امام طاؤس بن کیسان

آپ اکابر تابعین سے ہیں ،عبادلہ اربعہ ،ابوہریرہ، ام المومنین عائشہ صدیقہ وغیرہم سے شرف تلمذ حاصل رہا ۔امام زہری ،وہب بن منبہ ،عمروبن دینار ،اور مجاہد جیسے اساطین ملت آپکے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں ۔حضرت ابن عباس فرماتے تھے :میں انکو اہل جنت سے جانتاہوں ۔ حضرت ابن حبان نے فرمایا ،آ پ یمنی باشندگان میں عابد وزاہدلوگوں میں شمار ہوتے تھے ۔ چالیس حج کئے اورمستجاب الداعوت تھے۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۳/۹)

بنوامیہ کی حکومت کی طرف سے ان دنوں حجاج بن یوسف کا بھائی محمد بن یوسف یمن کا گورنر تھا ، ایک مرتبہ کسی وجہ سے یمنی عالم وہب بن منبہ کے ساتھ اسکے یہاں پہونچے ،زمانہ سردیوں کاتھا ،سخت سردی پڑرہی تھی ۔آپکے لئے کرسی منگوائی گئی ،سردی کا خیال کرتے ہوئے اس نے دوشالہ منگواکر آپکو اڑھادیا ۔طائوس منہ سے توکچھ نہ بولے لیکن یوں کیا کہ

لم یزل یحرک کتفیہ حتی القی عنہ ۔

دونوں مونڈھوں کو مسلسل ہلاتے رہے حتی کہ دوشالہ کندھوں سے گرگیا ۔

ابن یوسف آپکے اس طرز کودیکھ رہاتھا اوردل میں آگ بگولہ ہورہاتھا ،لیکن آپکی عوامی مقبولیت کے پیش نظر کچھ کہہ بھی نہ سکا ۔جب یہ دونوں حضرات باہر آئے تووہب نے کہا: آج تو آپ نے غضب ہی کردیا ،حضرت اگراس دوشالہ کولے لیتے اورباہر آکر فروخت کرکے اسکی رقم غرباء میں خیرات کردیتے تو بلا وجہ اسکے غضب میں اشتعال بھی پیدا نہ ہوتا اور غریبوں کا بھی کچھبھلا ہوجاتا ۔

آپ نے فرمایا: اگر میرے اس فعل کولوگ تقلیدی نمونہ سمجھ کر عمل کرتے توشاید میں ایسا ہی کرتا ،لیکن مجھے خوف ہواکہ کہیں صرف لینے کی حدتک ہی لوگ دلیل نہ بنالیں ۔(الطبقات الکبری لا بن سعد ۵/۳۹۵)

جرأت وحق گوئی اوراستغناء وبے نیازی کی یہ مثالیں اس بات کو واضح کررہی ہیں کہ محدثین وفقہاء نے کسی حاکم وقت کے دربار کی کاسہ لیسی اختیار نہ کرکے صرف اپنے رب کریم کی عنایت کردہ حلال روزی پر قناعت کی اور حق بات کہنے میں کسی سے کبھی مرعوب نہ ہوئے ،