لادینیت کے ساتھ اعتراض:

میراث میں عورت کا حصہ نصف ہے مرد کے مقابلے میں پر بات کرتے ہوئے اسکو ضرور بیان کیا جائے کہ میراث میں چار حالتیں ہیں:

پہلی حالت:

مرد و عورت کا حصہ برابر ہے

دوسری حالت:

مرد و عورت کے حصے میں تنصیف ہے یعنی عورت کا مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ ہے.

تیسری حالت:

عورت کا مرد کے مقابلے میں زیادہ حصہ ہے.

چوتھی حالت:

بعض صورتوں میں صرف عورت کا حصہ ہوتا ہے مرد کو کچھ نہیں ملتا۔

لہذا ہر حالت میں اسلامی میراث میں عورت کا مرد کے مقابلے میں نصف حصہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف بعض صورتوں میں ہے۔

جس میں تفصیل گفتگو پھر کبھی کی جائے گی۔

ابن طفیل الأزہری ( محمد علی )۔

سؤال:

آپ نے میراث میں عورت کے نصیب کی جو چار حالتیں بیان کی تھیں أس پہ إیک ایک مثال ذکر کردیں؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

ہمارے ہاں یہ بات غلط معروف ہے کہ میراث میں عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں آدھا ہوتا ہے یعنی مرد کے دو حصوں کے مقابلے میں عورت کو إیک حصہ ملے گا ،

حالانکہ إسلام کا نظام میراث عدل و إنصاف و فطرت کے قوانین کے عین مطابق ہے ،

یہی وجہ ہے کہ إسلامی نظام میراث میں عورت کے نصیب کی چار حالتیں ہیں:

پہلی حالت:

عورت و مرد کا نصیب ( حصہ) برابر ہوتا ہے،

إسکی کئ مثالیں ہیں جن میں سے ہم درج ذیل میں صرف دو مثالیں بیان کرتے ہیں:

مثال نمبر 1 :

فوت ہوجانے والا شخص أپنی فیملی میں بیٹی أور والد کو چھوڑ گیا ہے ،

أب إس صورت میں غور کریں تو بیٹی کو نصف ( آدھا مال) ملے گا ، أور والد کو بھی آدھا مال ملے گا کیونکہ والد کا نصیب سدس مع الباقی بنتا ہے،

لہذا إس صورت میں مرد و عورت کا حصہ برابر ہے.

دوسری مثال:

إسی طرح أگر فیملی میں بیٹی ہو أور پوتا ( ابن ابن) ہو تو بیٹی کو بھی آدھا مال ملے گا ، أور پوتے کو بھی آدھا مال لہذا مرد و عورت کا نصیب و حصہ برابر برابر ہے.

دوسری حالت:

عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں آدھا ہوتا ہے ،

میراث میں إسکی پانچ صورتیں ہیں :

پہلی صورت:

فوت ہونے والا شخص بیٹا اور بیٹی چھوڑ گیا ہے تو إس صورت میں ( للذكر مثل حظ الأنثيين ) کے تحت بیٹے کو دو حصے أور بیٹی کو إیک حصہ ملے گا .

دوسری صورت:

صرف پوتا و پوتری ہو .

تیسری صورت:

صرف سگی بہن و بھائی چھوڑ گیا ہو.

چوتھی صورت:

باپ کی طرف سے سوتیلی بہن و بھائی ہو.

پانچویں صورت:

یہ وہ صورت ہے کہ أگر مرد کی جگہ عورت ہو تو نصف ملے گا

مثلا بیوی فوت ہوئی تو خاوند کو نصف ملے گا بشرطیکہ أسکی أولاد نہ ہو ، أور أگر أولاد ہوئی تو ربع یعنی مال کا چوتھائی حصہ ملے گا ،

أب أگر خاوند کی جگہ عورت زندہ ہو تو أسکو ربع یا ثمن ملے گا.

تیسری حالت:

عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے ،

إسکی کئ صورتیں ہیں ، ہم بطور وضاحت دو مثالیں پیش کرتے ہیں:

مثال نمبر1:

بیٹی ، شوہر و والد زندہ ہے تو إس صورت میں بیٹی کو آدھا مال ملے گا ، باپ کو سدس مع الباقی أور شوہر کو ربع ملے گا،

إس مثال پہ غور کریں تو عورت کو آدھا مال مل رہا ہے أور باقی آدھا مال دو مردوں میں تقسیم ہورہا ہے ،

لہذا یہ بات أظہر من الشمس ہے کہ عورت کا زیادہ حصہ بن رہا ہے.

مثال نمبر 2 :

شوہر و بیٹی ہے ، بیٹی کو نصف أور شوہر کو ربع ملے گا ، أورپھر جو بچ جائے گا وہ بھی بیٹی کو ملے گا ردا.

مرد کو صرف چوتھا حصہ مل رہا ہے أور بقیہ سارا مال عورت کو ملے گا.

چوتھی حالت:

صرف عورت کو مال میں سے حصہ ملتا ہے مرد کو کچھ بھی نہیں ملے گا ،

إسکی بھی بہت سی عورتیں ہیں ، بطور مثال دو درج ذیل ہیں:

مثال نمبر1:

بیٹی ہے أور ماں کی طرف سے سوتیلا بھائی ہے تو إس صورت میں صرف بیٹی وارث ہوگی بھائی نہیں۔

لہذا عورت کو حصہ مل رہا ہے أور مرد کو نہیں.

مثال نمبر 2 :

سگی بیٹی ہے ، سگی بہن ہے ، أور بھتیجا ہے

إس صورت میں بھتیجے کو کچھ نہیں ملے گا یعنی مرد کو کچھ نہیں مل رہا.

لہذا إس ساری بحث کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مال میں سے عورت کو حصہ ملنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں ، أور مرد کو کم،

أور جس حالت میں عورت کو مرد کے مقابلے میں آدھا حصہ ملتا ہے وہ بھی صرف کفالت کی وجہ سے ہے کیونکہ مرد کفیل ہوتا ہے فیملی کا تو أسے أسی قدر پیسوں کی بھی زیادہ ضرورت پڑتی ہے۔

لہذا إسلام کا نظام میراث قانون عدل و إنصاف و فطرت أور عقل کے عین موافق ہے.

واللہ أعلم