لَنۡ يَّسۡتَـنۡكِفَ الۡمَسِيۡحُ اَنۡ يَّكُوۡنَ عَبۡدًا لِّـلَّـهِ وَلَا الۡمَلٰٓئِكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ‌ؕ وَمَنۡ يَّسۡتَـنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَ تِهٖ وَيَسۡتَكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 172

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَنۡ يَّسۡتَـنۡكِفَ الۡمَسِيۡحُ اَنۡ يَّكُوۡنَ عَبۡدًا لِّـلَّـهِ وَلَا الۡمَلٰٓئِكَةُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ‌ؕ وَمَنۡ يَّسۡتَـنۡكِفۡ عَنۡ عِبَادَ تِهٖ وَيَسۡتَكۡبِرۡ فَسَيَحۡشُرُهُمۡ اِلَيۡهِ جَمِيۡعًا ۞

ترجمہ:

مسیح اللہ کا بندہ ہونے میں ہرگز عار نہیں سمجھیں گے ‘ اور نہ مقرب فرشتے، اور جو لوگ اللہ کی عبادت کرنے میں عار سمجھیں اور تکبر کریں تو اللہ ان سب کو اپنے سامنے جمع کرے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مسیح اللہ کا بندہ ہونے میں ہرگز عار نہیں سمجھیں گے ‘ اور نہ مقرب فرشتے۔ (النساء : ١٧٢) 

شان نزول :

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نجران کا وفد آیا اور انہوں نے کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے صاحب کو برا کیوں کہتے ہیں ‘ آپ نے پوچھا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا عیسیٰ (علیہ السلام) آپ نے فرمایا میں ان کے متعلق کیا کہوں وہ اللہ کے بندے ہیں ‘! انہوں نے کہا نہیں وہ اللہ ہے ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے اللہ کا بندہ ہونا عار نہیں ہے ‘ انہوں نے کہا نہیں بلکہ عار ہے۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی مسیح اللہ کا بندہ ہونے میں عار نہیں سمجھیں گے اور نہ مقرب فرشتے (زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٢٦٢ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

اس کے بعد اللہ نے فرمایا اور نہ مقرب فرشتے (اللہ کا بندہ ہونے میں ہرگز عار سمجھیں گے) امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

عیسائیوں کو حضرت عیسیٰ کے خدا ہونے یا خدا کا بیٹا ہونے کا شبہ اس وجہ سے ہوتا تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) غیب کی خبریں دیتے تھے ‘ اور ان سے کئی امور خارقہ للعادت ظاہر ہوئے۔ انہوں نے مردوں کو زندہ کیا اور بیماروں تندرست کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ صرف اتنی قدر سے کسی کو اللہ کی عبادت سے عار نہیں آتی۔ دیکھو ملائکہ مقربین کو اس سے زیادہ غیب کا علم ہے کیونکہ وہ لوح محفوظ کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں ‘ اور ان کی قوت بھی بہت زیادہ ہے ‘ کیونکہ ان میں آٹھ فرشتے اللہ کے عظیم عرش کو اٹھائے رہتے ہیں ‘ پھر جب مقرب فرشتے اس قدر عظیم علم اور قدرت کے حامل ہونے کے باوجود اللہ کی عبادت کرنے میں عار نہیں سمجھتے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس سے کم علم اور کم قدرت کے ساتھ متصف ہونے پر کیسے اللہ کی عبادت کرنے کو باعث عار قرار دیں گے ؟ 

نبیوں کے فرشتوں سے افضل ہونے کی بحث 

معتزلہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ مقرب فرشتوں کا علم اور ان کی قدرت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ ہے تو ثابت ہوگیا کہ فرشتوں کو نبیوں پر فضیلت حاصل ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم جو کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) فرشتوں سے افضل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو فرشتوں سے زیادہ اجرو ثواب حاصل ہوگا ‘ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقرب فرشتوں کا علم اور ان کی قدرت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ ہے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا اجر وثواب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے زائد ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٣٤٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے معتزلہ کے جواب کی زیادہ عمدہ تقریر کی ہے ‘ وہ لکھتے ہیں : 

معتزلہ کا مذہب یہ ہے کہ ہر مقرب فرشتہ نبی سے افضل ہے اور اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام مقرب فرشتے مل کر بہ حیثیت مجموع مسیح سے افضل ہیں۔ اس لیے یہ ہوسکتا ہے کہ ہر نبی ہر مقرب فرشتہ سے افضل ہو اور مقرب فرشتوں کا مجموعہ کسی ایک نبی سے افضل ہو ‘ دوسرا جواب سب سے عمدہ ہے اسکی تقریر یہ ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خدا یا خدا کا بیٹا اس لیے کہتے تھے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ بغیر باپ کے پیدا ہونے سے زیادہ عجیب و غریب وہ فرشتے ہیں جو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے اور ملائکہ مقربین ماں اور باپ دونوں کے بغیرپیدا ہوئے تو جب وہ اللہ کی عبادت کرنے میں عار نہیں سمجھے تو مسیح (علیہ السلام) جو صرف باپ کے بغیر پیدا ہوئے وہ عبادت کرنے کو کیسے باعث عار قرار دیں گے ! (روح المعانی جز ٦، ص ٤٠۔ ٣٨ ملخصا ‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

لیکن اس دوسرے جواب پر یہ اعتراض ہے کہ ہر فرشتہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوا ہے پھر فرشتوں کے ساتھ مقربین کی قید لگانے کا کوئی فائدہ ظاہر نہیں ہوا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 172

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.