میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں

حدیث نمبر :421

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو جنابت میں ایک بال کی جگہ چھوڑ دے جسے نہ دھوئے تو اسے آگ میں ایسا ایسا عذاب کیا جائے گا ۱؎ حضرت علی فرماتے ہیں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں اسی لیئے میں اپنے بالوں کا دشمن ہوں تین بار۲؎ اسے ابوداؤد،دارمی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے مکرر نہ کیا اسی لیئے دشمن ہوگیا میں اپنے سر کا۔

شرح

۱؎ یعنی عذاب پر عذاب ہوگا ایک تو ناپاک رہنے کا دوسرے تمام نمازیں برباد کرنے کا لہذا غسل میں بڑی احتیاط چاہیئے۔ناف،بغل،کان کی لو،ان میں بہت خیال سے پانی پہنچائے کہ یہاں اکثر بغیر توجہ پانی نہیں پہنچتا۔

۲؎ یعنی زلفیں یاپٹے نہیں رکھواتا،ہمیشہ بال کٹواتا،منڈاتا رہتا ہوں۔خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورتمام صحابہ رضی اللہ عنھم نے سواء حج کے اور کبھی سر نہ منڈوایا،اس حدیث سے علی مرتضی کا ہمیشہ سر منڈانا ثابت نہیں ہوسکتا کہ آپ بال کٹواتے ہوں،اگر منڈواتے بھی ہوں تو منڈوانے کا جواز ثابت ہوگا،نہ کہ اس کی سنّیت،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ سرمنڈوانا وہابیوں نجدیوں کی علامت قرار دیا،لہذا ہمیشہ ہی اورخصوصًا اس زمانہ میں سنی مسلمان سرمنڈانے کی عادت سے بچیں۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.