کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 2 رکوع 16 سورہ البقرہ آیت نمبر243 تا 248

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ۪- فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا۫- ثُمَّ اَحْیَاهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ(۲۴۳)

اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے تو اللہ نے ان سے فرمایا مرجاؤ پھر انہیں زندہ فرمادیابےشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں (ف۴۹۰)

(ف490)

بنی اسرائیل کی ایک جماعت تھی جس کے بلاد میں طاعون ہوا تو وہ موت کے ڈر سے اپنی بستیاں چھوڑ بھاگے اور جنگل میں جا پڑے بحکم الہی سب وہیں مر گئے کچھ عرصہ کے بعد حضرت حزقیل علیہ السلام کی دعا سے انہیں اللہ تعالٰی نے زندہ فرمایا اور وہ مدتوں زندہ رہے اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی موت کے ڈر سے بھاگ کر جان نہیں بچاسکتا تو بھاگنا بے کار ہے جو موت مقدر ہے وہ ضرور پہنچے گی بندے کو چاہئے کہ رضائے الٰہی پر راضی رہے مجاہدین کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جہاد سے بیٹھ رہنا موت کو دفع نہیں کرسکتا لہذا دل مضبوط رکھنا چاہئے ۔

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۴۴)

اور لڑو اللہ کی راہ میں (ف۴۹۱) اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتاہے

(ف491)

اور موت سے نہ بھاگو جیسا بنی اسرائیل بھاگے تھے کیونکہ موت سے بھاگنا کام نہیں آتا۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةًؕ-وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ۪-وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۴۵)

ہے کوئی جو اللہ کو قرضِ حسن دے (ف۴۹۲) تو اللہ اس کے لیے بہت گنابڑھادے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے (ف۴۹۳) اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا

(ف492)

یعنی راہ خدا میں اخلاص کے ساتھ خرچ کرے راہِ خدا میں خرچ کرنے کو قرض سے تعبیر فرمایایہ کمال لطف وکرم ہے بندہ اس کابنایا ہوا اور بندے کامال اس کاعطا فرمایا ہوا حقیقی مالک وہ اور بندہ اس کی عطاسے مجازی ملک رکھتا ہے مگر قرض سے تعبیر فرمانے میں یہ دل نشین کرنامنظور ہےکہ جس طرح قرض دینے والا اطمینان رکھتا ہے کہ اس کامال ضائع نہیں ہواوہ اس کی واپسی کامستحق ہے ایسا ہی راہِ خدا میں خرچ کرنے والے کو اطمینان رکھنا چاہئے کہ وہ اس انفاق کی جزا بالیقین پائے گا اور بہت زیادہ پائے گا۔

(ف493)

جس کے لئے چاہے روزی تنگ کرے جس کے لئے چاہے وسیع فرمائے تنگی و فراخی اس کے قبضہ میں ہے اور وہ اپنی راہ میں خرچ کرنے والے سے وسعت کاوعدہ کرتاہے۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰىۘ-اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْاؕ-قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآىٕنَاؕ-فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ(۲۴۶)

اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا (ف۴۹۴) جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کردو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کروبولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے (ف۴۹۵) تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے (ف۴۹۶) اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو

(ف494)

حضرت موسٰی علیہ السلام کے بعد جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور انہوں نے عہد ِالٰہی کو فراموش کیابت پرستی میں مبتلا ہوئے سرکشی اور بد افعالی انتہا کو پہنچی ان پر قوم جالوت مسلّط ہوئی جس کو عمالقہ کہتے ہیں کیونکہ جالوت عملیق بن عاد کی اولاد سے ایک نہایت جابر بادشاہ تھا اس کی قوم کے لوگ مصرو فلسطین کے درمیان بحر روم کے ساحل پر رہتے تھے انہوں نے بنی اسرائیل کے شہر چھین لئے آدمی گرفتار کئے طرح طرح کی سختیاں کیں اس زمانہ میں کوئی نبی قوم بنی اسرائیل میں موجود نہ تھے خاندانِ نبوت سے صرف ایک بی بی باقی رہی تھیں جو حاملہ تھیں ان کے فرزند تولد ہوئے ان کا نام اشمویل رکھا جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں علم توریت حاصل کرنے کےلئے بیت المقدس میں ایک کبیر السن عالم کے سپرد کیا وہ آپ کے ساتھ کمال شفقت کرتے اور آ پ کو فرزند کہتے جب آپ سن بلوغ کو پہنچے تو ایک شب آپ اس عالم کے قریب آرام فرمارہے تھے کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اسی عالم کی آواز میں یا اشمویل کہہ کر پکارا آپ عالم کے پاس گئے اور فرمایا کہ آپ نے مجھے پکارا ہے عالم نے بایں خیال کہ انکار کرنے سے کہیں آپ ڈر نہ جائیں یہ کہہ دیا کہ فرزند تم سوجاؤ پھر دوبارہ حضرت جبریل علیہ السلام نے اسی طرح پکارااور حضرت اشمویل علیہ السلام عالم کے پاس گئے عالم نے کہا کہ اے فرزند اب اگر میں تمہیں پھر پکاروں تو تم جواب نہ دینا تیسری مرتبہ میں حضرت جبریل علیہ السلام ظاہر ہوگئے اور انہوں نے بشارت دی کہ اللہ تعالی نے آپ کو نبوت کامنصب عطا فرمایا آپ اپنی قوم کی طرف جائیے اور اپنے رب کے احکام پہنچائیے جب آپ قوم کی طرف تشریف لائے انہوں نے تکذیب کی اور کہاکہ آپ اتنی جلدی نبی بن گئے اچھااگر آپ نبی ہیں تو ہمارے لئے ایک بادشاہ قائم کیجئے۔(خازن وغیرہ)

