۡهِمۡ اُجُوۡرَهُمۡ وَ يَزِيۡدُهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ وَاَمَّا الَّذِيۡنَ اسۡتَـنۡكَفُوۡا وَاسۡتَكۡبَرُوۡا فَيُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا اَ لِيۡمًا  ۙ وَّلَا يَجِدُوۡنَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو اللہ انکو ان کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ اجر دے گا، اور جن لوگوں نے (عبادت کو) عار سمجھا اور تکبر کیا تو اللہ ان کو دردناک عذاب دے گا ‘ اور وہ لوگ اللہ کے سوا اپنا کوئی کار ساز اور مددگار نہیں پائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو اللہ انکو ان کا پورا پورا اجر عطا فرمائے گا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ اجر دے گا، اور جن لوگوں نے (عبادت کو) عار سمجھا اور تکبر کیا تو اللہ ان کو دردناک عذاب دے گا ‘ اور وہ لوگ اللہ کے سوا اپنا کوئی کار ساز اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (النساء : ١٧٣) 

اس آیت میں نیکوکار مومنوں کو جو زیادہ اجر کی بشارت دی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے دنیا میں ان کے ساتھ نیکی کی تھی۔ اللہ تعالیٰ انہیں آخرت میں اس کی شفاعت کرنے کی اجازت دے گا۔ 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ان کا اجر یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کر دے گا اور اپنے فضل سے جو ان کو زیادہ اجر دے گا ‘ وہ ان لوگوں کے لیے شفاعت کرنا ہے جنہوں نے ان کے ساتھ دنیا میں کوئی نیکی کی تھی (المعجم الکبیر ج ١٠‘ رقم الحدیث : ١٠٤٦٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

حافظ الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ نے لکھا ہے کہ اس کی سند ایک رای اسماعیل بن عبداللہ الکندی ہے اس کی امام ذہبی نے تصعیف کی ہے ‘ اور حدیث کے بقیہ تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٣) 

واضح رہے کہ فضائل میں اس قسم کا ضعف استدلال میں مضر نہیں ہے ‘ البتہ حلال اور حرام سے متعلق روایات میں بہت احتیاط کی جاتی ہے۔ 

جو مسلمان اللہ کی عبادت کرنے میں کو عار سمجھتے ہیں ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا اسلوب ہے وہ ترغیب اور ترہیب کا ساتھ ساتھ ذکر فرماتا ہے ‘ کیونکہ ہر چیز اپنی ضد کے ساتھ زیادہ بہتر طور پر پہچانی جاتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 173

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.