يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًا مُّبِيۡنًا‏ ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 174

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمۡ بُرۡهَانٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكُمۡ نُوۡرًا مُّبِيۡنًا‏ ۞

ترجمہ:

اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے قوی دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف واضح نور نازل کیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے لوگو ! بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے قوی دلیل آگئی اور ہم نے تمہاری طرف واضح نور نازل کیا ہے۔ (النساء : ١٧٤) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا برھان اور قرآن مجید کا نور ہونا : 

اس سے پہلی آیتوں میں سیدنا محمد کی نبوت اور قرآن مجید کے منزل من اللہ ہونے کے متعلق کفار ‘ منافقین اور یہود و نصاری کے تمام شبہات کا ازلہ کیا اور اب اس آیت میں اس وقت کے تمام فرقوں کو عمومی طور پر آپ کی دعوت قبول کرنے کا حکم دیا ‘ اس آیت میں فرمایا ہے کہ تمہارے پاس برہان یعنی قوی دلیل آگئی اس سے مراد محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے اور یہ جو فرمایا ہے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا گیا ہے۔ اس سے مراد قرآن کریم ہے۔ 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برہان فرمانے میں یہ اشارہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی نبوت اور رسالت کو منوانے کے لیے کسی الگ اور خارجی دلیل کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آپ کا وجود مسعود اور آپ کی ذات گرامی بجائے خود آپ کی نبوت اور رسالت پر دلیل ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ دوسرے نبیوں اور رسولوں نے اپنی نبوت اور رسالت پر خارجی معجزات پیش کیے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی نبوت اور رسالت پر اپنی زندگی پیش کی۔ قرآن مجید ہے : 

(آیت) ” فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون “۔ (یونس : ١٦) 

ترجمہ : میں تم میں اس (نزول قرآن) سے پہلے اپنی عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں تو کیا تم نہیں سمجھتے۔ 

حضرت خدیجۃ الکبری (رض) حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت زید بن حارثہ (رض) یہ سب سے پہلے اسلام لانے والے ہیں اور یہ سب بغیر کسی معجزہ کے ایمان لائے تھے ‘ ان کے لیے یہی دلیل کافی تھی کہ انہوں نے آپ کی زندگی کو دیکھا تھا اور آپ کی زندگی ہی آپ کے دعوی نبوت پر قوی دلیل تھی۔ 

اس آیت میں قرآن مجید کو نور مبین فرمایا ہے ‘ نور اس چیز کو کہتے ہیں جو خود ظاہر ہو اور دوسری چیزوں کو ظاہر کر دے ‘ قرآن مجید اپنی فصاحت و بلاغت میں حد اعجاز کی وجہ سے خود ظاہر ہے اور احکام شرعیہ ‘ ماضی اور مستقبل کی خبروں ‘ اور عقائد صحیحہ اور اسرار کونیہ کو بیان کرنے والا اور ظاہر کرنے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 174

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.