کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 15 سورہ البقرہ آیت نمبر236 تا 242

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً ۚۖ-وَّ مَتِّعُوْهُنَّۚ-عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗۚ-مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِۚ-حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ(۲۳۶)

تم پر کچھ مطالبہ نہیں (ف۴۷۷) اگرتم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو (ف۴۷۸) اور ان کو کچھ برتنے کو دو (ف۴۷۹) مقدور والے پر اس کے لائق اور تنگدست پر اس کے لائق حسب دستور کچھ برتنے کی چیز یہ واجب ہے بھلائی والوں پر (ف۴۸۰)

(ف477)

مہر کا

(ف478)

شانِ نزول: یہ آیت ایک انصاری کے باب میں نازل ہوئی جنہوں نے قبیلہ بنی حنیفہ کی ایک عورت سے نکاح کیا اور کوئی مہر معین نہ کیاپھر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی۔

مسئلہ :اس سے معلوم ہوا کہ جس عور ت کا مہر مقرر نہ کیاہو اگر اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مہر لازم نہیں ہاتھ لگانے سے مجامعت مراد ہے اور خلوت صحیحہ اسی کے حکم میں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ بے ذکر مہر بھی نکاح درست ہے مگر اس صورت میں بعد نکاح مہر معین کرناہوگااگر نہ کیا تو بعد دخول مہر مثل لازم ہوجائے گا۔

(ف479)

تین کپڑوں کا ایک جوڑا۔

(ف480)

جس عورت کا مہر مقرر نہ کیا ہو اوراس کو قبل دخول طلاق دی ہو اس کو تو جوڑا دیناواجب ہے اور اس کے سواہر مطلقہ کے لئے مستحب ہے۔(مدارک)

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِؕ-وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰىؕ-وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۳۷)

اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لیے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھہرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں (ف۴۸۱) یا وہ زیادہ دے (ف۴۸۲) جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (ف۴۸۳) اور اے مردو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بُھلا نہ دو بےشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے (ف۴۸۴)

(ف481)

اپنے اس نصف میں سے۔

(ف482)

نصف سے جو اس صورت میں واجب ہے۔

(ف483)

یعنی شوہر۔

(ف484)

اس میں حسن سلوک و مکارم اخلاق کی ترغیب ہے۔

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰىۗ-وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ(۲۳۸)

نگہبانی کرو سب نمازوں (ف۴۸۵) اور بیچ کی نماز کی (ف۴۸۶) اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے (ف۴۸۷)

(ف485)

یعنی پنجگانہ فرض نمازوں کو ان کے اوقات پر ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرتے رہو اس میں پانچوں نمازوں کی فرضیت کابیان ہے اور اولاد و ازواج کے مسائل و احکام کے درمیان میں نماز کاذکر فرمانااس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ ان کوا دائے نماز سے غافل نہ ہونے دواور نماز کی پابندی سے قلب کی اصلاح ہوتی ہے جس کے بغیر معاملات کا درست ہونا متصور نہیں۔

(ف486)

حضرت امام ابوحنیفہ اور جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم کامذہب یہ ہے کہ اس سے نماز عصر مراد ہے اور احادیث بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔

(ف487)

اس سے نمازکے اندر قیام کا فرض ہونا ثابت ہوا۔

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًاۚ-فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ(۲۳۹)

پھر اگر خوف میں ہو تو پیادہ یا سوار جیسے بن پڑے پھر جب اطمینان سے ہو تو اللہ کی یاد کرو جیسا اس نے سکھایا جو تم نہ جانتے تھے

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ۚۖ-وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍۚ-فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۲۴۰)

اور جو تم میں مریں اور بیبیاں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے لیے وصیت کرجائیں (ف۴۸۸) سال بھر تک نان و نفقہ دینے کی بے نکالے (ف۴۸۹) پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف488)

اپنے اقارب کو۔

(ف489)

ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدّت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی ۔ پھر ایک سال کی عدت تو ” یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍوَّ عَشْرًا”سے منسوخ ہوئی جس میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر فرمائی گئی اور سال بھر کانفقہ آیت میراث سے منسوخ ہوا جس میں عورت کاحصہ شوہر کے ترکہ سے مقرر کیا گیا لہٰذا اب اس وصیت کاحکم باقی نہ رہاحکمت اس کی یہ ہے کہ عرب کے لوگ اپنے مورث کی بیوہ کانکلنایاغیر سے نکاح کرنابالکل گوارا ہی نہ کرتے تھے اور اس کو عار سمجھتے تھے اس لئے اگر ایک دم چار ماہ دس روز کی عدت مقرر کی جاتی تو یہ ان پر بہت شاق ہوتی لہذا بتدریج انہیں راہ پر لایا گیا۔

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِؕ-حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ(۲۴۱)

اور طلاق والیوں کے لیے بھی مناسب طور پر نان و نفقہ ہے یہ واجب ہے پرہیزگاروں

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ (۲۴۲)

اللہ یونہی بیان کرتا ہے تمہارے لیے اپنی آیتیں کہ کہیں تمہیں سمجھ ہو

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.