أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰهِ وَاعۡتَصَمُوۡا بِهٖ فَسَيُدۡخِلُهُمۡ فِىۡ رَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَفَضۡلٍۙ وَّيَهۡدِيۡهِمۡ اِلَيۡهِ صِرَاطًا مُّسۡتَقِيۡمًا ۞

ترجمہ:

سو جو لوگ اللہ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے اس (کے دامن رحمت) کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف پہنچانے والا سیدھا راستہ دکھائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو لوگ اللہ پر ایمان لے آئے اور انہوں نے اس (کے دامن رحمت) کو مضبوطی سے پکڑ لیا تو اللہ ان کو عنقریب اپنی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا اور انہیں اپنی طرف پہنچانے والا سیدھا راستہ دکھائے گا۔ (النساء : ١٧٥) 

جب اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا والوں پر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رسول ہونا اور قرآن مجید کا کتاب الہی ہونا ثابت کردیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ آپ کی شریعت کو مضبوطی سے پکڑ لیں ‘ اور ان سے آخرت میں اجروثواب کا وعدہ فرمایا ‘ اللہ پر ایمان لانے کا معنی ہے کہ اللہ کی ذات ‘ صفات ‘ اس کے اسماء اس کے احکام اور اس کے افعال پر ایمان لایا جائے ‘ اور اللہ کے دامن رحمت کو مضبوطی سے پکڑنے کا معنی یہ ہے کہ اللہ ان کو اپنی طرف پہنچانے والا سیدھا راستہ بتائے گا ‘ اس آیت میں ان سے تین وعدے کیے ہیں رحمت ‘ فضل اور ہدایت کے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا رحمت سے مراد جنت ہے ‘ اور فضل سے مراد جنت کی وہ نعمتیں ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا ‘ اور صراط مستقیم کی ہدایت سے مراد ہے دین مستقیم کی ہدایت ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت سے مراد ہو اللہ عزوجل کی ذات کا دیدار اور عالم قدس کے انوار ‘ یعنی پہلی دو نعمتیں جسمانی لذتوں پر مشتمل ہیں اور آخری نعمت روحانی لذت کے حصول کا نام ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 175