الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :418

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری تو پائے اور خواب یاد نہ ہو فرمایا غسل کرے اور اس کے بارے میں پوچھا گیا جو خیال کرے کہ اسے احتلام ہوا ہے اور تری نہ پائے فرمایا اس پر غسل نہیں ۱؎ ام سلیم نے عرض کیا کہ کیا عورت پر بھی غسل ہے جو یہ دیکھے فرمایا ہاں عورتیں مردوں کی مثل ہیں۲؎ اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ا وردارمی اور ابن ماجہ نے “لَاغُسْلَ عَلَیْہ” تک روایت کی۔

شرح

۱؎ کیونکہ احتلام میں منی کا نکلنا غسل واجب کرتا ہے خواب یاد ہو نہ ہو۔تری مطلق غسل واجب کردے گی اگرچہ مذی ہو کیونکہ کبھی پتلی منی مذی ہی محسوس ہوتی ہے،یہی ہمارا مذہب ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے۔

۲؎ یعنی اکثر احکام عورتوں مردوں کے یکساں ہیں اسی لئے قرآن و حدیث میں مذکر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں اور عورتیں اس میں داخل ہوتی ہیں۔شقائق جمع شقیقہ کی ہےبمعنی ٹکڑا و حصہ،اسی لئے بھائی کو شقیق کہا جاتا ہے۔حضرت حو ا آدم علیہ السلام کا جزو بدن تھیں لہذا عورتیں مردوں کا حصہ ہیں۔