ہر بال کے نیچے ناپاکی ہے

حدیث نمبر :420

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بال کے نیچے ناپاکی ہے لہذابال دھوؤ اور کھال صاف کرو ۱؎ (ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور حارث ابن وجیہ راوی بوڑھے تھے اس مقام کے لائق نہیں۲؎

شرح

۱؎ اس حدیث سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ غسل میں جسم کے سارے بال بھگونا فرض ہیں اگر ایک بال بھی خشک رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔دوسرے یہ کہ اگر بدن پر خشک مٹی،گندھا ہوا آٹایاموم لگا رہ گیا جس کے نیچے پانی نہ پہنچا،تب بھی غسل نہ ہوگا لہذا اگر ناخنوں پر نیلی پالش لگی ہوئی ہے تو غسل درست نہیں،کیونکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے گا۔خیال رہے کہ گھنی داڑھی وضو میں مانع نہیں،کیونکہ اس میں بڑی مشقت ہے،وضو روزانہ کئی بار ہوتا ہے،غسل میں اس کے نیچے پانی پہنچاناچاہیئے۔(مرقاۃ)

۲؎ یعنی وجہ بڑھاپے کے انکا حافظہ کمزور ہوگیا تھا،اس لئے انکی روایت چنداں قوی نہیں۔لفظ شیخ عدالت کی تعریف اورحافظہ کی جرح کے لیے آتاہے یہاں جرح کے لئے ہے جیساکہ اگلی عبارت سے ظاہر۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.