کیسری کی کہانی حقیقت یا فسانہ

کیسری کی کہانی حقیقت یا فسانہ

ہولی کے موقعے پر ہمارے ملک ہندوستان میں ایک نئی فلم ریلیز ہوئی ہے “کیسری”فلمی جانکاروں کے مطابق اس کی کہانی سال ١٨٩٧ میں لڑی گئی “ساراگڑھی” کی جنگ پر مبنی ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ صرف اکیس سکھوں نے دس ہزار افغانیوں کے خلاف بڑی بہادری کے ساتھ جنگ لڑی تھی اور چھ سو افغانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا جبکہ تقریباً ٤٨٠٠ افغانی زخمی ہوئے تھے ۔

فلم بنانے کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اس فلم سے ملک کے باشندوں میں دیش بھکتی کا جذبہ پیدا ہوگا ۔گویا سکھوں نے حب الوطنی کے پیش نظر افغانی پٹھانوں کے خلاف یہ جنگ لڑی تھی۔

اس فلم میں دیش بھکتی کے جذبات سے لبریز ایک گانا بھی ہے۔ گانے کے بول ہیں:

تیری مٹی، تیری مٹی میں مل جاواں

گل بن کے میں کھل جاواں

مجندر ایس سرسا نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ آپ اپنے بچوں کو بھی یہ فلم دکھانے کے لیے لے جائیں تاکہ ان کے اندر دیش بھکتی کے جذبات پیدا ہوں۔

لیکن آپ کو حیرانی ہوگی کہ ساراگڑھی کی اس جنگ کے بارے میں تاریخ کچھ اور ہی بتاتی ہے، آپ یہ جان کر انگشت بدنداں رہ جائیں گے اور حیرت و افسوس میں ڈوب جائیں گے کہ فلم میں سکھوں کی جو دیش بھکتی دکھائی گئی ہے حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔

دراصل یہ سکھ تو انگریز فوج کے سپاہی تھے اور افغانی پٹھان ملک کی آزادی کے لیے برٹش حکومت سے برسرِ پیکار تھے جس کے نتیجے میں ان کی لڑائی برٹش فوج کے ان سکھ سپاہیوں سے ہوئی تھی۔

آئیے جانتے ہیں کہ اس جنگ کے بارے میں تاریخ کا کیا کہنا ہے:

وکیپیڈیا کے مطابق ساراگڑھی کی جنگ ١٢/ستمبر ١٨٩٧ عیسوی میں برٹش سپاہیوں اور ہندوستانی افغانی قبائل کے درمیان ہوئی تھی۔ برٹش فوج کے سپہ سالار ایشور سنگھ تھے جبکہ افغانیوں کی قیادت گل بادشاہ کر رہے تھے ۔ سارے سکھ مارے گئے تھے اور افغانی پٹھانوں کو فتح حاصل ہوئی تھی اور ساراگڑھی کے قلعے پر ان کا قبضہ بھی ہو گیا تھا۔

لیکن برٹش فوج کی بندوقوں اور توپوں کی زد میں آ کر افغانی دعوے کے مطابق ١٨٠ اور برٹش حکومت کے دعوے کے مطابق ٤٥٠ افغانی شہید ہوئے تھے.

دراصل ١٨٩٧ میں اس علاقے کے افغانیوں اور آدیواسیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کر دی تھی اور انگریز فوج پر حملہ کر دیا تھا اور انگریز فوج کے سکھ سپاہیوں کو مار کر ساراگڑھی پر قبضہ کر لیا تھا حالانکہ دو دن بعد ہی انگریزوں نے قلعے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا.

( تفصیل کے لیے وکیپیڈیا پر saragadhi ki jang سرچ کر کے دیکھ لیں)

فلمی تنقید نگار پرگتی سکسینہ نے اس فلم کے بارے میں جو جائزہ پیش کیا ہے وہ پڑھنے کے قابل ہے. وہ اپنے تبصرے میں لکھتی ہیں :

“ساراگڑھی کی جنگ سکھ فوجیوں کی بہادری اور طاقت کی زبردست مثال ہے، لیکن وطن پرستی اور حب الوطنی سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہے” ۔

آگے لکھتی ہیں :

“’کیسری‘ دیکھتے ہوئے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ساراگڑھی کی لڑائی دراصل اس لیے ہوئی تھی کیونکہ انگریز دراصل افغان قبائلیوں کے ذریعے شروع تحریک آزادی کے خلاف تھے اور اس انقلاب پر لگام کسنا چاہتے تھے۔ ایسے وقت میں 36 سکھ ریجمنٹ نے ایک بڑی افغان فوج سے لڑنے کا فیصلہ لیا جو کہ فوج کی ڈسپلن کی بہترین مثال ہے، وطن پرستی کی نہیں۔”

اندازہ کریں کہ اس فلم میں تاریخ کو کس بےرحمی سے ذبح کیا گیا ہے اور دیش بھکت کو دیش دروہی اور دیش دروہی کو دیش بھکت بنا دیا گیا ہے، جو افغانی انگریزوں کے ظلم کے شکار تھے، ظلم کے خلاف لڑ رہے تھے اور ملک کی آزادی کے لیے ظالم انگریزوں کا مقابلہ کر رہے تھے ان کو ان کے ہی ملک والے دشمن بنا کر پیش کر رہے ہیں، اور جو سکھ انگریزوں کے نمک خوار اور ظلم کے ساتھی تھے، انگریزی حکومت کی بقا کے لیے اپنے ہی بھائیوں کا خون کر رہے تھے اور ملک کی بنیاد اکھیڑنے میں لگے تھے انہیں دیش بھکت ثابت کر رہے ہیں اور پورے ملک بلکہ ساری دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب مسلم دشمنی کے تناظر میں پوری منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے؟ اس سے پہلے فلم پدماوت میں بھی تاریخ کا کس طرح گلا گھونٹا گیا ہے سب کو معلوم ہے.

سچ کہتے ہیں جب آنکھوں میں تعصب کی عینک لگی ہو تو سامنے والے کی خوبی بھی خامی نظر آتی ہے ۔

خدا بھلا کرے اس ملک کا اور اس کی حفاظت فرمائے کیونکہ اس ملک کا ایک خاص طبقہ مسلم دشمنی کے پیش نظر جن سرگرمیوں میں ملوث ہے وہ ملک کی سالمیت کے لئے زبردست خطرہ ہیں اور ملک کو باہمی نفرت و عداوت، تعصب اور خانہ جنگی کی طرف لے جانے والی ہیں۔

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں

ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا

ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

فقیر محمد ہارون مصباحی

الجامعة الاشرفيه مبارکپور

٢٧/مارچ ٢٠١٩ بروز بدھ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.