*آہ سیدی شاہد،دنیا سے ہوئے رخصت*

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلی سوادِ اعظم دہلی

آج جیسے ہی یہ روح فرسا خبر ملی کہ سرزمین رامپور میں خلیفہ مفتی اعظم ہند قاضی شرع رامپور حضرت مفتی سید شاہد میاں صاحب قبلہ(شیخ الحدیث الجامعۃ الاسلامیہ رامپور)کا وصال پرملال ہوگیا ہے.

دل غم سے بیٹھ گیا. تصدیق حال کے سید صاحب کے فرزند نسبتی مفتی سید ذبیح اللہ بنگلوری کو فون ملایا, تو انہوں نے سسکتے لہجے میں بتایا کہ حضرت ایک محفل میلاد سے واپس لوٹے تھے. طبیعت ذرا سی ناساز ہوئی اور تبلیغ دین کے لئے ہمہ وقت پا بہ رکاب رہنے والی یہ عظیم شخصیت رب کی مہمان ہوگئی. انا للہ و انا الیہ راجعون.

حضرت کی اچانک رحلت نے علمی وفکری دنیا میں ایسا خلا پیدا کردیا ہے جس کو پر کرنا آسان نہیں ہے.

قبلہ سید صاحب جہاں علم وفضل کے شہ سوار تھے وہیں انتظامی صلاحیت اور فکر وتدبر کی خداداد دولت سے بھی مالامال تھے.جماعت میں ایسی مدبر ومنتظم شخصیات عنقا ہیں. ایسے میں حضرت کی وفات ملت اسلامیہ کے لئے بے حد تکلیف دہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے.

غم کی اس گھڑی میں فقیر نعیمی حضرت سید صاحب قبلہ کے اہل خانہ خصوصاً آپ کے فرزند سعید وعلمی جانشین مولانا سید فیضان صاحب زید علمہ کی بارگاہ میں تعزیت پیش کرتا ہے. اللہ تعالیٰ جملہ اہل خانہ کو صبر وقرار عطا فرمائے. اور ملت اسلامیہ کو ان کے امثال عطا فرمائے.

فقیر نعیمی کے حضرت سید صاحب قبلہ سے بڑے نیازمندانہ تعلقات ومراسم تھے. آپ کی خوش خلقی, مہمان نوازی اور لبوں پر قائم رہنے والی مسکراہٹ ابھی بھی نگاہوں کے سامنے موجود ہے.

حق قیادت کس طرح ادا کیا جاتا ہے دور حاضر میں اس کی بہترین مثال سید صاحب قبلہ کی ذات تھی. آپ نے تعلیمی, سیاسی اور جملہ انتظامی امور میں آگے بڑھ کر قوم کی قیادت کا فریضہ انجام دیا. مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ان کے جیسی شخصیت کا ہونا ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے. جو درس گاہ سے لیکر آئینی اداروں تک پر اپنا دبدبہ رکھتی ہو.

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور جماعت اہل سنت کو ان کے جیسے قائدین عطا فرمائے.

شریک غم

غلام مصطفےٰ نعیمی

21 رجب المرجب 1440ھ

29 مارچ 2019ء بروز جمعہ