(ف495)

کہ قوم جالوت نے ہماری قوم کے لوگوں کو ان کے وطن سے نکالا ان کی اولاد کو قتل و غارت کیاچار سو چالیس شاہی خاندان کے فرزندوں کو گرفتار کیاجب حالت یہاں تک پہنچ چکی تو اب ہمیں جہاد سے کیاچیز مانع ہوسکتی ہے تب نبی اللہ کی دعاسے اللہ تعالٰی نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر کیا اور جہاد فرض فرمایا (خازن)

(ف496)

جن کی تعداد اہل بدر کے برابر تین سو تیرہ تھی۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًاؕ-قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِؕ-قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِؕ-وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۴۷)

اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا بےشک اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے (ف۴۹۷) بولے اسے ہم پر بادشاہی کیوں کر ہوگی (ف۴۹۸) اور ہم اس سے زیادہ سلطنت کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی وسعت نہیں دی گئی (ف۴۹۹) فرمایا اسے اللہ نے تم پر چن لیا (ف۵۰۰) اور اسے علم اور جسم میں کشادگی زیادہ دی (ف۵۰۱) اور اللہ اپنا ملک جسے چاہے دے (ف۵۰۲) اور اللہ وسعت والا علم والا ہے (ف۵۰۳)

(ف497)

طالوت بنیامین بن حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد سے ہیں آپ کا نام طول قامت کی وجہ سے طالوت ہے حضرت اشمویل علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے ایک عصا ملا تھا اور بتایا گیا تھا کہ جو شخص تمہاری قوم کا بادشاہ ہوگا اس کاقد اس عصا کے برابر ہو گا۔ آپ نے اس عصا سے طالوت کا قد ناپ کر فرمایا کہ میں تم کو بحکم الٰہی بنی اسرائیل کابادشاہ مقرر کرتا ہوں اور بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا کر بھیجا ہے( خازن و جمل)

(ف498)

بنی اسرائیل کے سرداروں نے اپنے نبی حضرت اشمویل علیہ السلام سے کہا کہ نبوت تو لاوٰی بن یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں چلی آتی ہے اور سلطنت یہود بن یعقوب کی اولاد میں اور طالوت ان دونوں خاندانوں میں سے نہیں ہیں تو بادشاہ کیسے ہوسکتے ہیں۔

(ف499)

وہ غریب شخص ہیں بادشاہ کو صاحب مال ہونا چاہئے ۔

(ف500)

یعنی سلطنت ورثہ نہیں کہ کسی نسل و خاندان کے ساتھ خاص ہو یہ محض فضل الٰہی پر ہے اس میں شیعہ کارد ہے جن کا اعتقاد یہ ہے کہ امامت وراثت ہے۔

(ف501)

یعنی نسل و دولت پر سلطنت کا استحقاق نہیں علم و قوت سلطنت کے لئے بڑے معین ہیں اور طالوت اس زمانہ میں تمام بنی اسرائیل سے زیادہ علم رکھتے تھے اور سب سے جسیم اور توانا تھے۔

(ف502)

اس میں وراثت کو کچھ دخل نہیں۔

(ف503)

جسے چاہے غنی کردے اور وسعت مال عطا فرمادے اس کے بعد بنی اسرائیل نے حضرت اشمویل علیہ السلام سے عرض کیا کہ اگر اللہ تعالٰی نے انہیں سلطنت کے لئے مقرر فرمایا ہے تو اس کی نشانی کیا ہے۔(خازن و مدارک)

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓىٕكَةُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠(۲۴۸)

اور ان سے ان کے نبی نے فرمایا اس کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت (ف۵۰۴) جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے بےشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لیے اگر ایمان رکھتے ہو

(ف504)

یہ تابوت شمشاد کی لکڑی کا ایک زر اندود صندوق تھا جس کا طول تین ہاتھ کا اور عرض دو ہاتھ کا تھا اس کو اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا اس میں تمام انبیاء علیہم السلام کی تصویریں تھیں ان کے مساکن و مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور حضور کی دولت سرائے اقدس کی تصویر ایک یاقوت سرخ میں تھی کہ حضور بحالت نماز قیام میں ہیں اور گرد آپ کے آپ کے اصحاب حضرت آدم علیہ السلام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام تک پہنچا آپ اس میں توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی ، چنانچہ اس تابوت میں الواح توریت کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسٰی علیہ السلام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون علیہ السلام کاعمامہ اور ان کی عصااور تھوڑا سا من جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا حضرت موسی علیہ السلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں متوارث ہوتا چلا آیا جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عمالقہ کو مسلط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے وہ طرح طرح کے امراض و مصائب میں مبتلا ہوئے ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ تابوت کی اہانت ان کی بربادی کا باعث ہے تو انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اس کو بنی اسرائل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے لئے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا بنی اسرائیل یہ دیکھ کر اس کی بادشاہی کے مقر ہوئے اور بے درنگ جہاد کے لئے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت پا کر انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار جوان منتخب کئے جن میں حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے( جلالین و جمل و خازن و مدارک وغیرہ) فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کا اعزاز و احترام لازم ہے ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی اور حاجتیں روا ہوتی ہیں اور تبرکات کی بے حرمتی گمراہوں کا طریقہ اور بربادی کا سبب ہے فائدہ تابوت میں انبیاء کی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں اللہ کی طرف سے آئی تھیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.